| 89527 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
(یک مشت رقم پانچ لاکھ سترہ ہزارتھی 517000) ،مذکورہ رقم جب تک بنک میں جمع رہی 2003ءتک زکاۃ دیتا رہا۔ 2012ء میں 5 لاکھ رقم مضاربہ میں انویسٹ کی جس کا ماہانہ 6،3،5 ہزار پرافٹ ملتا رہا۔2013ءمیں یہ مضاربہ کمپنی کے متعلقہ افراد رقم لے کر بھاگ گئے۔ مضاربہ کمپنی ٹوٹ گئی اور رقم پر پرافٹ ملنا بند ہوگیا۔رقم لینےوالے افر اد چند فوت ہو گئے،چند پکڑے گئے اور جیل میں ڈال دیے گئےاور اکثر غائب ہو کر چھپ گئے۔2003ء سے لیکرابھی تک 2025ء تک زکاۃ ادا نہیں کی گئی ۔مضاربہ 2013ء میں ختم ہوا اور مضاربہ کے ٹوٹنے سے قبل جو رقم پرافٹ کی صورت میں وصول ہوئی وہ تقریبًا 65000 کے قریب تھی اور کچھ رقم پہلے سے بنک میں جمع تھی جو کہ ایک لاکھ تھی اور ابھی ہے لیکن زکاۃ ابھی تک ادا نہیں کی گئی ادا کی، زکاۃ کی رسیدیں اور مضاربہ کیس جو کہ نیب میں جمع ہوا اس کے کاغذات موجود ہیں۔ نیب اسلام آباد نے رقم کے بارے میں درخواستیں طلب کیں جو جنوری 2013 ء میں ان کو دےدی گئی لیکن نیب اسلام آباد کی اس رقم سے قبل کچھ رقم جو کہ 8 ہزار تھی یونائیٹڈ بنک میں جمع تھی وہ کافی عرصہ پڑے رہنے کے بعد ختم ہو گئی۔ کیس کی مکمل تفصیل لکھ دی گئی ہے ۔برائے مہربانی صحیح حساب کر کے بتایں کہ مجھے اب کتنی زکاۃ ادا کرنی پڑے گی۔یک مشت رقم دینا مشکل ہوگا،اگر تھوڑی تھوڑی رقم دے دی جائے تو دے سکتا ہوں تاکہ زکاۃ کے ادا نہ کرنے پر جو عذاب کی وعیدیں ہیں ان سے بچا جا سکے ۔ ۔
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ان کو زکاۃ ادا کرنے کی تاریخ بلکل یاد نہیں اور غالب گمان بھی نہیں ،اور اس کے پاس ان پیسوں کے علاوہ مال زکاۃ نہیں ،اور اس نے بتایا کہ مضاربہ ختم ہونے کے بعد 165000 باقی بچے جو 2025 تک بینک میں جمع رہے اور 8000 جو یونائیٹڈ بینک میں جمع تھے ان کے بارے میں بھی یاد نہیں کب جمع کرائی تھی اور کتنے سال اس کو گزر گئے،اب تو ہیں بھی نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زکوۃ صاحبِ نصاب شخص پر واجب ہوتی ہے۔ صاحبِ نصاب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ہو، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت یا سامانِ تجارت ہو، یا سونا، چاندی، نقدی اور سامانِ تجارت میں سے بعض یا کل مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچے۔ زکوۃ کی ادائیگی میں قمری تاریخ کا اعتبار ہوتا ہے، اس لیے چاند کی جس تاریخ کو کوئی شخص نصاب کا مالک بن جائے، اس سے اس کی زکوۃ کا سال شروع ہوجائے گا، اگلے سال چاند کی اُس تاریخ کو اگروہ صاحبِ نصاب ہوگا تو اس پر اس دن موجود اموال کی زکوۃ واجب ہوگی۔ اگر کسی کو نصاب کا مالک بننے کی متعین تاریخ یاد نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق تاریخ کا تعین کیا جائے،اگر غالب گمان بھی نہ ہوتو کوئی ایک دن متعین کر لیا جائے پھر اس کے اعتبار سے سال پورا ہونے پر صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکاۃ ادا کی جائےگی ۔اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے سال تمام مال کی زکاۃ کا حساب لگایا جائے گا ۔وہ کیو ں کہ ادا نہیں کی تھی اس لیے ،اگلے سال کی زکاۃ کا حساب لگانے سے پہلے گزشتہ سال کی زکاۃ کو قرض سمجھ کر کل مال سے منہا کیا جائے گا پھر باقی مال کا 40واں حصہ بطور زکاۃ نکالا جائے گا ''و ھلم جرا ''اِلا یہ کہ باقی ماندہ مال ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر نہ ہو تو زکاۃ واجب نہ ہوگی ۔
آپ کی مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کو قمری تاریخ یاد نہیں تو ایک فرضی تاریخ مقرر ک لیں مثلا؛ یکم جمادی لآخرۃکو آپ پر زکاۃ کی ادائیگی لازم تھی تو گزشتہ سالوں کا حساب مندرجہ ذیل ہوگا:
