| 89932 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے بھائی نے ایک شخص کو کاروبار کے لیے 30 لاکھ روپے دیے تھے۔ وہ شخص ہر ہفتے 10 ہزار روپے منافع دیتا رہا اور ایک سال تک باقاعدگی سے منافع دیتا رہا۔ ایک سال کے بعد وہ شخص فوت ہو گیا۔ اب اس کے ورثاء ہمیں وہ 30 لاکھ روپے واپس نہیں دے رہے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ وہ لوگ رقم واپس کر دیں، لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں پیسے نہیں دیے تھے بلکہ جس شخص کو دیے تھے وہ فوت ہو چکا ہے، اس لیے جب ہمیں پیسے نہیں دئے تو ہم آپ کو کیوں دیں؟ ہم لوگ کمزور ہیں، نہ لڑائی جھگڑے کے ذریعے پیسے لے سکتے ہیں اور نہ ہی پولیس یا کورٹ کے ذریعے رقم حاصل کر سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان پیسوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی نیت سے چھوڑ سکتے ہیں؟ یعنی ہم یہ نیت اور سوچ کر لیں کہ ہم نے وہ 30 لاکھ روپے صدقہ کر دیے ہیں۔ کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟اور اگر ہم ایسا کریں تو کیا ہمیں اس صدقے کا ثواب بھی ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ پیسوں کی وصولی کے لیے جو مناسب تدبیر ہوسکے، اسے اختیار کرنا چاہیے۔ خدانخواستہ اگر پھر بھی وہ پیسے نہ ملیں تو آخرت میں ثواب کی نیت سےان کو معاف کردیں، تو آخرت میں اچھا بدلہ ملے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 384):
هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا وهبة الدين من غير من عليه الدين جائزة إذا أمره بقبضه استحسانا، كذا في التتارخانية...هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى، وهو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي…رجل عليه دين فمات قبل القضاء فوهب صاحب الدين لوارث المديون صح سواء كانت التركة مستغرقة أم لم تكن، كذا في فتاوى قاضي خان...رجل تصدق على الميت أو دعا له فإنه يصل الثواب إلى الميت إذا جعل ثواب عمله لغيره من المؤمنين جاز في السراجية.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (5/ 709):
(قوله: ولو على غني) اختاره في الهداية مقتصرا عليه؛ لأنه قد يقصد بالصدقة على الغني الثواب لكثرة عياله بحر، وهذا مخالف لما مر قبيل باب الرجوع من أن الصدقة على الغني هبة ولعلهما قولان، تأمل.
عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص352):
وقال محمد: إذا قال: الرجل لرجل تصدقت عليك بهذه الدار، غنيا كان المتصدق عليه أو فقيرا ودفعها إليه فذلك جائز، ولا سبيل له على الرجوع بوجه من الوجوه لأنه لا تكون الصدقة كالهبة.
المبسوط للسرخسي (14/ 38):
وإذا أقرض الرجل الرجل الدراهم ثم صالحه منها على أقل من وزنها فهو جائز؛ لأنه قبض البعض وأبرأه عن البعض وكل واحد منهما صحيح في الكل فكذلك في البعض.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 112):
وإن مات المضارب أو قتل على الردة بطلت المضاربة؛ لأن موته في الردة كموته قبل الردة، وكذا إذا لحق بدار الحرب وقضي بلحوقه؛ لأن ردته مع اللحاق، والحكم به بمنزلة موته في بطلان تصرفه.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
06/شعبان المعظم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


