03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اقامت کے دوران ہاتھ رکھنے کا مسنون طریقہ
89840نماز کا بیاناذان و اقامت کے مسائل

سوال

اقامت کے دوران ہاتھ رکھنے کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟!نیز آج کل اقامت  کہنے  والے کا ایک ہاتھ میں مائک پکڑنا اور دوسرے ہاتھ کو چھوڑنا کیسا ہے ؟شریعت کی روشنی میں وضاحت مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اقامت کے دوران ہاتھوں کو  اپنے حال پر چھوڑنا یعنی نہ باندھنا مسنون ہے نیز اس سے نماز کی حالت  سے فرق  بھی ہوجاتا ہے لہذا اسی پر عمل کرنا چاہیے ۔

اقامت  مسجد میں حاضر مقتدیوں  کو یہ اطلاع دینے کے لیے ہوتی ہے کہ  نماز شروع ہورہی ہے لہذا  اگر مسجد بڑی ہونے کی وجہ سے مائک کا استعمال ضروری ہوتو اقامت کے دوران   ایک ہا تھ میں ما  ئک  پکڑنے اور دوسرے ہاتھ کو چھوڑ کر رکھنے کی گنجائش ہوگی ۔

حوالہ جات

) فتاوی رحیمیہ:94/4ص(و احسن الفتاوی بتغییر یسیر  297/2)ص(

بدائع الصنائع،1 / 149ص(:

والإقامة لإعلام الحاضرين بالشروع في الصلاة، وإنه يحصل بالحدر.

الفتاوى الهندية ،)1 / 55ص(:

ومن السنة أن يأتي بالأذان والإقامة جهراً رافعاً بهما صوته إلا أن الإقامة أخفض منه. هكذا في النهاية والبدائع.

تحفة الفقهاء 1/ 126(:

فإذا فرغ المصلي من التكبير يضع يمينه على شماله تحت السرة.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

22 /رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب