| 89738 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ: میں آن لائن ٹریڈنگ کرتا تھا، جس میں اکثر نقصان ہوتا تھا۔ ایک دن شدید غصے کی حالت میں، صرف خود کو ٹریڈنگ سے روکنے کی نیت سے (بیوی کو طلاق دینا مقصود نہیں تھا) میں نے یہ الفاظ کہے: "اگر آئندہ میں نے ٹریڈنگ کی تو مجھ پر میری بیوی تین طلاق ہوگی۔" بعد ازاں مجھے احساس ہوا کہ یہ الفاظ شرعاً بہت سنگین ہیں۔ واضح رہے کہ: یہ الفاظ غصے میں کہے گئے نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ خود کو روکنا مقصود تھا اس کے بعد اب تک میں نے ٹریڈنگ نہیں کی نکاح بدستور قائم ہے اب دریافت طلب امور یہ ہیں: کیا یہ الفاظ طلاق کے ہیں یا قسم کے حکم میں آتے ہیں؟ اگر مستقبل میں ٹریڈنگ کی جائے تو: کیا طلاق واقع ہوگی؟ یا صرف کفارۂ قسم لازم آئے گا؟ موجودہ حالت میں نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فتویٰ عطا فرمائیں۔ والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق یہ الفاظِ قسم نہیں بلکہ طلاقِ معلّق کے ہیں۔یعنی شوہر نے بیوی کی طلاق کو آئندہ آن لائن ٹریڈنگ کرنے کے ساتھ مشروط کیا ہےاور اس میں نیت کا ہونا نہ ہونا برابر ہے؛ کیونکہ یہ صریح الفاظ ہیں ۔لہٰذا موجودہ حالت میں نکاح بدستور قائم ہے،البتہ اگر مستقبل میں شوہر نے آن لائن ٹریڈنگ کی تو بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»(1/ 420):
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 247):
[باب صريح الطلاق]
(قوله ما لم يستعمل إلا فيه) أي غالبا كما يفيده كلام البحر. وعرفه في التحرير بما يثبت حكمه الشرعي بلا نية،
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126):
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 244):
وألفاظ الشرط: إن وإذا وإذا ما وكل وكلما ومتى ومتى ما " لأن الشرط مشتق من العلامة وهذه الألفاظ مما تليها أفعال فتكون علامات على الحنث.......................................... ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين .
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


