| 89196 | جنازے کےمسائل | تعزیت کے احکام |
سوال
مفتی صاحب! سوال یہ کرنا ہے کہ ہماری برادری میں یہ رواج ہے کہ جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو میت کے لواحقین کی طرف سے دوسرے یا تیسرے دن "زیارت" کے نام سے مسجد میں بیان رکھا جاتا ہے، جس میں مسجد کے امام صاحب اصلاحی بیان فرماتے ہیں۔ اس بیان میں تعزیت کے لیے آنے والے لوگ جمع ہوتے ہیں، اور عورتوں کے لیے بھی الگ سے گھر میں یا باہر، روڈ پر یا گلی میں قناتیں لگا کر بیان سننے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ بیان عملاً ضروری اور لازم، اور تعزیت کا جزء سمجھا جاتا ہے، اور اس کے بغیر گویا تعزیت کا عمل ادھورا شمار کیا جاتا ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شریعت میں تعزیت کے احکامات میں سے ایسے کسی عمل کا ثبوت ملتا ہے؟ اور اگر نہیں ملتا تو اسے لازم اور ضروری سمجھنا شرعی نقطۂ نظر سے کس زمرے میں آتا ہے۔
تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ان مجالس میں میت کے گھر والوں کی طرف سے کھانے کا بھی باقاعدہ انتظام ہوتا ہے۔ اگر کہیں کھانے کا انتظام نہ ہو تو مٹھائی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور طریقے سےتعزیت کو ضروری سمجھنا، یا دین کا حصہ قرار دینا، اور اگر کوئی نہ کرے تو اس کو ملامت کرنا جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی تعزیت کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اگر کوئی اسے لازم سمجھتا ہے تو یہ بدعت ہوگی؛ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
تعزیت ایک مستحب عمل ہے، جو تین دن تک ہے۔ تین دن کے بعد تعزیت کرنا مکروہ ہے، الا یہ کہ تعزیت کرنے والا یا میت کے ورثہ موجود نہ ہوں، تو پھر تین دن کے بعد بھی ان سے تعزیت کرنا جائز ہے۔ اس کا مقصد ورثہ کی دلجوئی ہے، ایسے موقع پر ورثہ پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے۔ حتی کہ آس پاس کے لوگوں کو میت کے گھر بقدرِ کفایت کھانا بھیجنا چاہیے، تاکہ غم کے موقع پر وہ لوگ ضروری کھانے سے محروم نہ ہوں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 240):
في شرح المنية: وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتن، لقوله عليه الصلاة والسلام من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة رواه ابن ماجه وقوله عليه الصلاة والسلام من عزى مصابا فله مثل أجره رواه الترمذي وابن ماجه. والتعزية أن يقول: أعظم الله أجرك، وأحسن عزاءك، وغفر لميتك. اه
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 167):
ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها وهي بعد الدفن أولى منها قبله وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد فإن رئي ذلك قدمت التعزية ويستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها، كذا في السراج الوهاج........... ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه وتغمده برحمته ورزقك الصبر على مصيبته وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلا عن الحجة.وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 240):
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (2/ 225):
وذلك لأن التعزية فيها وعظ وتذكير ودعاء، وذلك مستحب، وقد روى أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم رأي امرأة تبكي على صبي لها، فقال لها: "اتقي الله، وأصبري"، فذلك تعزية منه لها.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
12/جمادی الآخرۃ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


