| 89607 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
جب شوہر خود اتنا کماتا ہو جس سے وہ بآسانی گھر کے اخراجات پورے کرسکتا ہے اور تھوڑی بہت بچت بھی۔ تو ایسے میں شوہر کا اپنی بیوی کی کمائی سے مختلف چیزوں جیسے گاڑی لینا، دفتری معاملات کیلیے پیسوں کا مطالبہ کرنا کیسا ہے۔ بیوی کا پیسے نہ دینے پر اس سے بات چیت بند کر لینا اور مختلف جذباتی حربے استعمال کرنا کیسا ہے۔ نیز اگر بیوی خود کماتی ہو اور شوہر اس سے زیادہ کماتا ہو تو کیا بیوی شوہر سے تھوڑا بہت ماہانہ جیب خرچ لینے کی حقدار ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کی کمائی اس کی اپنی ملکیت ہے ،شوہر کا اس میں کوئی حق نہیں ہے ۔لہٰذا شوہر کا بیوی سے پیسوں کا مطالبہ کرنا ناجائز اور مروت کے خلاف ہے ۔اور نہ دینے پر بات چیت نہ کرنا اور دھمکی دینا ناجائز ہے ۔شوہر پر شرعا بیوی کا نان نفقہ واجب ہے ،نان نفقہ سے مراد بقدر کفایت کھانا ،کپڑے اور مکان ہے ۔اس کے علاوہ شوہر پر بیوی کا جیب خرچہ لازم نہیں ہے ۔البتہ نان نفقہ کے علاوہ بیوی کو کچھ جیب خرچ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی دوسری ضروریات کو پورا کر سکے ۔بیوی کا اس کو اپنا حق سمجھ کر اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ جات
لِلرِّجالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّساءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ.... ..[النساء: 32]
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ إِلَاّ أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ.....[النساء: 29]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(4/ 325):
ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها،
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(3/ 572):
وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي(4/ 411):
في الخلاصة. قال هشام: سألت محمدا عن النفقة فقال هي الطعام والكسوة والسكنى ولأنه جزؤه.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04 /رجب المرجب ٰ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


