03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
استادتین دن تاخیر سےآکرکام پوراکرلےاورادارہ صرف ایک دن کی کٹوتی کرےتوکیاحکم ہے؟
89106اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال :اگر استاد ادارے میں وقت کی پابندی نہ کرے اور تین دن تاخیر سے آئے، باقی سارا کام دیانت داری سے مکمل کرے، لیکن  انتظامیہ کی طرف سے  ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی ہوتو اس کٹوتی کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ادارہ اپنی صوابدیدپراگرتین دن کےبجائےایک دن کی کٹوتی کرتاہے،توشرعااس کو اختیار ہے،یہ معاہدہ پر دارمدارہوگاکہ استاد سےمعاہدہ کیاکیاہے؟اگرمعاہدہ کام پورےکرنےکا ہےاور استاد کام پوراکرکےدےرہاہوتو ادارہ استادکومکمل تنخواہ دینےکاپابندہوگا،اگرچہ وہ تین دن کی چھٹی کرےیازیادہ۔

لیکن اگرمعاہدہ استادسےادارےمیں پورےوقت دینےکا ہےجیساکہ عام طورپر اداروں میں ہوتاہےتو ایسی صورت میں استاد پر ڈیوٹی کا پوراوقت ادارےمیں استعمال کرناضروی ہوگا۔ایسی صورت میں ادارہ  کوتین دن کی کٹوتی کااختیار ہوگا،ہاں اگر ادارہ اپنی صوابدیدپرتین دن کی کٹوتی نہیں کرتا،بلکہ ایک دن کی کٹوتی کرتاہےتواس کابھی اختیارہے،استادکےلیےان تین دنوں کی تنخواہ  استعمال کرنےکاحکم یہ ہےکہ احتیاطاان دتین دنوں کی تنخواہ  کےبقدر رقم بلانیت ثواب صدقہ کردی جائے ۔

حوالہ جات

فی رد المحتار  24 / 337:

 والثاني )وهو الأجير ( الخاص )ويسمى أجير وحد(وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو ) شهرا ( لرعي الغنم ) ۔۔۔وليس للخاص أن يعمل لغيره ، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل۔

"الموسوعة الفقهية الكويتية" 1 /  ,284285:

ويجب على الأجير الخاص أن يقوم بالعمل في الوقت المحدد له أو المتعارف عليه . ولا يمنع هذا من أدائه المفروض عليه من صلاة وصوم ، بدون إذن المستأجر۔

 وليس للأجير الخاص أن يعمل لغير مستأجره إلا بإذنه ، وإلا نقص من أجره بقدر ما عمل . ولو عمل لغيره مجانا أسقط رب العمل من أجره بقدر قيمة ما عمل۔

محمد بن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/جمادی الاولی     1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب