03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چرچ کے لیے کمیشن پر زمین دلوانے کا شرعی حکم
89275خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ ہوں اور میرے پاس جائیداد خریدنے کے لیے عیسائی کلائنٹ   آئے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جائیداد خرید کر انہوں نے چرچ بنانا ہے۔ تو کیا اس صورتحال میں میں ان کو جائیداد دلوا سکتا ہوں یا نہیں؟ اور کیا ان سے جو مجھے کمیشن ملے گا وہ حلال ہوگا یا حرام؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں چونکہ وہ چرچ  کے لیے زمین خرید رہے ہیں اس لیے ان کے ساتھ زمین خریدنے میں تعاون جائز نہیں ،کیونکہ وہ اپنا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں لہذا آپ کے لیے اس  معاملے میں تعاون اور کمیشن کمانا جائز نہیں ہے۔

تاہم اگر  وہ جائیداد اس حالت میں چرچ کے لیے قابل استعمال نہ ہو بلکہ چرچ بنانے کے لیے جائیداد پر ازسر نو تعمیرات ضروری ہوں تو کمیشن کی رقم لینے کی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (7/ 481):

وفي فتاوى أهل سمرقند: إذا استأجر رجلاً ينحت له طنبوراً أو بربطا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية، وإنما وجب الأجر في هذه المسألة ولم يجب في نحت الصنم؛ لأن جهة المعصية ثمة مستغنية؛ لأن الصنم لا ينحت إلا للمعصية أما في نحت الطبل والطنبور جهة المعصية ليست بمتعينة؛ لأنها كما للمعصية تصلح لغير المعصية بأن يجعل وعاء للأشياء....ولو استأجر الذمي مسلماً ليبني له بيعة أو كنيسة جاز، ويطيب له الأجر.

بحوث فى قضايا فقهية معاصرة(360/1)

إنَّ الإعانة على المعصية حرام مطلقاً بنص القرآن، أعني قوله تعالى : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَنِ﴾ [المائدة: ٢]، وقوله تعالى: ﴿فَلَن أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ ﴾ [القصص: ۱۷]…..وإن لم يكن محركا وداعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمرا، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريما، بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم

كان معذورا، وإن علم وصرح كان داخلا في الإعانة المحرمة. وإن كان سببا بعيدا، بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها .

 ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکرچی

15/جمادی الآخرۃ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب