| 89542 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں ........ زوجہ ........... آپ کی خدمت میں ایک اہم مسئلہ عرض کرنا چاہتی ہوں جس میں ہمیں شرعی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے: میرے والد محترم گل رحمان(مرحوم) وفات پا چکے ہیں، ان کے ترکہ(میراث)میں 9 تجارتی دکانیں شامل ہیں جو کہ مالیت، جگہ اور اہمیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ ان کے ورثاء میں:4بیٹے، 8 بیٹیاں اور 2 بیویاں شامل ہیں۔والد مرحوم نے زندگی میں شرعی تقسیم نہیں کی تھی۔ مقامی جرگہ کے ذریعے ان دکانوں کی تقسیم اس طرح کی گئی ہےکہ ایک دکان دونوں بیویوں کو دے دی گئی اور باقی 8 دکانیں چاروں بیٹوں میں اس طرح تقسیم ہوئی کہ ہر بیٹے کو دو دکانیں دی گئی۔ہر بیٹے کے ساتھ دو بہنوں کو شریک کر کے یہ طے کیا گیا کہ وہ ہر بہن کو 3 لاکھ روپے پانچ سال کے اندر ادا کریں گے۔ اہم نکتہ: بیٹوں کو جو دکانیں دی گئی ہیں، ان کی مالیت یکساں نہیں۔حنیف الرحمٰن، نعمت اللہ، اور شاہد گل کو جو دکانیں ملی ہیں وہ زیادہ قیمتی ہیں۔لطیف اللہ کو جو دکانیں ملی ہیں وہ نسبتا کم مالیت کی ہے۔لطیف اللہ کے ساتھ مجھے (سائلہ) اور ایک اور بہن کو شریک کیا گیا ہے، جس سے میرے شرعی حصے پر بھی اثر پڑا۔ اب ہم درج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی حکم معلوم کرنا چاہتے ہیں:
۱-کیا اس طرح کا جرگہ فیصلہ جس میں دکانوں کی قیمت،مالیت اور محلِ وقوع کو نظر انداز کرکے صرف عدد کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا ہو شرعاً اور قانونا جائز اور معتبر ہے؟
۲- کیا بھائیوں کو دکانیں دینا اور بہنوں کو صرف معمولی نقد رقم (3 لاکھ روپے) دینا، جبکہ دکانوں کی اصل قیمت کئی گنا زیادہ ہے، شرعی وراثت کے اصولوں کے مطابق ہے؟
۳ -والد محترم کے انتقال کے بعد فیصلے سے قبل تقریباً دو سال تک ان دکانوں کا کرایہ (لطیف اللہ کے علاوہ) دوسرے بھائیوں نے وصول کیا ہے۔ کیا شرعاً اور قانونا اس کرائے میں میرا حق نہیں بنتا؟
۴-اگر یہ تقسیم غیر شرعی ہے تو قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح اور عادلانہ تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا؟ہم آپ کی طرف سے مستند،مدلل اور واضح شرعی جواب کے منتظر ہیں تاکہ خاندان میں انصاف اور شرعی اصول کے مطابق فیصلہ ہو سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
درج بالا سوالات کا جواب دینے سے پہلے چند باتیں بطور تمہید ذکر کرنا ضروری ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ہر وارث کا حصہ تفصیل سے بیان فرمایا ہے، لہذا ہر علاقائی جرگہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق تمام ورثہ میں میراث کو قیمت کا لحاظ کرتے ہوئے منصفانہ طور پر تقسیم کریں ۔تاہم اگر کسی علاقائی جرگہ کے فیصلے میں ایسا نہیں کیاگیالیکن تمام ورثہ نے اس تقسیم پر بلا جبر رضامندی ظاہر کرلی تو یہ تقسیم بھی تمام ورثہ پر لازم ہو جاتی ہے۔ لہذا اس کے بعد کسی وارث کا تقسیم کا غیر منصفانہ ہونے کا دعوی کرنےکی وجہ سے یہ تقسیم ختم نہیں ہو سکتی۔ البتہ اگر کوئی وارث یہ دعوی کرے کہ یہ تقسیم کرنے والوں نے جبرا نفاذ کیاہے،یا حسابات غلط دکھا کردھوکہ دیاگیا، یا فیصلہ کرنے والوں نے رشوت لے کر یہ جانبدارانہ فیصلہ کیاہےتو ایسی صورت میں اگر ثبوت مہیاکیے جائیں تو سابقہ تقسیم کالعدم ہوسکتی ہے، یہ تو اصولی بات ہے۔باقی اگر واقعتا بعض ورثہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہواور دیگر ورثہ راضی ہوں تو وہ ناراض ورثہ کے ساتھ مصالحت کرتےہوئے کچھ ادائیگی کردیں تاکہ ان کو ان کا حق بھی مل جائے اور آپس کا تعلق اورمحبت بھی برقرار رہے۔
سوال میں ذکر کردہ امور اگر واقع کے مطابق ہوں تو:
۱- درج بالا تمہید میں اس کی تفصیل ذکر کر دی گئی ہے۔
۲ -درج بالا تمہید میں اس کی تفصیل ذکر کر دی گئی ہے۔
۳-ترکہ میں تمام ورثہ کے درمیان شرکت ملک ہوتی ہے، ترکہ سے اگر کرائے کی صورت میں کوئی نفع حاصل ہوتو اس میں تمام ورثہ اپنے حصے کے بقدر برابر کے شریک ہوتے ہیں۔لہذا آپ کے والد کی وفات کے بعد جتنی مدت تک آپ کے جن بھائیوں نےدکانوں کا کرایہ وصول کیا تھا اس میں تمام ورثہ اپنے حصے کے تناسب سے برابر کے شریک تھے، لہذا جن ورثہ کو کرایہ سے محروم رکھاگیا تھا ،ان کوان کے حصص کے مطابق کرایہ دینے کے وہ ورثہ ضامن ہیں جنہوں نے کرایہ وصول کیا تھا۔
۴-اگر ورثہ باہمی رضامندی سے ترکہ کو دوبارہ شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا چاہے تو ذیل میں تمام ورثہ کا حصہ ذکر کیا گیا ہے۔
آپ کے والد نے ترکہ میں جو کچھ چھوڑا ہو چاہے وہ منقولی ہو یا غیر منقولی اس میں سب سے پہلے تجہیز وتکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائےبشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے بطور تبرع ادا نہ کی ہو، اس کے بعد اگر ان کے ذمہ کسی کا قرضہ ہوتو اس کی ادائیگی کی جائے ۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی مال میں سے نافذ کیا جائے اور اس کے باقی مال کو ورثہ میں درج ذیل حصص کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا ۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ میں سےفیصدی اعتبار سے دو نوں بیویوں میں سے ہر بیوی کو 6.25% اور ہر بیٹی کو5.46875% اور ہر بیٹے کو% 10.9375 دیاجائے گا۔
|
وارث کانام |
عددی حصہ (کل عددی حصے: 128) |
فیصدی حصہ |
|
بیوی (زینب) |
8 |
6.25% |
|
بیوی (فاطمہ) |
8 |
6.25% |
|
بیٹی (کلثوم) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی (خدیجہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی(عائشہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی (آمنہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی (سلمی) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی (صالحہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی(صادقہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹی (ساجدہ) |
7 |
5.46875% |
|
بیٹا(حنیف الرحمان) |
14 |
10.9375% |
|
بیٹا(شاہد گل ) |
14 |
10.9375% |
|
بیٹا (نعمت اللہ ) |
14 |
10.9375% |
|
بیٹا (لطیف اللہ) |
14 |
10.9375% |
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية (7/ 26):
"منها أن تكون عادلة غير جائرة وهي أن تقع تعديلا للأنصباء من غير زيادة على القدر المستحق من النصيب ولا نقصان عنه؛ لأن القسمة إفراز بعض الأنصباء ومبادلة البعض، ومبنى المبادلات على المراضاة، فإذا وقعت جائرة لم يوجد التراضي، ولا إفراز نصيبه بكماله؛ لبقاء الشركة في البعض، فلم تجز وتعاد."
رد المحتار ط: الحلبي(6/ 264):
(ولو ادعى أحدهم أن من نصيبه شيئا) وقع (في يد صاحبه غلطا وقد) كان (أقر بالاستيفاء) أو لم يقر به ذكره البرجندي (لم يصدق إلا ببرهان) أو إقرار الخصم أو نكوله.
قال العلامة ابن عابدين: وإنما احتيج للبرهان هنا أيضا لما في الخانية من أن الظاهر وقوع القسمة على وجه المعادلة فلا تنقض إلا ببينة، وإن لا بينة ،فبالنكول (قوله :أو نكوله) فلو كانوا جماعة ونكل واحد جمع نصيبه مع نصيب المدعي وقسم بينهما على قدر أنصبائهما كما في الهداية.
رد المحتار ط الحلبي (6/ 267):
"(ولو ظهر غبن فاحش) لا يدخل تحت التقويم (في القسمة) فإن كانت بقضاء (بطلت) اتفاقا؛ لأن تصرف القاضي مقيد بالعدل ولم يوجد (ولو وقعت بالتراضي) تبطل أيضا (في الأصح) لأن شرط جوازها المعادلة ولم توجد ،فوجب نقضها خلافا لتصحيح الخلاصة."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(8/ 178):
(ولو ظهر غبن فاحش في القسمة تفسخ) وهذا إذا كانت بقضاء القاضي ،فظاهر؛ لأن تصرفه مقيد بالعدل والنظر، وأما إذا كان بالتراضي، فقد قيل : لا يلتفت إلى قول مدعيه؛ لأن دعوى الغبن لا تعتبر في البيع، فكذا في القسمة لوجود التراضي، وفيه يفسخ هو الصحيح ،ذكره في الكافي، وفي العناية وهو الصحيح وعليه الفتوى.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 174):
(سئل) فيما إذا ادعى أحد متقاسمي دار أن من نصيبه شيئا وقع في يد صاحبه غلطا وقد كان أقر بالاستيفاء ويريد إقامة بينة شرعية على ذلك وقسمتها على قدر نصيبها فيها فهل تقبل؟
(الجواب) : نعم، تقبل بينته، قال في الدرر في كتاب القسمة: أقر أحد المتقاسمين بالاستيفاء، ثم ادعى الغلط في القسمة ،وزعم أن بعضا مما أصابه في يد صاحبه وقد كان أشهد على نفسه بالاستيفاء لا يصدق إلا بحجة اهـ ومثله في التنوير، والكنز القدوري، والوقاية، والملتقى وغيرها وعبارة الوقاية وشرحها لصدر الشريعة فإن أقر أحد المتقاسمين بالاستيفاء ، ثم ادعى أن بعض حصته وقع في يد صاحبه غلطا لا يصدق إلا بحجة ؛ قالوا :لأنه يدعي فسخ القسمة فلا يصدق إلا بالبينة ...وجه رواية المتن أنه اعتمد على فعل القاسم في إقراره باستيفاء حقه، ثم لما تأمل حق التأمل، ظهر الغلط في فعله فلا يؤاخذ بذلك الإقرار عند ظهور الحق اهـ.
الفتاوى البزازية ط: دار الكتب العلمية (/2279)
قسموا الأراضي وأخذوا حصتهم، ثم تراضوا على أن يكون الأراضي مشتركة بينهم كما كانت، عادت الشركه؛ لأن قسمة الأراضي مبادلة، ويصح فسخها وإقالتها بالتراضي.
الدر المختار مع رد المحتار ط : الحلبي (6/ 762):
(يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة.
قال العلامة ابن عابدين: أي القرآن وهم الأبوان والزوجان والبنون والبنات والإخوة والأخوات.
رد المحتار ط: الحلبي (6/ 769):
"(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد."
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 775):
"(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا."
الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت (6/ 448):
"البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات، فيكون للابن مثل حظ الأنثيين."
الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت (2/ 301):
شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما... وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا ... وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ط: دار الجيل (3/ 34):
لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر بلا إذن الشريك وقبض الأجرة ،فيعطى شريكه الآخر حصة من بدل الإيجار ويردها إليه، ويشارك الشريك الآخر المؤجر في بدل الإيجار بنسبة حصته في المال المشترك.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
3/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


