03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹرسٹ فنڈ کی رقم خرچ کرنے میں نیت کس کی معتبر ہوگی؟
89599وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میرا ٹرسٹ ہے اور ہم لوگوں سے پیسے وصول کرتے ہیں نیک کاموں میں استعمال کے لیے ، اور ہم لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں پیسے دیں ہم آپ کے پیسے مختلف کاموں میں تھوڑے تھوڑے خرچ کریں گے تاکہ آپ کو زیادہ ثواب ملے، اب جب ہم کوئی کام کرتے ہیں تو پیسے خرچ کرتے وقت ہر ایک کی طرف سے ہم تھوڑے تھوڑے پیسوں کی نیت کرتے ہیں تو کیا نیت سے ان کی طرف سے ادائیگی ہو جائیگی ، اور کیا بعد میں ان کو بتانا یعنی تفصیل دینا شرعاً ضروری ہے۔

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ وہ  لوگوں سے نفلی صدقات  کے پیسے وصول کرتے ہیں اور مختلف پرو جیکٹ میں   خرچ کرتے وقت ان کی طرف سے تھوڑے پیسوں کی نیت کرتے ہیں  تو اس طرح کرنے سے ان کی طرف سے ادائیگی ہوگئی  یا نہیں اور اگر زکاۃ وغیرہ کی رقم ہوتو پھر کیا صورت   ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ٹرسٹ پیسے دینے والوں کی طرف سے مصارف میں خرچ کرنے کا وکیل ہوتاہے،  لہذا ٹرسٹ کو  دی جانے والی رقم    ٹرسٹ  کے  مصارف میں خرچ کرنے سے پیسے دینے والوں  کی طرف سے ادائیگی   شمار ہوگی اور پیسے دینے والوں   نے پیسے دیتے وقت جو نیت کی تھی  ان کو ثواب بھی اسی چیز کا ملے گا ۔

 باقی ٹرسٹ کے لیے خرچ کرنے میں تفصیل ہے  کہ اگر رقم نفلی   صدقات کی ہوتو وہ جہاں مناسب سمجھیں فلاحی کاموں میں خرچ کر سکتے ہیں اور   اگر رقم صدقات واجبہ زکاۃ وغیرہ کی ہوتو کسی  مستحق زکاۃ کو تلاش کرکے اس کو زکاۃ کی رقم کا مالک بنا دیا جائے   تو پیسے دینے والوں کی طرف سے ادائیگی ہوجائے گی،   زکاۃ کی رقم کو دوسرے کاموں  میں خرچ کرنا جائز نہیں  ۔

ٹرسٹ والوں کو  چاہیے کہ  جس مصرف میں خرچ کرنے کے لیے رقم   دی جائے   اسے اسی مصرف میں ہی خرچ کریں اور اپنے حساب وکتاب میں شفافیت رکھیں ۔اگر کوئی تفصیل طلب کرے  تو  بتانی چاہیے  تاکہ ساکھ متاثر نہ ہو  اور اعتماد پیدا ہو ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع،458/2)ص(:

والمعتبر في الدفع نية الآمر، حتى لو دفع خمسة إلى رجل وأمره أن يدفعها إلى الفقير عن زكاة ماله فدفع ولم تحضره النية عند الدفع جاز؛ لأن النية إنما تعتبر من المؤدي والمؤدي هو الآمر في الحقيقة وإنما المأمور نائب عنه في الأداء.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي،) 4/ 254ص(:

(صح التوكيل) لما بينا من الأدلة قال رحمه الله (‌وهو ‌إقامة ‌الغير ‌مقام ‌نفسه في التصرف) أي التصرف الجائز المعلوم هذا في الشريعة حتى إن التصرف إذا لم يكن معلوما يثبت به أدنى

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي،) 7/ 501ص(:

قال (كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره) لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجةوقد صح أن النبي صلى الله عليه وسلم وكل بالشراء حكيم بن حزام وبالتزويج عمر بن أم سلمة رضي الله عنهما.

البحر الرائق،368/2)ص(:

وكما إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛لأن المعتبر نية الآمر؛لأنه المؤدي حقيقة، ولو دفعها إلى ذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر.... ولو أعطاه دراهم ليتصدق بها تطوعا فلم يتصدق بها حتى نوى الآمر أن تكون زكاته ثم تصدق بها أجزأه، وكذا لو قال تصدق بها عن كفارة يميني ثم نوى عن زكاة ماله.

حاشية ابن عابدين،) 2/ 269ص(:

 وهنا الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف ‌من ‌الموكل ‌وقد ‌أمره ‌بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي): 2/ 344 (

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب