| 89488 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
میں نے کچھ جان بوجھ کر اور کچھ لاعلمی میں کئی رمضانوں کے روزے کھانے پینے سے توڑے ہیں ۔آیا ایک ہی کفارہ 60 دن کا کافی ہوجائے گا ۔کیونکہ میں نے مفتی طارق مسعود صاحب کے ایک ویڈیو بیان میں سنا ہے کہ اگر آ پ نے کئی رمضانوں کے مثلا پانچ چھ رمضانوں کے روزے توڑے ہیں تو ہر رمضان کا الگ الگ مطلب 60 روزوں کا کفارہ دینا پڑے گا-اور اسی ویڈیو بیان میں ایک بات اور بھی کہی ہے کہ اگر سب رمضانوں کا کفارہ نہیں دے سکتے اور اپنے سچے دل سے توبہ بھی کی ہےتو سب رمضان کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہے ۔اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔اور میں اب مکمل طور پہ روزے رکھ رہا ہوں رمضان کے۔بس مجھے اس بارے میں بتا دیجیے کہ کیا ایک ہی کفارہ کافی رہے گا کیونکہ ہر رمضان کے لیے الگ لگ کفارہ میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گا۔ابھی میری عمر 35 سال ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آ پ نے جتنے روزے توڑے ہیں اتنے دنوں کی قضاء آپ پر لازم ہے البتہ آپ نے تمام روزے کھانے پینے سے توڑے ہیں لہذا تمام رمضانوں کے ٹوٹے ہوئے تمام روزوں کی طرف سے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوی الہندیہ،76)ص(:
إذا أكل متعمدًا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي) 2/ 338ص(:
(ولو أكل أو شرب ما يتغذى به أو يتداوى به فعليه القضاء والكفارة)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص663):
ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول تكفيه واحدة ولو في رمضانين عند محمد وعليه الاعتماد بزازية ومجتبى وغيرهما واختار بعضهم للفتوى أن الفطر إن كان بغير الجماع تداخلت وإلا لا.
حاشیہ ابن عابدین،413/2)ص(:
ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة و لو في رمضانين عند محمد، و عليه الاعتماد بزازية ومجتبى وغيرهما، واختار بعضهم للفتوى أن الفطر بغير الجماع تداخل وإلا لاوفي الشامية (قوله وعليه الاعتماد) نقله في البحر عن الاسرار ونقل قبله عن الجوهرة لو جامع في رمضانين فعليه كفارتان وان لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية وهذا الصحيح .
قلت فقد اختلف الترجيح كما ترى، ويتقوى الثاني بانه ظاهر. )کذا فی احسن الفتاوی 434/4ص(
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


