03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بکریوں کے کاروبار میں شراکت داری
89830شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میں ایک عزیز کے ساتھ بکریوں کا کاروبار کرنا چاہتا ہوں ، جس میں شراکت داری اور نفع و نقصان کی تقسیم کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ہمارے علاقے میں رائج طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ مثلاً میں ایک شخص کو 30،000 روپے کی ایک بکری خریدکردیتا ہوں، اور وہ شخص اس کی دیکھ بھال کرے گا اور چارہ وغیرہ کا انتظام کرے گا۔ کچھ عرصے کے بعد جب وہ بکری یا اس کے بچے اگر 60،000 روپے میں فروخت ہوتے ہیں تو رائج طریقہ کار کے مطابق سب سے پہلے میں اپنے 30،000 روپے الگ کر لونگا اور بقیہ رقم کو برابر تقسیم کرلیا جائے گا ۔اگر کوئی اضافی خوراک (دانہ یا ونڈہ وغیرہ جوکہ معمول کی خوراک سے ہٹ کر ہوگی) یا جانور کی بیماری وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے تو وہ بھی میرے ذمے ہوگا، اور وہ مثلاً اگر اس صورت میں 5،000 روپے بنتا ہے تو میں فروخت کے وقت پہلے 30،000 الگ لے لوں گا اور پھر 5،000 اضافی خرچ والے بھی لے لوں گا اور بقیہ 25،000 کو برابر تقسیم کر لیا جائے گا۔ اگر اس کاروبار میں کسی قسم کا نقصان ہوتا ہے تو اس میں بھی دونوں فریق اسی حساب کے بعد برابر کے شریک ہوں گے ۔ گذارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کہ: 1۔ آیا یہ طریقہ کار درست ہے یا نہیں؟2۔ اگر نہیں تو صحیح طریقہ  بتا دیں۔ 3۔ نیز اگر اسی قسم کے کاروبار میں خواہ وہ بکریوں کا ہو یا گائے بھینس وغیرہ کا ہو تو اس میں دودھ یا اس کی آمدن کے حوالے سے بھی بتا دیں کہ  اس کی بھی تقسیم ہوگی یا نہیں ،اور ہوگی تو کس طرح ہوگی؟ 4۔ اگر بڑے جانوروں (گائے بھینس) کا کام ہو تو کیا دیکھ بھال کرنے والا فریق ان جانوروں کو کام کاج میں ( ذاتی یا اسی کاروبار کے کام کے لیے) استعمال کر سکتا ہے یا نہیں ،مثلاً ان سے سامان وغیرہ کی نقل و حمل کاکام لینا؟

نوٹ:سائل سے فون پر رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ نقصان کی تقسیم میں یہ طریقہ رائج ہے کہ مثلا   اگر صورت مذکورہ  میں ایک سال سنبھالنے کے بعد یہ بکری 30,000کی فروخت ہوئی(مطلب سال بھر کے خرچے اور محنت رائگان گئی،تو شریک اول اپنا پیسے مکمل وصول کرےگا دوسرے کو کچھ نہیں ملے گا۔اسی طرح اگر 25000فروخت ہوئی،کام کرنے والا شریک پانچ ہزار اپنے جیب سے ملاکر 30,000واپس کرتاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں شرعاً شرکت قائم ہی نہیں ہوتی ،اور یہ عقدِ اجارہ ہے ،لیکن اجرت متعین نہ ہونے کی وجہ سے اجارہ  فاسدہ ہے ،جس میں کام کرنے والے کو  کام کے عوض اجرتِ مثل   ملتی ہے،اورجتنا  چارہ پر خرچ کیا ہے اس   کی قیمت واپس لے گا۔