2004سے 2012 تک زکاۃ کا حساب
|
سال (عیسوی) |
انگریزی تاریخ |
اسلامی تاریخ (یکم جمادی الثانیہ) |
چاندی کا ریٹ فی تولہ |
ساڑھے 52 تولے چاندی کی قیمت (نصاب) |
قابل زکاۃ رقم |
زکاۃ (2.5 فیصد) |
|
2004 |
18جولائی |
1425 ھ |
روپے179 |
روپے9397 |
517000 |
12925 |
|
2005 |
7جولائی |
1426 ھ |
روپے229 |
روپے12022 |
504075 |
12601 |
|
2006 |
27جون |
1427 ھ |
روپے275 |
روپے14437 |
491474 |
12286 |
|
2007 |
16جون |
1428 ھ |
روپے302 |
روپے15855 |
479,188 |
11979 |
|
2008 |
5جون |
1429 ھ |
روپے431 |
روپے22627 |
467,209 |
11680 |
|
2009 |
25مئی |
1430 ھ |
روپے447 |
روپے23467 |
455529 |
11388 |
|
2010 |
4مئی |
1431 ھ |
روپے562 |
روپے29505 |
444,141 |
11,103 |
|
2011 |
22اپریل |
1432 ھ |
روپے1504 |
روپے78960 |
433038 |
10825 |
|
2012 |
1اپریل |
1433 ھ |
روپے1089 |
روپے57172 |
422213 |
10555 |
کل میزان :105,342 روپے
|
زکاۃ 2.5 فیصد |
قابل زکاۃ رقم |
نصاب (52.5 تولے کی قیمت |
چاندی کا ریٹ (فی تولہ |
انگریزی تاریخ |
اسلامی تاریخ (1 جمادی الثانیہ) |
سال (عیسوی) |
|
4125 |
165,000 |
39217روپے |
747روپے |
21مارچ |
1436 ھ |
2014 |
|
4021 |
160875 |
33652روپے |
641روپے |
10مارچ |
1437ھ |
2015 |
|
3921 |
156854 |
30082روپے |
573روپے |
28فروری |
1438ھ |
2016 |
|
3824 |
152933 |
36855روپے |
702روپے |
17فروری |
1439 ھ |
2017 |
|
3727 |
149109 |
36750روپے |
700روپے |
6فروری |
1440 ھ |
2018 |
|
3635 |
145382 |
43102روپے |
821روپے |
26جنوری |
1441 ھ |
2019 |
|
3544 |
141747 |
54442روپے |
1037روپے |
14جنوری |
1442 ھ |
2020 |
|
3455 |
138203 |
85627روپے |
1,631 روپے |
4جنوری |
1443 ھ |
2021 |
|
3369 |
134748 |
108780روپے |
2072روپے |
25دسمبر |
1444 ھ |
2022 |
|
0 |
131379 |
136,132روپے |
2593روپے |
14دسمبر |
1445 ھ |
2023 |
|
0 |
99295 |
167580روپے |
3192روپے |
2دسمبر |
1446 ھ |
2024 |
|
0 |
99295 |
266,070روپے |
5068روپے |
22نومبر |
1447ھ |
2025 |
.
33,621کل میزان:
33,621+105,342 =138,963کل زکاۃ؛
زکاۃ جلد از جلد ادا کرنی چاہیے لیکن اگر مجبوری ہوتو آہستہ آہستہ بھی ادا کی جاسکتی ہے لہذا اپنی آسانی کو دیکھتے ہوئے جلد از جلد زکاۃ ادا کریں ۔
حوالہ جات
المبسوط للشیبانی ،82/2)ص(:
قلت فإذا أخذها بعد سنين قال يزكيها للسنة الأولى خمسا وعشرين درهما فهذه زكاة الألف ويزكي السنة الثانية ألفا غير خمسة وعشرين،قلت فإن توالت عليه سنون زكى لأول سنة ألفا كاملا ثم ينقص في كل سنة تلك الزكاة التي زكى أبدا كذلك حتى تنقض من مائتي درهم قال نعم وليس في أقل من مائتي درهم زكاة ولا صدقة.
المبسوط للسرخسی،186/10)ص(:
فإن الاجتهاد في الأحكام الشرعية جائز للعمل به وذلك عمل بغالب الرأي ثم جعل مدركا من مدارك أحكام الشرع وإن كان لا يثبت به ابتداء، فكذلك التحري مدرك من مدارك التوصل إلى أداء العبادات، وإن كانت العبادة لا تثبت به ابتداء، والدليل عليه أمر الحروب، فإنه يجوز العمل فيها بغالب الرأي مع ما فيها من تعريض النفس المحترمة للهلاك.... فيجوز أن يكون غالب الرأي طريقا للوصول إليه إذا عرفنا هذا فنقول: بدأ الكتاب بمسائل الزكاة.
الفتاوی الہندیہ ،175/1)ص(:
(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 73):
وغالب الظن عندهم ملحق باليقين ، وهو الذي يبتنى عليه الأحكام يعرف ذلك من تصفح كلامهم في الأبواب ، صرحوا في نواقض الوضوء بأن الغالب كالمتحقق ، وصرحوا في الطلاق بأنه إذا ظن الوقوع لم يقع ، وإذا غلب على ظنه وقع.
https://www.islamicfinder.org/islamic-date-converter/
محمدسلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
03 /رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


