| 89095 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
سوال: کیا خواتین کے لیے گھر بیٹھے آن لائن ملازمت کرنا جائز ہے، جب کہ ان کا رابطہ مرد کلائنٹس سے ای میل یا چیٹ کے ذریعے ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خواتین کےلیےآن لائن کام کرنا شرعا جائزہے،بشرطیکہ درج ذیل شرائط کا خیال رکھاجائے۔
ملازمت کا کام فی نفسہ جائز ہو (2) ملازمت کے دوران احکام ستر و حجاب کی مکمل پابندی کی جائے (3) اگر خاتون شادی شدہ ہیں تو ملازمت کی وجہ سے خاوند کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ آئے،اسی طرح شرعی حدود میں رہتے ہوئےمردکلائنٹس سےای میل یا چیٹ کےذریعہ بوقت ضرورت بقدرضرورت کرنےکی بھی اجازت ہوگی۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ الاحزاب "الایۃ: 32)
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ۔۔۔۔الخ
و قولہ تعالی: (النور، الایۃ: 31)وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُْعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ۔۔۔۔الخ
"رد المحتار"603/3:والذی ینبغی تحریرہ، ان یکون لہ منعھا عن کل عمل یؤدی الی تنقیص حقہ، او ضررہ، او الی خروجہا عن بیتہ۔
محمد بن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الاولی 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


