| 89091 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
سوال1 : کیا فلیکس جابز جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کرنا شرعاً جائز ہے، جب کہ کام دینے اور لینے والا ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے؟
سوال 2: کیا فلیکس جابز یا دیگر فری لانسنگ ویب سائٹس پر سبسکرپشن فیس ادا کرنا شرعاً درست ہے، جبکہ کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی؟
سوال 3: کیا بغیر کسی باقاعدہ تحریری معاہدے کے آن لائن کام کرنا (جیسے Fiverr یا FlexJobs پر) شرعی طور پر درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
:1فری لانسنگ ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کوآن لائن جائز خدمات فراہم کرنا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ کام شرعابھی جائزہواور اجارہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں، مثلا اجرت پہلے سے معلوم اور متعین کی گئی ہو۔
اس طرح کی ویب سائٹس کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر کسی نے مذکورہ ویب سائٹ کے ذریعے کوئی ایسا کام کیا جس میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو، تو اس کی کمائی شرعاً حلال ہوگی۔
آن لائن خریدوفروخت کےمعاملہ کےلیےذاتی طورپر کسی کو جاننا ضروری نہیں،اگرکام شرعاجائزہوتواس کےساتھ آن لائن معاملہ کرنا شرعا جائزہوگا،اگرچہ ذاتی طورپر آپس میں ایک دوسرے کو جانتےنہ ہوں۔
:2واضح رہے کہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز جہاں پر مختلف قسم کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، یہ ویب سائٹس خریدار اور فرخت کنندہ کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرتی ہیں، جس کے عوض فیس (بطورکمیشن )لیتی ہیں،یہ فیس لینابھی شرعاجائزہے۔
3:فری لانسنگ کےپلیٹ فارمز کےتحت کوئی ایسا کام کیا جائے، جس میں شریعت کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو تواس میں شرعاقباحت نہیں ہے۔
اور اگر وہ فری لانسگ کا کام حرام امور پرمشتمل ہو(جیسے جان دار کی تصویر سازی ،موسیقی،فحاشی،جھوٹ اوردھوکہ دہی پر مشتمل کام ) تو جیسے عام مارکیٹ اور بازار میں ایسے کام کرنا جائز نہیں ہے، ایسے ا ن پلیٹ فارمز پر بھی اس طرح کے کام جائز نہیں ہوں گےاوراس کی کمائی بھی حرام ہوگی۔
واضح رہےکہ مذکورہ پلیٹ فارم ( فائیور) چونکہ اسرائیلی پلیٹ فارم ہے اور اپنا ٹیکس بھی اسرائیلی حکومت کو اداکرتاہے ، جس کے نتیجے میں وہ رقم اسلام اورمسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے،اس بناءبراسلامی غیرت کاتقاضایہ ہےکہ اس جیسےپلیٹ فارمز سےاجتناب کیاجائے،اورمتبادل ذرائع اختیارکیےجائیں۔
ایسے معاملات کےلیےتحریری معاہدہ ضروری نہیں، بلکہ ویب سائٹس کا جو رائج اور معروف طریقۂ کار ہے، اسی کے مطابق طے پانے والا معاملہ شرعاً معتبر اور قابلِ نفاذ سمجھا جاتاہے(بشرطیکہ دیگر شرائط پائی جائیں)
حوالہ جات
"رد المحتار"6/ 47)
قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل۔
"الفتاوى الهندية"4/411:
ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا۔
"الهدايةباب الإجارة الفاسدة"3/306:
ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔
القرآن الکریم:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
" رد المحتار": 9/553:
لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ۔
"قواعد الفقہ، القواعد الفقھیۃ / 115) :
فیتصدق بلا نیۃ ثواب
"الصحيح لمسلم" 1 / 70:
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني»
"الدرالمختار " 664/:
الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت)۔۔۔(أو موقتا بلا تخصيص)۔۔۔(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه)۔
محمد بن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الاولی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


