03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلوت صحیحہ کا بیان
89511نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر نکاح شدہ جوڑا (ابھی تک جماع نہیں ہوا) لڑکی کے گھر کے ہال/ڈرائنگ روم میں ملتا ہو۔ اس کمرے کے دو دروازے تھے جو صرف بند ہوتے تھے لیکن وہ لاک نہیں تھے۔ اس لیے اگرچہ دروازے بند رہتے تھے، مگر لاک نہ ہونے کی وجہ سے کسی کے بھی اندر آنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ وہ عموماً لڑکی کی والدہ (ساس) کی موجودگی میں ملتے تھے جب لڑکی کے والد باہر گئے ہوتے تھے، جو ایک مخصوص وقت کے لیے مہمان کمرے میں ملنے کی اجازت دیتی تھیں، لیکن انہیں ہمیشہ یہ خوف رہتا تھا کہ لڑکی کے بھائی یا والد کسی بھی وقت گھر آ جائیں، اس لیے وہ وقفے وقفے سے مہمان کمرے میں آ کر جوڑے کو متنبہ کرتی رہتی تھیں، وہ بھی بغیر اجازت یا تھوڑا سا دروازہ کھٹکاتے ہوئے۔ آسان الفاظ میں، ان کا کمرے میں آنے کا ہمیشہ ڈر رہتا تھا۔ کبھی کبھار اور بھی لوگ موجود ہوتے تو جو اندر آ سکتے تھے، مگر جتنا مجھے یاد ہے کہ کم از کم لڑکی کی والدہ ضرور ہوتی تھیں جو وقفے وقفے سے اندر آتی رہتی تھیں۔ اب براہِ کرم دو صورتوں کو الگ الگ دیکھیں: (i) گھر میں صرف لڑکی کی والدہ (ساس) موجود تھیں: جوڑا مہمان کمرے میں دروازے بند کر کے ملتا تھا، لیکن دروازوں میں تالے نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کی والدہ کے بغیر اجازت اندر آنے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ وہ کبھی دروازہ کھٹکھٹا کر یا آواز دے کر بغیر اجازت بھی کمرے میں داخل ہو جاتی تھیں۔ (ii) ایک مرتبہ اسی گھر میں لڑکی کی والدہ (ساس) اور لڑکے کی والدہ دونوں موجود تھیں۔ اس بار لڑکے کی والدہ نے جوڑے کو ملوانے کا انتظام کیا۔ جوڑا اسی مہمان کمرے میں تھا جیسا کہ اوپر کی صورت میں بیان کیا گیا۔ دروازے بند تو تھے مگر لاک نہ ہونے کی وجہ سے کسی کے بھی اندر آنے کا خدشہ موجود تھا۔ اس موقع پر لڑکے کی والدہ نے اجازت لے کر داخلہ کیا، حالانکہ وہ بغیر اجازت بھی آ سکتی تھیں۔ جوڑے کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کس طرح اندر آئیں گی، اسی لیے ڈر رہتا تھا کہ کوئی اندر نہ آ جائے۔ اس وقت گھر میں لڑکی کی والدہ (امی) بھی موجود تھیں، جو بغیر اجازت اندر آ سکتی تھیں۔ براہِ کرم بتائیں کہ یہ دونوں صورتیں خلوتِ صحیحہ کے حکم میں آتی ہیں یا نہیں؟ یہ بھی نوٹ کر لیں کہ جوڑا ہمیشہ اس خدشے میں رہتا تھا کہ کوئی بھی اندر آ جائے، جیسا کہ لڑکی کی والدہ آتی رہتی تھیں، اور دونوں ماؤں کو بھی یہ فکر رہتی تھی کہ لڑکی کے والد یا بھائی کسی بھی وقت گھر پہنچ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ کمرے کی نوعیت بھی ایسی تھی کہ وہ ایک ہال روم تھا اور فطری طور پر باہر سے کسی کے اندر آنے کا خدشہ رہتا تھا، کیونکہ دونوں ماؤں کو ڈر رہتا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے کہ ہم ملاقات کر رہے ہیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر منکوحہ جوڑا    ایسی جگہ تنہا جمع ہو جائے، جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا   تو شرعا اس تنہائی کو خلوت صحیحہ کہا جاتا ہے، لہذا ان پر مہر وغیرہ کے معاملے میں ازدواجی تعلق قائم کیے ہوئے جوڑے والے احکامات جاری ہوتے ہیں ۔

صورت مسئولہ میں دروازہ تو بند تھا،مگر لاک نہیں تھا،اور یہ خدشہ  ہر وقت موجود تھا کہ  کوئی بھی اندر آ سکتاہےلہذا یہ ایک طبعی مانع ہے، جس کی وجہ سے اس خلوت کو خلوت صحیحہ نہیں کہا جا سکتا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 114):

والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 162):

وقد شرط المصنف في إقامتها مقام الوطء شروطا ترجع إلى أربعة أشياء الخلوة الحقيقية وعدم مانع حسي وعدم مانع طبعي وعدم مانع شرعي من الوطء.

 فالأول للاحتراز عما إذا كان هناثالث فليست بخلوة ،سواء كان ذلك الثالث بصيرا أو أعمى أو يقظانا أو نائما بالغا أو صبيا يعقل وفصل في المبتغى في الأعمى فإن لم يقف على حاله تصح وإن كان أصم إن كان نهارا لا تصح وإن كان ليلا تصح اهـ

وللاحتراز عن مكان لا يصلح للخلوة والصالح لها أن يأمنا فيه اطلاع غيرهما عليهما كالدار والبيت ولو لم يكن له سقف، وكذا الخيمة في المفازة والمحل الذي عليه قبة مضروبةوكذا البستان الذي له باب وأغلق فلا تصح في المسجد والطريق الأعظم والحمام وسطح الدار من غير ساتر والبستان الذي ليس له باب وإن لم يكن هناك أحد واختلف في البيت إذا كان بابه مفتوحا أو طوابقه بحيث لو نظر إنسان رآهما ففي مجموع النوازل إن كان لا يدخل عليهما أحد إلا بإذن فهي خلوة واختار في الذخيرة أنه مانع وهو الظاهر۔

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 305):

والمكان الذي تصح فيه ‌الخلوة أن يكونا آمنين من اطلاع الغير عليهما بغير إذنهما كالدار والبيت كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان»

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 305):

‌لا ‌تصح ‌الخلوة إذا خافا هجوم الغير فإن أمنا صحت الخلوة،

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 116):

قوله وحمام) أي بابه مفتوح، أما لو كان مقفولا عليهما وحدهما فلا مانع من صحتها كما لا يخفى فافهم.

عادل ارشاد

دار الافتاء    جامعۃ الرشید کراچی

25/جمادی ا لاخری /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب