03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصہ کی حالت میں طلاق دینے کا حکم
89965طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب، میرا بھائی جس کا نام سفیان ہے، جو شادی شدہ ہے اور دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، شادی کو ابھی چار سال ہی گزرے ہیں۔ ابھی کچھ دن قبل اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ایسا سخت جھگڑا ہوا، بات مار پیٹنے تک آگئی۔ اس کی بیوی اس کے سینے پر بیٹھ گئی، بھائی کو اتنا زیادہ غصہ آیا کہ وہ مارنے کے لئے کچن سے کینچی بھی اٹھا لایا۔ اسے انتہائی درجے کا غضب تھا، ایسا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے۔

اور غصے کی یہ کیفیت پہلے بھی کئی بار ہوئی ہے، جس میں اس نے قیمتی اشیاء کا بہت نقصان کیا ہے۔ اسی انتہائی غضب، غصہ اور لاعلمی کی حالت میں اس نے تین سے زائد مرتبہ "طلاق، طلاق، طلاق" بول دیا۔ اب وہ اپنے کیے پر بہت نادم ہے۔

میں نے ایک تحریر پڑھی تھی جس میں لکھا تھا کہ انتہائی غصہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ملاحظہ فرمائیے:

انتہائی درجے کا غضب، جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔
(مجموعہ قوانین اسلامی، شائع کردہ مسلم پرسنل لا بورڈ، صفحہ ۱۳۳)

اسلامی قانون متعلق پرسنل لا میں ہے کہ:"دفعہ ۹۔۔۔ غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر غصہ اس درجہ کا ہو کہ ہوش و حواس باقی نہ رہ گئے ہوں اور بوقتِ طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میری زبان سے کیا بات نکل رہی ہے تو اس حال میں دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

وللحافظ ابن قیم الحنبلی رسالۃ فی طلاق الغضبان، قال فیہا انہ علی ثلاثۃ اقسام:احدہا: ان یحصل لہ مبادئ الغضب بحیث لا یتغیر عقلہ ویعلم ما یقول ویقصدہ، وہذا لا اشکال فیہ۔الثانی: ان یبلغ النہایۃ فلم یعلم ما یقول ولا یرہ، فہذا لا ریب انہ لا ینفذ شئ من اقوالہ۔الثالث: من توسط بین المرتبتین بحیث لم یصر کالمجنون، فہذا محل النظر والادلۃ تدل علی عدم نفوذ اقوالہ۔

ملخصاً من شرح النقایۃ الحنبلیۃ، لکن اشار فی الغایۃ الی مخالفتہ فی الثالث حیث قال:
ویقع طلاق من غضب خلافاً لابن القیم، وہذا الموافق عندنا لما مر فی المدہوش.
(رد المحتار، کتاب الطلاق، صفحہ ۵۸۷، جلد ۲؛ اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، صفحہ ۱۷۴)

[ماخذ: https://alsharia.org/2013/feb/aik-majlis-teen-talaqain-mufti-fazeelurrehman-usmani]

حضرت! کیا گنجائش کی کوئی صورت نکل سکتی ہے کہ دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی اپنے بچوں کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں آپ کے بھائی نے اپنی بیوی کو تین سے زائد مرتبہ طلاق دی ہے اور اس کو اس بات کا ادراک بھی تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے رہے ہیں۔ لہٰذا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے آپ کے بھائی کے لیے اس کی بیوی حرام ہوگئی۔ اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ طلاق اکثر غصے ہی میں دی جاتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ غصے میں طلاق نہیں ہوتی، غیر معقول بات ہے۔ اگر طلاق دیتے وقت غصے کی حالت ہو اور نفسیاتی کیفیت بھی لاحق ہو، لیکن بات کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو، تو ایسی صورت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

غضب کے تین درجات ہیں :

  1. ابتدائی درجہ  میں کوئی تغیر نہیں آتا۔جو کچھ کہتا ہے ،سمجھتاہے اس صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
  2. درمیانی درجہ غضب  جس میں  مثل جنون  کے تو نہیں ہوا،لیکن پہلے درجہ سے متجاوز ہوگیا ۔تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
  3. اعلٰی درجہ غضب کا  جس میں بے ہوش ہوجائے،حتی کہ جو کچھ منہ سے نکلے اس کو سمجھ نہ سکے۔اس میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔

نوٹ :صرف غصے کا وہ درجہ، جس میں دماغ ماؤف ہوچکا ہو اور یہ تمیز بھی باقی نہ رہے کہ منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں، یا جو الفاظ نکل رہے ہیں ان کا معنی و مطلب کیا ہے، ایسی جنونی کیفیت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ بشرطیکہ یہ کیفیت اس شخص کے بارے میں معروف بھی ہو کہ اس پر یہ حالت طاری ہوتی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية1/353:

(فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه) يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع كذا في المحيط۔۔۔۔ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير...والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 244):

مطلب في طلاق المدهوش وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.

معالم السنن )3/ 243(:

قال أبو داود: حدثنا القعنبي، قال: حدثنا عبد العزيز، يعني ابن محمد عن عبد الرحمن بن حبيب عن عطاء بن أبي رباح عن ابن ماهك، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة.

قال الشيخ اتفق عامة أهل العلم على أن صريح لفظ الطلاق إذا جرى على لسان البالغ العاقل فإنه مؤاخذ به ولا ينفعه أن يقول كنت لاعبا أو هازلا أو لم أنو به طلاقا أو ما أشبه ذلك من الأمور.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي) 4/ 177(:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاح صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

الاختيار لتعليل المختار) 3/ 124(:

قال: (وكذلك اللاعب بالطلاق والهازل به) لقوله عليه الصلاة والسلام: «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: ويعم هذه الفصول كلها قوله عليه الصلاة والسلام: «كل طلاق واقع» الحديث. 

ملتقى الأبحر (ص87)    ولا تحل الحرة بعد الثلاث ولا الأمة بعد الثنتين إلا بعد وطىء زوج آخر بنكاح صحيح و مضی عدتہ.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

13/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب