| 89510 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں سوئٹزرلینڈ میں رہتی ہوں، مجھےوہاں کی نیشنلٹی چاہیے ، کیونکہ پاکستان کی آب و ہوا سے میری طبیعت بگڑ رہی تھی نیز ادھر کے رسم و رواج اور دباؤ کی وجہ سے میں اپنی عبادات بھی نہیں کر پا رہی تھی تو مجھے ڈاکٹر (میری سائیکالوجسٹ) نے مجھے کسی دوسرے ملک جانے کا مشورہ دیا تھا ورنہ یہاں رہ کر انہوں نے بولا تھا کہ آپ پاگل ہو سکتی ہیں آپ اس ماحول میں سروائو نہیں کر پائیں گی اب سوال یہ ہے کہ وہاں میرے والد صاحب نے ایک پوش علاقے میں میرے لئے گھر لیا جو کہ ایک محفوظ سوسائٹی میں ہے، لیکن وہ اپنے کاروبار کی وجہ سے میرے ساتھ وہاں نہیں رہ سکتے، جس کی وجہ سے وہ مجھے وہاں چھوڑ کر واپس پاکستان آ جاتے ہیں، اور میں وہاں اکیلی اپنے گھر میں رہتی ہوں جو کہ سوسائٹی کے اندر ہی ہے اور بہت اچھا علاقہ ہے، الحمدللہ پردے کی پابندی بھی کرتی ہوں، وہاں تعلیم حاصل کر رہی ہوں، اور کبھی کبھار شام کو (عصر کے وقت) اپنی گاڑی میں کسی ریسٹورنٹ جا کر کافی پی لیتی ہوں یا کھانا کھا لیتی ہوں، اور ویسے یونیورسٹی اپنی گاڑی میں جاتی ہوں، الحمدللہ۔ نامحرم سے اختلاط صرف یونیورسٹی میں ہوتا ہے، وہ بھی پروفیسرز سے، کیونکہ وہ سارے مرد ہیں، لیکن وہ بھی تمییز کے دائرے میں رہ کر۔ تو مفتی صاحب!
1۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا ایسے وہاں اکیلے رہنا جائز ہے؟ کیا میرے والد صاحب کا مجھے یوں وہاں چھوڑ کر آ جانا جائز ہے؟
2 ۔عورت کا اکیلے سفر کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ مفتی صاحب، ایک دو بار والد صاحب کے نہ آنے کی وجہ سے مجھے اکیلے سفر کرنا پڑا تھا، لیکن وہ اس لیے تھا کیونکہ میرا ویزا ورنہ ریجیکٹ ہو جاتا جس کی وجہ سے کئی ایک مشکلات ہو سکتی تھیں، اور والد صاحب اس وقت مصروف تھے، وہ آ نہیں سکتے تھے، اور بھائی وغیرہ یہاں نہیں ہوتے، تو کیا یہ سب کام میں حرام کر رہی ہوں؟
3۔کیا کسی کا ساری زندگی نکاح نہ کرنا گناہ ہے؟ جب کہ اس کی کسی کے ساتھ بنتی نہ ہو، مطلب وہ کسی کی نہ سنتا یا سنتی ہو اور کسی کے ساتھ اس کا نباہ کرنا بہت مشکل ہو، لیکن اپنے نفس پر مامون ہو، تو ایسی صورت میں اگر کوئی نکاح نہ کرے تو کیا گناہگار ہوگا؟جب کہ اسے پتا ہو کہ وہ اپنے شوہر یا لڑکا ہو تو اپنی بیوی کے حقوق ادا نہیں کر پائیگا؟
4۔لڑکی کا نکاح کے وقت لڑکے کا مال و دولت ،حسن و جمال،اور دینداری اور اخلاق یہ چاروں چیزیں ایک لڑکے میں دیکھ کر نکاح کرنا اور باقی رشتوں کو اس وجہ کے نہ ہونے کی بنا پر ٹھکرانا جائز ہے ؟
5۔ایک اور سوال کا جواب دیں وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آپ طویل عرصے تک زندہ رہیں تو آپ دیکھیں گے کہ عورت حیرہ (عراق کے ایک شہر) سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے سفر کرےگی۔ اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی۔تو اس حدیث میں ایک تو پیشن گوئی ثابت ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں تو عورت کے محرم کے بغیر سفر کو ناجائز قرار نہیں دیا نہ ہی یہ بولا کہ وہ عورت گنہگار ہو گی بلکہ مثال بھی ایک مسلمان عورت کی دی تو کیا اس سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ اگر عورت کو فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور وہ اپنی حفاظت کر سکتی ہو تو ایسی صورت میں اسکا بغیر محرم کے سفر کرنا جائز ہے تو کیا یہ حرام ہے ؟کیونکہ مفتی صاحب میری فیملی میں زیادہ تر لوگ اسی بنا پر اپنی بیٹیوں کو اکیلے سفر کرنے دیتے ہیں اور الحمدللہ انہیں کچھ نہیں ہوتا لیکن میں گناہ نہیں کرنا چاہتی مفتی صاحب پر ورلڈ ٹور کرنا میرا جنون ہے میں کیا کروں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوالا ت کے جواب بالترتیب درج ذیل ہیں:
۱:۔ بیرون ملک معاشروں میں اکثر ایسے ماحول کا سامنا ہوتا ہے جہاں اسلامی اقدار اور شرم و حیا کو کم اہمیت دی جاتی ہے،لادینی نظریات کی ترویج والے تعلیمی ماحول میں دینی عقائد پر شکوک پیدا ہونے یا دین سے دوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اور ایسی سر زمین جہاں دین و ایمان محفوظ نہ ہو وہاں رہنامناسب نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:"أنا بري ء من کل مسلم یقیم بین أظھر المشرکین"میں ہر اس شخص سے بیزار ہوں جو مشرکین میں رہائش رکھے ہوئے ہے۔لیکن اگر انتہائی مجبوری ہو،حفاظت یقینی ہو ، اور وہاں شرعی احکام کی پابندی ہو تو گنجائش ہے
۲:۔ واضح رہے کہ عورت کے لیےمسافت ِ شرعی (77.2 کلومیٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر محرم کے بغیر جائز نہیں، کیونکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی عورت تین روز (یعنی شرعی مسافت) سے زیادہ سفر نہ کرےالا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا محرم ہو ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے" (آپ ﷺ کا یہ مبارک ارشاد سن کر) حاضرین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا " اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے"؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
جمہور فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرض حج کے لیے بھی محرم کے بغیر سفر کرنے کو نا جائز کہا ہے، جب عورت کا حج کے لیے سفر کرنا جائز نہیں تو پھر بغیر محرم کے دوسرے ملک اکیلے جاناشرعاً کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
۳:۔ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو شادی کرنا واجب اور ضروری ہے اور اگر غلبہ شہوت نہ ہو بلکہ حالت اعتدال ہو تو اس صورت میں سنتِ مؤکدہ ہے اور بغیر عذر کے سنتِ مؤکدہ کا چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔لہٰذا مذکورہ خاتون کو اگر کوئی شرعی عذر اور مجبوری نہ ہو تو اُسے شادی کر لینی چاہیے اور اس سے وہ بہت سارے فتنوں سے بھی بچ سکتی ہے۔اور اگر کوئی شرعی عذر ہو (مثلا اس بات کا یقین ہو کہ وہ حقوق ادا نہیں کر سکتی ) تو پھر نکاح نہ کرنےکی گنجائش ہے،لیکن یاد رہے یہ کوئی شرعی عذر نہیں کہ میں گناہ سے مامون ہوں، لہٰذا اس وجہ سے میں نکاح نہیں کرنا چاہتی،انبیاء کے علاوہ کوئی بھی انسان گناہ سے معصوم نہیں ہے ۔
۴:۔ نیز حدیث مبارکہ میں یہ ضرور ہے کہ نکاح مال و دولت ، حسن وجمال اور حسب اور دینداری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لیکن اس حدیث مبارکہ کے آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دینداری کو ترجیح دو لہٰذا اگر کسی مرد کے اندر یہ ساری چیزیں پائی جاتی ہیں تو ٹھیک ہے اس سے نکاح کر لیں ورنہ دینداری کو ترجیح دیتے ہوئے نکاح کر لینا چاہیے ۔
اور نکاح کی وجہ سے آپ کا باہر رہنا ورلڈ ٹور کرنا سب ممکن ہو سکتا ہے، کیونکہ محرم ساتھ ہونے کی وجہ سے شریعت میں اس سے منع نہیں ۔
۵:۔ حدیث شریف جس میں ایک عورت حیرہ (عراق کے ایک شہر) سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے سفر کا ذکر ہے مسند احمد میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اس حدیث شریف میں اسلام کے غلبے اور امن کے قیام کی پیشن گوئی کی گئی ہے،اور بطور ِ مثال فرمایا کہ وہ ایسا زمانہ ہو گا کہ اگر کوئی عورت تنہا مقام حیرہ سے نکل کر بیت اللہ کا طواف کرے تو اسے کوئی خوف نہ ہوگا۔اس میں کسی حکم ِشرعی کا بیان نہیں ہے کہ اسے استدلال کے طور پر پیش کیا جائے۔لہذا اس حدیث کو اُن صریح نصوص کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جاسکتا جن میں صراحۃ ً عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔
جیساکہ "الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني" میں ہے:"والمراد من التركيب أن الله عز وجل سيظهر الاسلام وأهله ويمكن لهم فى الأرض ويبدلهم من بعد خوفهم أمنا حتى تسير المرأة المسافة البعيدة من غير حراسة وهى آمنة أى وليفتحن الله على المسلمين أرض الفرس حتى يستولوا على خزانتها وخيراتها ويكونوا سادتها وقد كان ذلك فى عهد عمر بن الخطاب رضى الله عنه".
(كتاب المناقب،ج:22،ص:321،ط:دار احياء التراث العربي)
اورصحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال، إلا ومعها ذو محرم."
(كتاب الحج،باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره،975/2، الرقم:1338،ط:دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔‘‘
حوالہ جات
(حديث عدي بن حاتم الطائي،ج:30، ص: 196،ط:الرسالة)
"حدثنا يزيد، أخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أبي عبيدة، عن رجل قال: قلت لعدي بن حاتم: حديث بلغني عنك أحب أن أسمعه منك. قال: نعم، لما بلغني خروج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكرهت خروجه كراهة شديدة، خرجت حتى وقعت ناحية الروم - وقال، يعني يزيد: ببغداد - حتى قدمت على قيصر. قال: فكرهت مكاني ذلك أشد من كراهيتي لخروجه. قال: فقلت: والله، لولا أتيت هذا الرجل، فإن كان كاذبا لم يضرني، وإن كان صادقا علمت. قال: فقدمت فأتيته، فلما قدمت قال الناس: عدي بن حاتم، عدي بن حاتم. قال: فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: " يا عدي بن حاتم، أسلم تسلم " ثلاثا. قال: قلت: إني على دين، قال: " أنا أعلم بدينك منك " فقلت: أنت أعلم بديني مني؟! قال: " نعم، ألست من الركوسية، وأنت تأكل مرباع قومك؟ " قلت: بلى. قال: " فإن هذا لا يحل لك في دينك ". قال: فلم يعد أن قالها، فتواضعت لها. فقال: " أما إني أعلم ما الذي يمنعك من الإسلام. تقول إنما اتبعه ضعفة الناس، ومن لا قوة له، وقد رمتهم العرب، أتعرف الحيرة؟ " قلت: لم أرها، وقد سمعت بها. قال: " فوالذي نفسي بيده، ليتمن الله هذا الأمر حتى تخرج الظعينة من الحيرة حتى تطوف بالبيت في غير جوار أحد، وليفتحن كنوز كسرى بن هرمز " قال: قلت: كسرى بن هرمز؟! قال: " نعم، كسرى بن هرمز، وليبذلن المال (1) حتى لا يقبله أحد ".
قال عدي بن حاتم: فهذه الظعينة تخرج من الحيرة، فتطوف بالبيت في غير جوار، ولقد كنت فيمن فتح كنوز كسرى بن هرمز. والذي نفسي بيده لتكونن الثالثة لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قالها .
الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني" :"والمراد من التركيب أن الله عز وجل سيظهر الاسلام وأهله ويمكن لهم فى الأرض ويبدلهم من بعد خوفهم أمنا حتى تسير المرأة المسافة البعيدة من غير حراسة وهى آمنة أى وليفتحن الله على المسلمين أرض الفرس حتى يستولوا على خزانتها وخيراتها ويكونوا سادتها وقد كان ذلك فى عهد عمر بن الخطاب رضى الله عنه".
(كتاب المناقب،ج:22،ص:321،ط:دار احياء التراث العربي)
صحيح البخاري (4/ 59):حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا سفيان عن عمرو عن أبي معبد عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم فقام رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 207):
وإذا خرج مع امرأته مسافرا فطلقها في بعض الطريق أو مات عنها فإن كان بينها وبين مصرها الذي خرجت منه أقل من ثلاثة أيام وبينها وبين مقصدها ثلاثة أيام فصاعدا رجعت إلى مصرها؛ لأنها لو مضت لاحتاجت إلى إنشاء سفر وهي معتدة، ولو رجعت ما احتاجت إلى ذلك فكان الرجوع أولى كما إذا طلقت في المصر خارج بيتها أنها تعود إلى بيتها، كذا هذا.
وإن كان بينها وبين مصرها ثلاثة أيام فصاعدا وبينها وبين مقصدها أقل من ثلاثة أيام فإنها تمضي؛ لأنه ليس في المضي إنشاء سفر.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 95):
ولنا قوله عليه الصلاة والسلام «من كان على ديني ودين داود وسليمان وإبراهيم فليتزوج فإن لم يجد إليه سبيلا فليجاهد في سبيل الله فجعل النكاح من الدين، وقدمه على الجهاد واختار لنفسه الاشتغال به فثبت أنه أفضل وقدهم قوم أن يتخلوا للعبادة ويطلقوا نساءهم فرد عليهم وقال تناكحوا توالدوا تكاثروا فإني أباهى بكم الأمم يوم القيامة» هذا أمر وقد عرف مقتضاه في موضعه وقال عليه الصلاة والسلام «النكاح سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني» ولأن فيه انتظام المصالح الدينية والدنيوية؛ إذ لا يتهيأ إلا بمصالح البدن، وهي تتعلق بخارج البيت وداخله فكل منهما يقوم بالواحد.
موقع الإسلام سؤال وجواب (11/ 191 بترقيم الشاملة آليا):
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (تنكح المرأة لأربع: لمالها، ولحسبها، وجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك) .
رواه البخاري (4802) ومسلم (1466) .
ليس من المستحيل أن يجد الرجل امرأة صالحة تعينه على طاعة الله، وتقوم بخدمته، وتربي أولاده، وتحفظ ماله وبيته، وقد أوصى النبي صلى الله عليه وسلم بنكاح ذات الدين، ولولا أنه بمقدور الرجل واستطاعته أن يجد تلك المرأة المتدينة لما أوصاه نبيه صلى الله عليه وسلم بتزوجها، وهو الذي أخبر في الحديث نفسه أن من الرجال من ينكح المرأة لجمالها، ومنهم من ينكحها لحسبها، ومالها، فالرجال يختارون من النساء كل حسب رغبته، وعادته، وعرفه، والوصية لجميع المسلمين بأن يكون البحث عن ذات الدين، والاقتران بها؛ لأن في التزوج منها خيرا يراه الرجل في نفسه، وفي بيته، وعلى أولاده.
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


