03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیروجہ کے امام صاحب کو معزول کرنا اور دیگرسوالات
89772نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

 (1)  ایس ٹی09 دیوا اکیڈمی ٹرسٹ بلاک 3 گلشن اقبال کراچی جو گونگے، بہرے اور عام بچوں کا اسکول،کالج  اورٹرسٹ پرمشتمل ادارہ ہے۔ جس میں درجنوں ملازمین  کام کرتے ہیں۔

 (2) طلبا سےفیسیں بھی وصول کی جاتیں ہیں، اندرون بیرون ممالک کے مخیر حضرات سےاورگورنمنٹ سےفنڈز بھی وصول کئے جاتے ہیں اورلوگوں سے زکوہ بھی وصول کی جاتی ہے، تمام رقبہ گورنمنٹ پاکستان سےٹرسٹ کے نام پرلیاگیا ہے  ۔

3) ٹرسٹ کےسربراہ  نے 1996میں مندرجہ بالا اسکول کالج ٹرسٹ کی مسجد میں حافظ محمد اقبال رحیمی ولد احمد یار کو بحیثیت پیش امام مقرر  کیا، کچھ ماہ بعد 1997 میں اپائنٹمنٹ لیٹر جاری کیا گیا،امام صاحب  کی  تنخواہ  مکان کا کرایہ  بجلی، گیس،بلز میڈیکل سمیت 15000مقرر ہوئی تھی،  مہینہ ختم ہونے پراسکول ٹرسٹ کےسربراہ نےامام صاحب کو صرف 2000 ادا کئے اور فرمانے لگے کہ تھوڑا انتظار کرلیں، مزید رقم ادا کردیں گے، ابھی حالات خراب ہیں،  مشکلات کا سامناہے  وسائل  کی کمی ہے،آگے چل کر حالات ٹھیک ہوتے ہی  تمام  بقایاجات ادا کردیں گے، یہ سلسلہ چلتا رہا،  امام صاحب نے بھی ان کی مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ زور نہیں دیا، بلکہ  ساتھ نبھاتےرہے۔

 (4) امام صاحب ایک بڑے مدرسہ میں شعبہ حفظ میں مدرس تھے۔ان کے ذرائع آمدنی مدرسہ  سےبھی تھے اور فارغ وقت میں امام صاحب  چھوٹے چھوٹے  کام بھی کرتےرہتے  تھے، وہاں سے بھی ذرائع آمدنی تھی۔ 

 (5) اسکول، کالج،  ٹرسٹ اور مسجد کےسربراہ  نے امام صاحب کوکچھ سال 2000 پھر کچھ سال 3000پھر  5000ہزار گزشتہ13/12 سالوں سے  7000 ہزار یعنی 27سالوں میں صرف 7000ہزار تک تنخواہ اداکی گئی،  رہائش، بجلی،گیس،میڈیکل  سمیت دیگر کوئی سہولت اورکوئی مراعات نہیں دی گئیں۔

 (نوٹ) امام صاحب وقتاً فوقتاً بقایاجات کی یادہانی بھی کرواتے رہتےتھے، مگر اسکول کالج ٹرسٹ کے سربراہ نےہمیشہ اور کئی مرتبہ  مسجد میں کھڑے ہو کر  ٹرسٹ کے پاس فنڈز نہیں ہیں، ذرائع آمدنی کی کمی اور پریشانیوں کا اظہار اور ٹال مٹول سےکام لیتے رہتے تھے  اور یقین دلانے کے لیے  امام صاحب سےہی وقتاً فوقتا ًقرض لیتے رہے ،جوبعد ازاں قسطوں میں واپس کرتے رہتے تھے اور کئی مرتبہ تو تمام ملازمین کو کئی کئی ماہ تنخواہ بھی نہیں ملتی تھیں اور یہی حالت امام صاحب کے ساتھ کام کرنے والے مؤذن حضرات کے ساتھ رہے  آخری مؤذن جو چھوڑ کر گیا ہے اس کی تنخواہ بھی صرف 7000 ہزار تھی، مکان سمیت دیگر کوئی سہولت اور مراعات نہیں دی گئیں۔

(6)   اس دوران امام صاحب مدرسہ چھوڑ کر پراپرٹی اورتعمیرات کے شعبہ سےوابستہ ہوگئے، پراپرٹی تعمیرات دیگر کسی بھی کاروبار میں اپنی مدد آپ کے تحت امام صاحب  کوشاں رہے ،اس میں اسکول کالج ٹرسٹ دیگر محلے دار نمازیوں کاکسی قسم کاکوئی تعلق نہیں تھا۔نہ ہی امام صاحب نے کسی بھی طریقہ سے اور کسی بھی طرح سے نہ تو کبھی کسی سے مالی فائدہ اٹھایا اورنہ ہی کوئی ایسا کام کیا، جس سے منصبِ امامت کے کردار کی عظمت پر کوئی آنچ آتی ہو ،خودارادیت سےاپنا وقت گذارا اور ساتھ ساتھ مسجد اللہ تعالی کےگھرکےساتھ بھی بھرپور  وفا کی استقامت کے ساتھ اللہ تعالی کے گھر مسجد کے ساتھ جڑے رہے۔

(7) امام صاحب کی مسجد میں حاضری شروع سے لےکر آخر تک 95فیصد رہی ہے۔

(8) 25 سال کے طویل عرصہ بعد   حافظ  محمد اقبال رحیمی  امام مسجد دیوااکیڈمی  نےسربراہ ادارہ ٹرسٹ کے دفتر میں رکھے ہوئےتنخواہوں کے لاکھوں روپے کی مالیت کے  چیکس اور واوچرز دیکھ لیے جو سربراہ ادارہ اور اس کے بیٹوں اور دیگر فیملی کے تھے  جو اسی ادارہ دیوااکیڈمی ٹرسٹ  میں ملازم ہیں۔

(نوٹ)   سربراہ ادارہ سمیت ان کی فیملی تقریباً 22 افراد پر مشتمل ہے،جس میں ان کے بیٹے،  بیٹی اور ان کے بچوں سمیت پوری فیملی کےلئے  بجلی گیس پانی اور دیگر تمام سہولیات ومراعات فری میں ہیں۔

 (9)  امام صاحب نےمنصبِ امامت کی تضحیک اور حقوق العباد میں حق تلفی پر مؤدبانہ اورمہذب طریقے سے ادارہ اورٹرسٹ کےسربراہ سے احتجاج بھی کیا اوربقایاجات کی ادائیگی کامطالبہ بھی کردیا،  ادارے کے سربراہ  نے فوری طورپر  7000 تنخواہ   سےبڑھا کر 15000 کردی اور بقایاجات ادا کرنے کاوعدہ بھی کرلیا  اور ساتھ ہی ساتھ انتشار کے خوف سے امام صاحب  سے وعدہ بھی لےلیا کہ لوگوں  کے سامنے ذکر نہیں کرنا ، کچھ ماہ بعد اسکول کالج ٹرسٹ کے سربراہ کاانتقال ہوگیا اور اس کےبڑے بیٹے کوگھرکے لوگوں نے صدر منتخب کردیا، بعدازاں سربراہ کےبیٹوں نے  امام صاحب کو تنگ کرنا شروع کردیا،  بعدازاں  بغیر کسی نوٹس  اوربغیر  شرعی عذر کے غیر اخلاقی اورغیر قانونی طریقہ سے منصب امامت سےہٹاکر دوسرا امام مقرر کر دیا۔

 (10) امام صاحب نےبقایاجات  کےلئے ہرسال کی متوقع بڑھوتری اضافہ کےساتھ حساب کا مطالبہ کیا،لیکن ادارے کے سربراہ کے بیٹے نے  دینے سے انکار کر دیا۔

 (11)   امام صاحب کے پاس تحریری معاہدہ اپائنٹمنٹ لیٹر کی شکل میں اور28سالہ کارکردگی ایکسپیرینس کالیٹر بھی  موجود ہے۔

 (12) 28 سال طویل عرصہ میں صرف 7000ہزارتنخواہ  جھوٹ، غیر منصفانہ بددیانتی اورمجرمانہ عمل ثبوتوں کے ساتھ  بالکل واضح ہے۔