درست طریقہ یہ ہے:مثلاً آپ تیس ہزار روپے کا ایک جانور خریدیں، پھر اس جانور کا آدھا حصہ اپنے شریک کو پندرہ ہزار روپے میں فروخت کر دیں۔اس طرح وہ پندرہ ہزار روپے اس کے ذمے دین ہو جائیں گے، جو آپ آخر میں اس سے وصول کر لیں گے(اب اس صورت میں جانورمیں  دونوں کی شرکتِ ملک قائم ہوئی)اب اس کے بعد  آپس میں یہ طے کرلیں کہ اس جانور کی دیکھ بھال کرلیں گےپھر   اس کو  آگے فروخت کرکے اس سے جو نفع ہوگا وہ آپس میں اپنی رضامندی سے طے شدہ تناسب سے  تقسیم کرلیں  گے(اب اس جانورمیں  دونوں کی شرکتِ عقدقائم ہوئی ) اب چونکہ جانور مشترک ہے، اس لیے اس کی دیکھ بھال اور چارے کا خرچ بھی دونوں کے ذمے ہوگا۔البتہ اگر کوئی شریک اپنی خوشی سے بغیر معاوضہ (تبرعاً) جانور کی دیکھ بھال اپنے ذمے لے لے تو یہ جائز ہے۔لیکن اگر جانور کو سنبھالنا ایک شریک کے ذمے شرط لگائی جائے تو اس صورت میں  جو شریک کام نہیں کرتا،اس کا نفع   اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہیں رکھ سکتے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ نقصان   ہر صورت میں سرمایہ کے تناسب سے  ہی برداشت کرنا لازم ہے  ۔

جب آخر میں جانور بیچا جائے توجتنی مالیت کا فروخت ہواہے اس سے پہلے اپنے راس المال (موجادہ صورت میں 15,15ہزار )الگ کریں گے ،جس میں سے 15ہزار آپ کے اپنے ہیں ،باقی 15 ہزار آپ اپنا  دین وصول کریں گے،اور اس کے بعد باقی رقم دونوں میں طے شدہ نفع کے تناسب سے  مثلاً  50,50فیصد تقسیم کر لیں۔

اسی طرح جانور کا دودھ بھی دونوں کا مشترک ہوگا،لہٰذا:

1 ۔یا  طے شدہ مقدار کے مطابق آپس میں تقسیم کر لیں۔

2۔یا دودھ بیچ کر اس کی رقم آپس میں تقسیم کر لیں۔

3۔یہ بھی جائز ہے کہ ایک شریک اپنے حصے کا دودھ دوسرے کو تبرعاً  دے دے،اور دوسرا شریک تبرعاً جانور کے چارے اور دیکھ بھال کا خرچ برداشت کر لے۔

مشترکہ مال کو ذاتی استعمال میں لانا اسی وقت جائز ہے جب دوسرا شریک اجازت دے۔دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر مشترکہ  مال میں تصرف شرعاً جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (4/ 445):

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة.

وفي مجلة الأحكام العدلية (1/87):

الإجارة الفاسدة نافذة،لكنّ الآجر يملك فيها أجر المثل و لا يملك أجر المسمّى.

وفي مجلة الأحكام العدلية(1/257):

لا يصحّ عقد الشركة على الأموال التي ليست معدودة من النّقود، كالعروض والعقار. يعني لا يجوز أن تكون هذه رأس مال الشركة إلا أن الشّخصين إذا أرادا أن يتّخذا المال الذي ليس من قبيل النقود رأسَ مال، فكُلّ واحدٍ مّنهما يبيع نصفَ ماله للآخر .وبعد حصول اشتراكهما يجوز لهما عقد الشركة على هذا المال المشترك. كما لو كان لاثنين نوع مال من المثليات، مثلا:لكلّ واحد مقدارُ حنطة، فخلط أحدهما بالآخر، فبعد حصول شركةالملك يجوز لهما أن يتخذا هذا المال المخلوط رأس مال ويعقدا عليه الشركة.

وفي مجلة الأحكام العدلية (1/259):

استحقاقُ الربح إنما هو بالنظر إلى الشرط المذكور في عقد الشركة، وليس هو بالنظر إلى العمل الواقع؛ فالشريك المشروطُ عملُه ولو لم يعمل يُعَدُّ كأنه عمل. مثلاً: السريكان شركةً صحيحةً في حال اشترط العملَ على كليهما إذا عمل أحدُهما و لو  لم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر،يقسّم الربح بينهما على الوجه الذي اشترطاه حيث كلّ واحد منهما وكيل عن الآخر،فبعمل شريكه يُعدّ هو أيضاً كأنه عمل.

وفي مجلة الأحكام العدلية (1/220):

تفريق العين المشترك و تبعيضها  إن لم يكن مضرّاً بأحد الشركاء ،فهي قابلة للقسمة.

و في الهندية(2/321)دارالكتب العلمية:

و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.

احسان اللہ گل محمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 22  /7/7144ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب