| 89775 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اگر میاں بیوی میں نبھاہ نہ ہو اور بیوی تحریری طور پر لکھ کر کہ میں خاوند سے کسی قسم کے اخراجات کا مطالبہ نہیں کروں گی اپنے میکے چلی جائے اپنے تین بچوں کو لے کر ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ بچوں کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے یا وہ بھی ساقط ہو گیا ۔ دوسری صورت اگر بیوی کہے کہ بچوں کے نفقے کا مطالبہ بھی نہیں کرتی تو اس صورت میں کیا حکم ہے ۔ رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللّہ خیرا کثیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عورت جب شوہر کے گھر میں اس کے نکاح کی وجہ سے پابند ہو تو وہ نان و نفقہ کی حقدار بنتی ہے۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق، اگر بیوی خود شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے تو وہ نفقہ کی حقدار نہیں ۔
البتہ بچوں کا نفقہ شرعاً بہرحال شوہر کے ذمے ہے، کیونکہ اولاد کا نفقہ باپ پر لازم ہوتا ہے۔ بیوی کے کہنے یا تحریری طور پر دستبردار ہونے سے بچوں کا نفقہ ساقط نہیں ہوگا، بلکہ شوہر پر بدستور بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہے گی،البتہ اگربیوی اپنی خوشی سے بچوں پر خرچ کرتی ہے تو اسے اس کا ثواب ملے گا ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني(3/ 520):
فأما إذا كان الامتناع بغير حق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر موجلا، أو وهبته منه فلا نفقة لها لأن فوات الاحتباس ههنا لمعنى من جهتها، والنفقة بأن الاحتباس على تبين، فتجازى بمنع بيان أداء الاحتباس وهي النفقة،
المحيط البرهاني (3/ 522):
والمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضا عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقيا تقديرا، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقيا تقديرا وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(4/ 40):
ونفقة الولد يختص بها الوالد لا يشاركه فيها الأم كنفقته بعد الاستغناء.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 560):
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة الولد الصغير.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 80):
نفقة الأولاد الصغار والإناث المعسرات على الأب لا يشاركه في ذلك أحد ولا تسقط بفقره.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


