03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر اللہ کی قسم کھانے کا حکم
89704قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میں نے یہ قسم کھائی  کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا اور پھر وہ کام کرلیا یعنی میری قسم ٹوٹ گئی، پھر اس کے بعد بھی میں نے وہی کام کر لیا، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

تنقیح : کوئی گناہ چھوڑنے کی قسم کھائی تھی کہ نبی پاک ﷺ کی قسم میں اب  فلاں گناہ کا ارتکاب نہیں کروں  گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے علاوہ کسی کی قسم کھانے سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔

 لہٰذا صور ت مسئولہ میں آپ پرایسی  قَسم توڑنے کی وجہ سےکفارہ  تو واجب نہیں ہوا ، البتہ اس طرح کی قَسم کھانے اور گناہ کے مرتکب ہونے کی بناء پرتوبہ واستغفارضرورکرنا چاہیے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 712):

 (قوله ‌لا ‌يقسم ‌بغير ‌الله تعالى) عطف على قوله والقسم بالله تعالى: أي لا ينعقد القسم بغيره تعالى بل يحرم كما في القهستاني، بل يخاف منه الكفر.

الاختيار لتعليل المختار (4/ 51):

وإذا لم يجز ‌الحلف ‌بغير ‌الله تعالى لا يلزمه به كفارة لأنه ليس بيمين.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (7/ 396):

وسمع ابنُ عمر رجلاً يحلف: لا والكعبة، فقال له ابن عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من حلف بغير الله فقد أشرك".ففي هذه الأخبار كلها النهي عن ‌الحلف ‌بغير ‌الله.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

15 /رجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب