03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت کےاصول وضوابط کی پابندی شرعاضروری ہے
89107اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال :بسااوقات ادارے کا ملازم ادارے کے اصول وضوابط کی پابندی کیوجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ یہ پابندی شرعی بھی نہیں  ہوتی،ایسی صورت میں مجبورا وہ ادارے کی ضوابط کی پاسداری نہیں کر پاتا ایسی صورت میں شریعت ادارے اور اس  کےملازم کے لئے کیا راہنما اصول دیتی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ادارےسےمعاہدےکےوقت ادارےکےاصول وضوابط کی پابندی کاوعدہ کیاجاتاہے،اور ہرادارےکےملازمت کےفارم پردستخط بھی کیےجاتےہیں اور فارم میں اہم اصول وضوابط باقاعدہ لکھےجاتےہیں،معاہدہ پر دستخط کرنےکی صورت میں تمام اصول وضوابط کی پابندی  ملازم پرلازم  ہوجاتی ہے،ایسی صورت میں ادارےکےاصول وضوابط پر پابندی سےعمل کرنا معاہدہ کی وجہ سےشرعا بھی لازم ہوجاتاہے۔

ہاں اگر ادارےمیں کوئی ایساضابطہ ہےجوخلاف شرع ہو،ایسی صورت میں شرعااس کی پابندی لازم نہیں ہوگی،بلکہ ایسی صورت میں  ملازم کویہ حق حاصل ہےکہ ادارےکےذمہ دارحضرات کو مناسب طریقےسےاس  طرف متوجہ کرے۔

حوالہ جات

۔

محمد بن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/جمادی الاولی     1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب