| 89431 | امانتا اور عاریة کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک شخص کی سمرسیبل موٹر وائنڈنگ کی دکان ہے، پچھلے 35 سال سے اب تک دکاندار کے پاس کچھ نئی اور پرانی موٹر یں پڑی ہوئی ہیں، لیکن ان کے مالکان واپس لینے نہیں آتے ہیں ،بعض کے تو مالک بھی وفات پاگئے ہیں، اور ان کے اہل وعیال بھی واپس لینے نہیں آتے۔ دکاندار نے اخبارات میں بھی اشتہار دیا ہے کہ لوگ اپنی موٹر واپس لیں، لیکن ابھی تک کوئی لینے نہیں آیا۔ یہ ساری موٹریں دکاندار کے گھر پر پڑی ہیں، نیا گھر کھنڈربن چکا ہے، گھر کی دیواریں کریک اور فرش خراب ہوگیا ہے، دکاندار نے مالکان کا بہت انتظار کیا ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس گھرمیں دکاندار کو رہائش اختیار کرنی ہے، توکیا وہ ان موٹروں کو فروخت کر سکتا ہے،اور ان پیسوں سے گھر کی مرمت کرسکتا ہے، اورکیا وہ رقم اپنے اوپر خرچ کرسکتا ہے؟ دکاندار کو کچھ لوگوں نے ایڈوانس پیسے دیے ہیں، اور کچھ کے پیسے ابھی باقی ہیں، دکاندار کے پیسے ان موٹر اور سمرسیبل میں بند ہیں۔ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں! مہربانی ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں دکاندار کا بار بار کوشش کرنے کے باوجود بھی اگر ان کےاصل مالکان یا بصورت وفات ان کے ورثہ تک رسائی ممکن نہ ہو، اوردکاندار کو ان کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہوکہ وہ ان اشیاء کو واپس لینے نہیں آئیں گے تو وہ ان موٹروں کو فروخت کرکے جو رقم حاصل ہو ، اس میں سے صرف سامان کی مرمت میں لگائی ہوئی رقم وصول کرلےاور باقی رقم کو اپنے پاس بطور امانت محفوظ کر لےیا صدقہ کردے ۔صدقہ کرنے کی صورت میں اگر کوئی مالک واپس اپنا سامان لینے آئے تو اس کو اختیار ہے کہ یا تو دکاندار کے اس تصرف کو نافذکردے یا اس کو اس رقم کا ضامن بنائے ۔البتہ واضح رہے کہ دکاندار کا مستحق زکاۃ نہ ہونے کی صورت میں ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا بالکل جائز نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار ط :الحلبي (4/ 280):
"وفي التتارخانية عن المضمرات: مال يوجد ولا يعرف مالكه...(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه...(فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه)."
الهداية في شرح بداية المبتدي ط: دار احياء التراث العربي (2/ 418):
قال: " فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها " إيصالا للحق إلى المستحق وهو واجب بقدر الإمكان، وذلك بإيصال عينها عند الظفر بصاحبها وإيصال العوض وهو الثواب على اعتبار إجازة التصدق بها، وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها. قال: " فإن جاء صاحبها " يعني بعد ما تصدق بها " فهو بالخيار إن شاء أمضى الصدقة " وله ثوابها ؛ لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم يحصل بإذنه، فيتوقف على إجازته، والملك يثبت للفقير قبل الإجازة، فلا يتوقف على قيام المحل، بخلاف بيع الفضولي لثبوته بعد الإجازة فيه ،" وإن شاء ضمن الملتقط"؛لأنه سلم ماله إلى غيره بغير إذنه إلا أنه بإباحة من جهة الشرع، وهذا لا ينافي الضمان حقا للعبد كما في تناول مال الغير حالة المخمصة."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الثانیہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