 (13)   امام صاحب نے منصب امامت کےکردار کی عظمت کےخلاف کبھی بھی کوئی کام نہیں، کیا  سربراہ ادارہ  اور ان کی دیگر فیملی سمیت  کبھی بھی کسی سےامام صاحب نے کوئی اختلاف نہیں  کیا۔

مذکورہ بالا امور کی روشنی میں حضرات مفتیان کرام سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

 (1)  امام صاحب کے اٹھائیس سال کے بقایاجات کے سلسلہ میں شرعی فتوی کیاہے؟

(2) غیر شرعی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقہ سےامام صاحب کی  جبری معذولی کا کیا حکم ہے؟

(3) غیر شرعی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقہ سےامام صاحب کی  جبری معذولی پر اب پڑھی جانے والی نمازوں کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

  (4) نئے آنے والے امام صاحب کو تمام صورتِ حال کا علم ہےکہ 28 سالہ امام صاحب  کے ساتھ  غیرمنصفانہ سلوک اور  امام صاحب کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، حق امامت کے سلسلہ میں ان کے لیے  شرعی حکم کیا  ہے ؟ کیا ان کے لیے امامت پر برقرار رہنا درست ہے؟

  (5)اسکول کالج ٹرسٹ کے سربراہ کےگھر کےصرف 5لوگ ٹرسٹ میں ملازمین  ہیں،  ان پانچوں کی تنخواہیں، مراعات اور سہولیات اور دیگر  درجنوں ملازمین کی تنخواہوں اورٹرسٹ کے اخراجات کا اگرحساب کیاجائے توحساب  برابر بنتا ہے، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

(6) ٹرسٹ کےسربراہ مرحوم کی بالغ اولاد جو دوسری جگہ ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں وہ اپنے بیوی بچوں سمیت   ٹرسٹ کے مکانات میں رہائش پذیرہیں اور  بجلی، گیس اور پانی سکیورٹی  کی سہولیات فری میں  استعمال کررہےہیں، موجودہ  صدر بھی اسی میں شامل ہیں، کیا ان کے لیے یہ سہولیات لینا جائز ہے؟ 

(7)   مندرجہ بالا ٹرسٹ کےسربراہ جوٹرسٹ کےمکانات بجلی گیس پانی سکیورٹی فری میں  استعمال کرتے آرہے ہیں،جبکہ ٹرسٹ کے نام پر وصول کی جانے والی رقوم،  بچوں کی فیسیں،  اندرون وبیرون ممالک اور حکومت سے ملنےوالے فنڈزوغیرہ زکوہ پربھی مشتمل ہوتےہیں، حالانکہ یہ لوگ  مال داراور  صاحبِ ثروت ہیں، شرعی نقطہ نظر سے ان کےلئے کیا حکم ہے ؟ شکراجزا کم اللہ خیرا کثیرا

وضاحت: سائل نے فون پربتایا کہ شروع میں  امامت کی مدت متعین نہیں کی تھی، نیز معاملہ کرتے وقت تنخواہ میں سالانہ اضافے کا ذکر بھی نہیں کیا گیا تھا، البتہ ماہانہ تنخواہ طے کی گئی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِ تمہید درج ذیل امور جاننا ضروری ہیں:

نمبر1: امامت کے اجارہ کی مدت کی تصریح عربی اور اردو فتاوی میں تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی،البتہ چونکہ امامت دینی اعتبارسے بہت اعلی منصب ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین خود امامت کافريضہ سر انجام دیتے تھے اور امامت کا مقصد لوگوں کو صرف پانچ وقت کی نماز پڑھانا نہیں ہوتا، بلکہ شرعی حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کرنا  اور ان کی خبر گیری کرنا  بھی مقصود ہوتا ہے،گویا کہ امام مسجد دینی امور میں ایک پیشوا اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے اس کو عام اجارہ پر قیاس کرنا مشکل ہے، لہذا اگر معاہدہ کے وقت امامت کی کوئی خاص مدت طے کی گئی ہوتو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا اور اگر کوئی خاص مدت طے نہ کی گئی ہواورمعاشرے میں بھی کوئی خاص مدت معروف نہ ہوتو  درج ذیل  قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ تاحیات شمار ہو گا،جس کو بغیر کسی معتبرشرعی وجہ کے فسخ کرنا درست نہ ہو گا، جس کی تفصیل یہ ہے:

  1. شافعیہ كے مشہور عالم سليمان بن عمر بن منصور (المتوفى: 1204ھ) نے شیخ نورالدین سندھی رحمہ اللہ کے حوالے سے امامتِ صغری کو امامتِ کبری کے وظائف میں سے نقل کیا ہے، اسی طرح عرب کے عالم احمد بن محمد بن حسن خلیل نے اپنی کتاب شرح زاد المستقنع میں لکھا ہے کہ حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامتِ صغری کا منصب سپرد کرنے میں امامتِ کبری کا منصب سنبھالنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں اپنی اہمیت اور عظمت کے پیشِ نظر ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں اور نماز کا امام خلیفہ ٴوقت کے قائم مقام ہوتا ہے،  لہذا  اس سے اشارہ ملتا ہے کہ امامتِ کبری کی طرح امامتِ صغری کا معاہدہ بھی وقت کی تحدید نہ ہونے کی صورت میں تاحیات رہے گا۔

حاشية الجمل على شرح المنهج (2/ 58) دار الفكر، بيروت:

وفي السندي على البخاري، قوله «مروا أبا بكر فليصل بالناس» استدل به أهل السنة على خلافة أبي بكر، ووجهه أن الإمامة في الصلاة التي هي الإمامة الصغرى كانت من وظائف الإمامة الكبرى فنصبه - صلى الله عليه وسلم - أبا بكر إماما في الصلاة في تلك الحالة من أقوى أمارات تفويض الإمامة الكبرى إليه.

شرح زاد المستقنع للخليل (2/ 58):

أن النبي - صلى الله عليه وسلم - أراد أن يشير إلى الخلافة فكأنه يشير بالإمامة الصغرى إلى الإمامة الكبرى لأن الذي يخلف النبي - صلى الله عليه وسلم - في ذلك الوقت بأمره ففيه إشارة إلى الخلافة الكبرى.

شرح زاد المستقنع للشنقيطي (84/ 7) :

والمعنى الثاني للإمام: الإمام الخاص، وهي التي يسميها العلماء الإمامة الصغرى، وهي إمامة الصلاة، ولا شك أن الإمام الراتب وإمام الحي ينزل منزلة الإمام العام.

  1. اردو فتاوی مثلا فتاوی دارالعلوم دیوبند، فتاوی محمودیہ، کفایت المفتی، فتاوی مفتی محمود اور فتاوی فریدیہ وغیرہ میں امامت کی مدت  کا ذکر کیےبغیر تصریح کی گئی ہے کہ امام کوکسی شرعی عذر کے بغیر معزول کرنا درست نہیں، اگرچہ اس کو امامت کرتے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہو، چنانچہ مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ ایک امام (جس کی امامت کو سات آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا) کو معزول کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

"صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی وجہ شرعی کراہت کی موجود ہو جب تو لوگوں کو اختیار ہے، بلکہ مناسب یہی ہے کہ اس کو علیحدہ کرکے دوسرا امام مقرر کرلیں اور اگر اختلاف کا باعث صرف نفسانیت ہے تو دوسرے لوگوں کے لیے ایسا کرنا ناجائز ہے۔ "(کفایت المفتی: ج:3ص:74)

اسی طرح حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ  ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

 "جس امام كو جماعت كے زياده اشخاص مقرر كريں وہی امام رہے گا، لأن الاعتبار للأكثر فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم پس جبکہ سابق امام پر تمام محلہ والے راضی ہیں تو وہی امام رہے گا، نیز بغیر کسی شرعی وجہ کے امام کو معزول کرنا درست نہیں۔"

 (فتاوی مفتی محمود: ج:2ص:216)

اور فتاوی فریدیہ میں مفتی فرید اللہ صاحب رحمہ اللہ نے آٹھ نو سال سے مقرر شدہ امام کو بغیر کسی شرعی وجہ کے معزول کرنے اور دوسرا امام مقرر کرنے کو امامتِ کبری پر قیاس کیا ہے، دیکھیے عبارت:

"بلاوجہ شرعی امام کو امامت سے معزول کرنا اگرچہ گناہ ہے، لیکن نافذ ہو گا، جبکہ اہلِ حل وعقد کی طرف سے ہو، نظیرہ عن الإمامة الكبرى بالتغلب من الاشباه النظائر۔"

  (فتاوی فریدیہ: ج:2،ص:350)

  1. عرب کے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنے ایک فتوی میں لکھا ہے کہ امام کو بیت المال کی طرف سے جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ امامت کا عوض اور اجرت نہیں، بلکہ دینی امور میں اعانت کی وجہ سے دیا جانے والا رزق ہے۔

رقم الفتوى: 441097 ، تاريخ النشر:الخميس 9 شوال 1442 ھ- 20-5-2021 م

السؤال:

هل يجوز لإمام المسجد أن يأخذ ما تصرفه الدولة له من راتب على الإمامة، مع أنه موظف في جهة أخرى، ولديه ما يكفيه؟

الإجاب:

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله، وصحبه، أما بعد:

فقد بينا في الفتوى: 120106 جواز أخذ راتبٍ على الإمامة من الدولة، وذكرنا أن ما

يؤخذ من بيت المال على الإمامة ليس عوضًا وأجرة، وإنما رزق؛ للإعانة على الطاعة.[1]

  1. امامت کے معاہدہ میں عام عرف یہی ہے کہ معاہدہ کے وقت کوئی خاص مدت طے نہیں کی جاتی، بلکہ آزمائشی مدت گزرنے کے بعد  جب ایک امام کو حتمی طور پر مقرر کر لیا جاتا ہے تو وہی مستقل امام سمجھا جاتا ہے اور مدت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے فریقین کے درمیان کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع بھی نہیں ہوتا، چنانچہ بعض اوقات ائمہ کرام چالیس چالیس تک ایک جگہ امامت کرنے کے بعد اسی مسجد کی ہی خدمت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اوراس طرح کی مثالیں کثیر ہیں۔

مذکورہ بالا تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

  1. امامت کا معاملہ کرتے وقت فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے جو وظیفہ طے کر لیا جائے اس کی پابندی ضروری ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے اس کی  خلاف ورزی کرنا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ اگر شروع میں آپ کا وظیفہ15000 روپے طے کیا گیا تھا تو اس صورت میں ٹرسٹ کے سربراہ کے ذمہ لازم تھا کہ وہ آپ کو ہر ماہ پندرہ ہزار روپیہ مکمل ادا کرتے، لیکن جب انہوں نے ادا کیے تو طے شدہ معاملے کے مطابق سابقہ تمام بقایاجات کی  رقم ادارے کے ذمہ بطورِ دین واجب ہے، جس کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے کا آپ شرعاً وقانوناً دونوں طرح حق رکھتے ہیں اور ادارے کی انتطامیہ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ یہ رقم فوراً آپ کو ادا کریں، ورنہ یہ لوگ سخت گناہ گار ہوں گے، جس کے نیتجے میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا، نیز سابقہ بقایاجات کی ادائیگی میں سالانہ اضافہ کو بھی مدِ نظر رکھا جائے، کیونکہ دیگر ملازمین کی طرح تنخواہ میں سالانہ اضافہ آپ کا شرعی حق تھا، جو بغیر کسی معتبرشرعی وجہ کے آپ کو ادا نہیں کیا گیا۔

  2. اگر امامت سے متعلق معاہدہ کے وقت اجارہ کی کوئی خاص مدت مقرر  کی تھی تو اسی کے مطابق حکم لگے گا، (کیونکہ اصولی اعتبار سے یہ اجارہ کا معاملہ ہے، جس میں مدت کا اعتبار ضروری ہے) اور مدت مکمل ہونے سے پہلے بغیر کسی شرعی وجہ کے امام صاحب کو امامت سےمعزول کرنا درست نہیں  اور اگر معاہدہ کے وقت کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی  تو ایسی صورت میں تمہید میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق لوگوں کے عرف اور تعامل کیوجہ سے امامتِ کبری پر قیاس کرتے ہوئے  یہ معاہدہ تاحیات سمجھا جائے گا اورتاحيات بغیر کسی شرعی وجہ کے اس کو فسخ کر کے امام صاحب کو معزول کرنا درست نہ ہو گا، چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ البحر الرائق سے نقل کیا ہے کہ بغیر کسی جرم اور بغیراہلیت ختم ہونے کے وقف سے وظیفہ پانے والے شخص کو معزول کرنا درست نہیں:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين(4/ 382) الناشر: دار الفكر-بيروت:

واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية.

اسی طرح اکابرکے فتاوی میں بھی تصریح گزرچکی ہے کہ بلاوجہ کسی شخص کو امامت کے عہدے سے معزول کرنا درست نہیں ہے،خصوصاً جبکہ امام صاحب کو امامت کرواتے ہوئے تقریباً اٹھائیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے، نیزوہ وجوہ جن کی وجہ سے امام کو معزول کیا جا سکتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

  • امام فسق یعنی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے لگے۔

ب: امامت کے فرائض میں کوتاہی اور سستی سے کام لے۔

ج: کسی عذر کی وجہ سے امامت کی اہلیت ختم ہو جائے، جیسے معذوری وغیرہ۔

د: وقف کے مال میں خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کرے۔

و: معاہدہ کے وقت طے کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔

لہذا اگر امام صاحب میں مذکورہ بالا وجوہ میں سے کوئی وجہ موجود نہیں تھی تو اس صورت میں ٹرسٹ کے سربراہ پر لازم ہے کہ وہ امام صاحب کو دوبارہ بحال کرے اور دیگر ملازمین کی طرح سالانہ اضافہ کے ساتھ اس کی تنخواہ مقرر کرے۔

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 245) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

قلت: يمكن خدمة المسجد بدون تقريره بأن يستأجر المتولي فراشا له والممنوع تقريره في وظيفة تكون حقا له ولذا صرح قاضي خان بأن للمتولي أن يستأجر خادما للمسجد بأجرة المثل واستفيد منه عدم صحة تقرير القاضي في بقية الوظائف بغير شرط الواقف كشهادة ومباشرة وطلب بالأولى وحرمة المرتبات بالأوقاف بالأولى واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بغير جنحة عدمها لصاحب وظيفة في وقف.

  1. امام کی تبدیلی سے نمازوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ نمازوں کی درستگی کا تعلق نماز کی شروط اور ارکان سے ہے، لہذا اگر نماز کی شروط اور ارکان درست ہوں تو نماز درست شمار ہوتی ہے اور آدمی کے ذمہ سے فرض  ساقط ہو جاتا ہے۔

  2. اگر دوسرے امام کے علم میں تھا کہ بغیر کسی شرعی وجہ کے پیش امام کو معزول کیا گیا ہے تو دیانتاً اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ امامت کے عہدہ کو قبول نہ کرتا اور اس بات کا علم ہونے کی صورت میں اب بھی اس کو چاہیے کہ امامت سے دستبردار ہو جائے اور ٹرسٹ کے سربراہان سے اس بات کا عذر پیش کرے کہ یہ عہدہ سابقہ امام  صاحب کا حق ہے جو اس مصلے پر اٹھائیس سال سے امامت کے فرائض انجام  دیتے رہے ہیں، لہذا انہی کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

  3. ٹرسٹ کا پیسہ مکمل طور پر ٹرسٹ کے سربراہ  کے ہاتھ میں امانت ہے، جس کو شریعت کے اصولوں کے مطابق استعمال کرنا ضروری تھا،  اس پیسہ کو غیر ضروری اخراجات اور بھاری بھرکم تنخواہوں میں صرف کرنا ہرگز جائز نہیں، اگر سربراہ سے یہ پیسہ اپنے تعلقات کی بناء پر خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے کسی جگہ استعمال کیا ہے تو وہ شرعاً اس کا ضامن اور ذمہ دار ہے، لہذا ٹرسٹ کے سربراہ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ دیانت داری کے ساتھ اس پیسےکو خرچ کرے اور اپنے رشتہ دار سمیت تمام ملازمین کی تنخواہیں مقرر کرنے میں باقاعدہ اصول وضوابط مقرر کرے اور ان اصول وضوابط کے طے کرنے میں معاشرے میں موجود دیگر ٹرسٹس کے حضرات سے بھی رابطہ کیا جائے، تاکہ  معاشرے میں رائج عرف کے مطابق اصول وضوابط مقرر کیے جا سکیں اور عوام کا پیسہ احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جا سکے۔

  4. جو افراد باقاعدہ ٹرسٹ کے ملازم ہیں، اجارہ کا معاہدہ کرتے وقت سہولیات اور مراعات کے حوالے سے ان کے ساتھ جو بات طے کی گئی تھی وہ اس کے حساب سے یہ مراعات لینے کے حق دار ہیں، لہذا اگر ان کے ساتھ بجلی اور گیس سمیت فیملی کی رہائش دینے کا معاہدہ کیا گیا تھا تو اس صورت میں وہ اپنےبیوی بچوں کی رہائش کے بھی حق دار ہوں گے، البتہ جو افراد ٹرسٹ کے باقاعدہ ملازم نہیں ہیں ان کے لیے ادارہ سے کسی قسم کی سہولت لینا جائز نہیں ہے، اگر کوئی ایسا فرد ٹرسٹ میں عوام یا حکومت کی طرف سے دیے گئے فنڈ سے کسی قسم کا نفع اٹھاتا ہے تو وہ شرعاً گناہ گار ہے اور اس کے ذمہ لازم ہے کہ اس نے ٹرسٹ کے مال سے جتنا نفع اٹھایا ہےاتنی رقم ٹرسٹ کو واپس کرے، ورنہ آخرت میں اس کا حساب دینا ہو گا، جس کی پاداش میں آخرت میں عذاب بھی ہو سکتا ہے۔

  5. ٹرسٹ سےسہولیات ومراعات لینےکاجواب سوال نمبر5کے جواب میں گزر چکا ہے، باقی ملازمین کی تنخواہوں اور سہولیات وغیرہ میں زکوة اور صدقات استعمال کرنے کا حکم یہ ہے کہ عطیات اور نفلی صدقات کو ان میں استعمال کرنا جائز ہے، جہاں تک زکوة اور صدقاتِ واجبہ تنخواہوں وغیرہ میں دینے کا تعلق ہے تو  زکوة وغیرہ کی ادائیگی کےلیے چونکہ فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے اس لیے اگر ادارے کے سربراہ نے مستحقین سے وکالت نامہ لے کریا کم سے کم زکوة کی رقوم کی تملیک کروا کر رقم خرچ کی ہے تو اس سے زکوة ادا ہو گئی، لیکن اگرمستحقِ زکوة افرادسے وکالت نامہ لینے یا شرعی تملیک کرائے بغیر تنخواہوں وغیرہ میں اگر یہ رقم استعمال کی گئی ہے تو  اس صورت میں  زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہیں ہوئی،  جس کی ادائیگی ٹرسٹ کے سربراہ کے ذمہ لازم ہے، لہذا ٹرسٹ کے سربراہ کو زکوة اور صدقاتِ واجبہ کی رقوم میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

تنبیہ: 

 واضح رہے کہ وقف کی طرح ٹرسٹ کی تولیت کے لیے بھی شرعی اعتبار سے کچھ شرائط بیان کی گئی ہیں، اس لیے ٹرسٹ کے متولی اور سربراہ میں ان شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، اگر اس میں وہ شرائط موجود نہ ہوں تو قاضی اور جج (موجودہ زمانے میں حکومت کی طرف سے اوقاف کی نگرانی نہ ہونے کے باعث جماعت المسلمین قاضی کے قائم مقام ہے، جماعت المسلمین سے علاقے کے امانتدار اہلِ حل وعقد افراد مراد ہیں، جن میں بعض علماء بھی شامل ہوں) اس کو معزول کرکے کسی امانتدار اور اہلیت رکھنے والے شخص کو متولی بنائے گا اور تولیت کے سلسلہ میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر متولی میں درج ذیل شرائط پائی جائیں تو اس  کو وقف کا انتظام سنبھالنے کا اختیار حاصل ہے، ورنہ نہیں، کیونکہ یہ دراصل عوام کی امانت ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری قاضی اور حاکمِ وقت کا فريضہ ہے:

  • گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا نہ ہو۔

۲: امانت داری کے ساتھ وقف کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہو۔

۳: وقف کے مال میں خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب  نہ کرے۔

۴: کسی وجہ سے وقف کے انتظام وانصرام کی اہلیت مفقود نہ ہو، جیسے جنون وغیرہ۔

۵: وقف ميں لگائی گئی شرائط کی پاسداری کرتا ہو۔(ماخوذ از اسلام كا نظامِ اوقاف بتصرف:ص:548تا556)


[1] /https://www.islamweb.net/ar/fatwa/441097

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 382) دار الفكر-بيروت:

[مطلب لا يصح عزل صاحب وظيفة بلا جنحة أو عدم أهلية] [تنبيه] قال في   البحر واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب  وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 89) الناشر: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 469) تلزم الأجرة باستيفاء المنفعة مثلا لو استأجر أحد دابة على أن يركبها إلى محل ثم ركبها ووصل إلى ذلك المحل يستحق آجرها الأجرة.

الفتاوى الهندية (2/ 408) دار الفكر،بیروت:

الصالح للنظر من لم يسأل الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه.

المغني (6/ 40) لابن قدامة المقدسي (المتوفى: 620هـ) مكتبة القاهرة:

 وإن ولاه الواقف وهو فاسق، أو ولاه وهو عدل وصار فاسقا، ضم إليه أمين ينحفظ به الوقف، ولم تزل يده؛ ولأنه أمكن الجمع بين الحقين. ويحتمل أن لا تصح توليته، وأنه ينعزل إذا فسق في أثناء ولايته؛ لأنها ولاية على حق غيره، فنافاها الفسق، كما لو ولاه الحاكم، وكما لو لم يمكن حفظ الوقف منه مع بقاء ولايته على حق غيره، فإنه متى لم يمكن حفظه منه أزيلت ولايته، فإن مراعاة حفظ الوقف أهم من إبقاء ولاية الفاسق عليه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 380) دار الفكر-بيروت:

القيم إذا لم يراع الوقف يعزله القاضي وفي خزانة المفتين إذا زرع القيم لنفسه يخرجه القاضي من يده.

دررالحکام شرح مجلة الاحکام لعلی حیدر(ج: 1/458):

المادة (425) الأجیر یستحق الأجرة إذا کان فی مدة الإجارة حاضراً للعمل الأجیر یستحق الأجرة إذا کان فی مدة الإجارة حاضراً للعمل ولا یشترط عملہ بالفعل ولکن لیس لہ ان یمتنع عن العمل وإذا امتنع لا یستحق الأجرة ۔ ومعنی کونہ حاضراً للعمل ان یسلم نفسہ للعمل ویکون قادراً وفي حال تمکنہ من إیفاء ذلک العمل.

الإسعاف فى أحكام الأوقاف (ص: 49) الناشر: طبع بمطبعة هندية بشارع المهدى بالأزبكية بمصر:

[باب الولاية على الوقف]

لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به ويستوي فيها الذكر والأنثى وكذلك الأعمى والبصير وكذلك المحدود في قذف إذا تاب لأنه أمين، رجل طلب التولية على الوقف قالوا لا تعطي له وهو كمن طلب القضاء لا يقلد.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 196) الناشر: دار المعرفة:

(الباب الثالث في أحكام النظار وأصحاب الوظائف من نصب وعزل وتوكيل وفراغ وإيجار وتعمير واستدانة وإقرار وقبض وصرف ونحو ذلك) .

(سئل) في الصالح للنظر من هو؟

(الجواب) : هو من لم يسأل الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف، هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو نائبه ويستوي في ذلك الذكر والأنثى .

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب