| 89735 | خرید و فروخت کے احکام | زمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل |
سوال
مفتی صاحب! گاؤں دیہات میں رائج ایک معاملہ سے متعلق شریعت کا حکم دریافت طلب ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ دیہاتوں میں زید اپنی زمین پر چارہ (جوار، مکئی، برسیم وغیرہ) اگاتا ہے۔ عمرو کے پاس جانور ہیں، اس کو چارہ کی ضرورت ہے تو وہ زید سے چارہ خریدتا ہے۔ اس کی درج ذیل صورتیں ہیں جن کا حکم معلوم کرنا ہے:
-1بعض اوقات چارہ اگ چکا ہوتا ہے مگر ابھی کاٹ کر لے جانے کے قابل نہیں ہوتا۔ لیکن عمرو اصرار کرتا ہے کہ یہ میں نے خریدنا ہے، ابھی سے مجھے بیچ دو تاکہ کوئی دوسرا بندہ نہ خرید لے جائے۔ کیا ایسی صورت میں عمرو کے ساتھ مذکورہ چارہ کی فروختگی کا حتمی معاملہ کرنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اس کا متبادل کیا ہو سکتا ہے جو شرعی لحاظ سے درست ہو؟
-2زید چارہ عمرو کو بیچ دیتا ہے، مگر عمرو فوری کاٹ کر اس کی زمین فارغ نہیں کرتا، بلکہ یومیہ ضرورت کے حساب سے تھوڑا تھوڑا کرکے چارہ کاٹ کر لے جاتا ہے۔ اس میں زید کی زمین فارغ ہوتے ہوتے کئی دن گزر جاتے ہیں۔ نیز عمرو کے لیے یک بارگی سارا چارہ کاٹ کر لے جانا عملاً بڑا مشکل اور دقت کا باعث ہوتا ہے۔ ایک تو کاٹنا آسان کام نہیں، خصوصاً جب مقدار زیادہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اگر کاٹ بھی لے تو اسے اتنے زیادہ چارے کی فوری ضرورت نہیں، اور نہ ہی اس کے پاس کوئی اسٹوریج کا ایسا انتظام ہے کہ ایک یا دو ماہ کا چارہ کاٹ کر محفوظ کر سکے اور اس کی تازگی برقرار رہے اور خراب نہ ہو۔ مزید یہ کہ عموماً زید کی طرف سے بھی زمین فوری خالی کرنے کا مطالبہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بھی دیکھتا ہے کہ عمرو حسبِ ضرورت کاٹتا رہے گا اور آہستہ آہستہ زمین فارغ ہو گی۔ تو کیا ایسی صورتِ حال میں فروختگی کا حتمی معاملہ ہوجانےکےباوجودچارے کو زید کی زمین میں کھڑے رہنے دینے میں شرعاً کوئی مضائقہ ہے؟ کہ زمین زید کی ہے، چارہ عمرو کا ہے، اور عمرو کے چارے نے زید کی زمین کو مشغول کر رکھا ہے۔ شریعت کے اس بارے میں کیا تعلیمات ہیں؟
-3چارہ کی فروختگی کا رائج طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پیمائش کے ذریعے بیچا جاتا ہے۔ مثلاً زید نے ایک کنال زمین میں چارہ کاشت کیا ہوا ہے تو اس میں سے پانچ مرلے عمرو کو فروخت کر دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ان پانچ مرلوں کی باقاعدہ حد بندی کی جاتی ہے، پیمائش کا کوئی آلہ استعمال ہوتا ہے اور حد بندی کے لیے نشان لگانے کا عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ کیا مذکورہ صورتِ حال کے مطابق چارہ کی فروختگی پیمائش کے حساب سے کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ ہے؟
براہِ کرم ان سوالات کا شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں محقق و باحوالہ جواب مرحمت فرمائیں۔ عند اللہ آپ مستحقِ اجر و ثواب ہوں گے۔
نکتۃ الغور:مذکورہ مسئلہ میں تین صورتوں کا جواب مطلوب ہے:
نمبر ۱: اگر چارہ اگا ہو لیکن کاٹ کر لے جانے کے قابل نہ ہو، تو کیا اس کی خریداری جائز ہے؟
نمبر ۲: جب چارہ خریدا جائے تو یک بار اس کی کٹائی نہیں ہوتی، بلکہ خریدار تھوڑا تھوڑا کر کے کاٹتا ہے اور لے جاتا ہے، جس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
نمبر ۳:مذکورہ چارے کو زمین کے پیمائش کے حساب سے بیچا جاتا ہے کیا پیمائش سے اس کا بیچنا جائز ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
-1 اگر چارہ اگ چکا ہو اور استعمال کے قابل ہو، یعنی کم ازکم اتنا ہو کہ جانور اسےکھا سکے اگر چہ کاٹ کر لے جانے کے لائق نہ ہو توبھی اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔
2۔ عام طور پر خریدار بیع کرتے وقت چارے کو زمین پر باقی رکھنے کی باضابطہ شرط نہیں لگاتے اور نہ ہی زمین کے مالک فورا لے جانے پر اصرار کرتے ہیں، نیز جب پتہ ہے کہ چارہ آہستہ آہستہ اگے گا تو عرفا بھی اس کی اجازت ہوگی ۔لہذا جب تک بیچنے والے کی طرف سے اعتراض نہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
بعض چارے بار بار اگتے ہیں ، اس لیے اسے سیزن کے لیے بیچنا بھی جائز ہے۔ اس میں مہینہ مقرر کردیا جائے تاکہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔نیز اس میں چارہ کی قیمت طےکر لی جائے اور آئندہ اگنے والا چارہ اس کے تابع بنا کر بیچ دیا جائے۔
3۔ یہ بھی چارہ کی پیمائش کا ایک طریقہ ہے لہذا جائز ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي - (ج 12 / ص 344)
والزرع في أول ما يبدو قبل أن يصير منتفعا به لا يكون مالا متقوما أما بعد ما صار منتفعا به بحيث يعمل فيه المناجل ومشافر الدواب يجوز بيعه لأنه مال متقوم منتفع به فإن باعه بشرط القطع أو مطلقا جاز لأن مقتضي مطلق البيع تسليم المعقود عليه عقبه فهو وشرط القطع سواء وإن باعه بشرط الترك في أرضه حتى يدرك فلا خير فيه.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/ 109):
وإذا باع جزة من الكراث بعدما علا يجوز وإن باع كذا وكذا جزة لا يجوز وكذلك هذا في سائر البقول إذا باع منه جزة بعدما علا يجوز وإن باع كذا وكذا جزة لا يجوز وكذلك في القصيل إذا باعه بعدما علا القصيل في الحال يجوز البيع وكذلك هذا في الأشجار إذا باعها وهي ثابتة ليقطع أو ليقلع في الحال فهو جائز كذا في الذخيرة.... وبيع قوائم الخلاف يجوز وإن كانت تنمو ساعة فساعة وبيع الكراث يجوز وإن كانت تنمو من الأسفل لمكان التعامل فأما ما لا تعامل فيه وهو ينمو ساعة فساعة لا يجوز كذا الظهيرية….ولو باع كل الثمار وقد ظهر البعض دون البعض فظاهر المذهب أنه لا يصح وكان شمس الأئمة الحلواني والفضلي يفتيان بالجواز في الثمار والباذنجان والبطيخ وغير ذلك ويجعلان الموجود أصلا في العقد والمعدوم تبعا استحسانا لتعامل الناس والأصح أنه يجوز كذا في المبسوط.
تكملة فتح الملهم:1/403
أن تباع سائر ثمار الشجر أو البستان في حين ظهر بعضها ولم يظهر بعضها . وفيه خلاف بين مشايخنا الحنفية ، فظاهر المذهب أنه لا يجوز أيضاً ، ولكن أفتى شمس الأئمة الحلواني رحمه الله بأنه لو كان الخارج أكثر جاز البيع فى الجميع ، وبه أفتى الإمام الفضلى. بل يظهر من عبارته أنه لا يشترط كون الخارج أكثر ، بل يجعل الموجود أصلا في البيع وما يحدث بعد ذلك تبعا له : ويقول : ( أستحسن فيه لتعامل الناس فإنهم تعاملوا بيع الكرم بهذه الصفة ، ولهم في ذلك عادة ظاهرة ، وفى نزع الناس من عادتهم حرج ، حكاه ابن الهمام في الفتح ه : ١٠٥ ثم قال : ه وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد وهو بيع الورد على الأشجار ، فإن الورد متلاحق ، ثم جوز البيع في الكل بهذا الطريق ، وهو قول مالك رحمه الله )و الحاصل أن هذه الصورة وإن كانت غير جائزة في أصل المذهب ، غير أن فيها سعة عند عموم البلوى ، وفى هذه الصورة يقول العلامة ابن عابدين الشامي رحمه الله : ولا يخفى تحقق الضرورة في زماننا، ولا سيما في مثل دمشق الشام كثيرة الأشجار والنمار، فإنه لغلبة الجهل على الناس لا يمكن إلزامهم بالتخلص بأحد الطرق المذكورة .. قال العبد الضعيف عفا الله عنه : ويظهر من كلام ابن الهمام في الفتح ٥ : ١٠٣ أيضا أن العرف إذا جرى ببيع الثمار بعد بدوصلاحها بشرط الترك واشتدت إليه الحاجة كان قياس قول محمد الجواز ، وإن لم يتناه عظم الثمار ، لأنه أجاز شرط الترك بعد ما تناهى عظمها للعرف والضرورة ، قلت : وكذلك أجاز محمد رحمه الله تعالى بيع الثمار فى حين ظهر بعضها ولم يظهر بعضها للضرورة والعرف ، كما قدمنا من الفتح ورد المحتار ، فكان قياس قوله الجواز عند الضرورة وإن لم يتناه عظمها .
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 147):
ولو) كان البيع (جزافا) أي بطريق المجازفة معرب كزاف (لو) بيع (بغير جنسه) لقوله عليه الصلاة والسلام إذا اختلف النوعان فبيعوا كيف شئتمبخلاف ما إذا بيع بجنسه مجازفة فإنه لا يصح لاحتمال الربا (وصح) أيضا بيع المكيلات والموزونات (بإناء أو حجر معين) كل منهما (جهل قدره) لأن المانع من الصحة جهالة تفضي إلى النزاع وهاهنا ليست كذلك.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
14/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


