| 89829 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص نے نکاح کیا ہے، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، لیکن میاں بیوی آپس میں ملاقات کر چکے ہیں (صحبت بھی ہو چکی ہے)۔ ایک موقع پر اُس شخص کو اپنے کچھ دوستوں پر سخت غصہ آیا، تو اس نے زبان سے یہ الفاظ کہے: اگر میں نے ان لوگوں سے بدلہ نہ لیا تو میری بیوی کو طلاق۔اب معاملہ یہ ہوا کہ اگلے دن جب بدلہ لینے کا وقت آیا، تو وہ شخص پچھلے جیسا غصہ محسوس نہیں کر رہا تھا، لیکن پھر بھی اُس نے ان افراد کے خلاف بدلہ کا کوئی اقدام کیا (مثلاً سرزنش، معمولی سزا، یا ناراضگی کا اظہار)، اور ان سے نرمی سے بات بھی کر لی۔ اب سوال یہ ہے کہ:. کیا اس طرح نرمی کے ساتھ بدلہ لینا شرط کو پورا کر دیتا ہے؟ 2. اگر شرط پوری ہو گئی، تو کیا طلاق واقع نہیں ہوئی؟ 3. اگر بدلہ کا عمل کیا مگر شدت کم رکھی، تو کیا طلاق واقع ہوگی؟ 4. اس طرح کے معاملات میں کیا قسم کا کفارہ لازم ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سرزنش، معمولی سزا، یا ناراضگی کا اظہار اس کے عمل کا بدل بن سکتاہے،اور عرف میں یہ کہاجائے گا کہ اس نے بدلہ لیا ہے ،تو شرط پوری ہوگئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی ،ورنہ موت واقع ہونے تک قائل کو مہلت حاصل ہے کہ بدلہ لے،اگر نہیں لیا تو موت واقع ہونے سے پہلے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔باقی قسم کا کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
وفي شرح التنوير(455/9):
("باب التعليق" هو ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى)و يسمّى يميناً مجازاً.
و تحته في الرد:والمراد باالمضمون:ما تضمّنَته الجملةُ مِن المعنىٰ.
وفي شرح التنوير(456/9):
فلغا قوله لأجنبية:إن زُرتِ زيداً فأنتِ طالق،،،إلى أن قال:وفي البحر:إنّ زيارة المرأة في عرفنا لاتكون إلّا بطعامٍ معها، يُطبَخ عند المزور.
و تحته في الرد:قلت(ابن عابدين):هذا العرف في دمشق غير مُطّرد،بل كان و بان.
وفي البحر الرائق(4/4):
فلو كان الشرط زيارتها فذهبت من غير قصد الإكرام لم يحنث، وفي عرفنا: زيارة المرأة لا يكون إلا بطعام معها يطبخ عند المزور، وفي المحيط حلف ليزورن فلانا غدا أو ليعودنه فأتى بابه، واستأذنه فلم يؤذن له لا يحنث.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/7/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


