| 89495 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ہمارے مدرسے کا ایک قانون ہے کہ اگر کوئی استاد یا عملہ مدرسہ کھلنے کی تاریخ پر حاضر نہ ہو تو اس کی آدھی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ اس بار شادی کی وجہ سے مدرسے کی افتتاحی تاریخ پر ایک استاد حاضر نہیں ہوسکا، اس لیے اس کی آدھی تنخواہ کاٹی گئی ہے۔ میں مفتی صاحب سے جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا حکم شریعت کی نظر میں کس حد تک درست ہے؟ ایک دن غیر حاضر رہنے پر اس کی نصف تنخواہ کاٹنا کیسے ممکن ہے؟ براہ کرم مجھے دستاویزات کے ساتھ مطلع کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مدارس میں اساتذہ کی حیثیت شرعاً اجیرِ خاص کی ہوتی ہے، اور اجیرِ خاص اپنے مقررہ وقت کے بدلے مکمل اجرت کا حق رکھتا ہے۔ لہٰذا جب استاد کام کے وقت حاضر ہو تو وہ اس وقت کی پوری تنخواہ کا حق دار ہوتا ہے۔ لہذا جتنے گھنٹوں یا جتنے دنوں کی غیر حاضری ہو، صرف اتنی تنخواہ کاٹنا جائز ہے۔ اس سے زائد، مثلاً ایک دن غیر حاضر ہونے پر ایک دن سے زیادہ یا آدھی تنخواہ کاٹنا شرعاً جائز نہیں۔
کیونکہ جب استاد باقی ۱۴ دن اپنے کام کے وقت حاضر تھا تو وہ اس مقررہ اجرت کا حق دار ہو گیا۔ اب اگر اس کی ایک دن کی غیر حاضری کی وجہ سے آدھے مہینے کی تنخواہ کاٹ لی جائے تو یہ مالی جرمانہ لینے کے مترادف ہے، اور فقہِ حنفی میں مالی جرمانہ لینا جائز نہیں۔ لہٰذا مدارس کی طرف سے اس نوعیت کا کوئی قانون بنانا بھی درست نہیں۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت. شاكر (3/ 626) :
1352 - عن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما. هذا حديث حسن صحيح.
مجلة الأحكام العدلية مع شرحه درر الحكام (1/ 387) :
( المادة 425 ) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة . ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل . أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 70) :
وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.
(قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 44) :
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ...... وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.
المفتی آن لائن میں شائع شدہ فتوی نمبر 86605 میں مذکور ہے:
اسی طرح تنخواہ میں کٹوتی کی اجازت بھی اتنی ہی مقدار میں ہے جس قدر استاد غیر حاضر ہو ، زائد کٹوتی کی اجازت نہیں ہے ۔ لہذا صورت مذکورہ میں اگر اساتذہ کا انتظامیہ سے اس قسم کا معاہدہ ہوا ہےکہ چھ گھنٹےکے حساب سےدس منٹ پر دس روپے کی بقدر تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی تو شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں، اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے، لیکن اس صورت میں اگر کوئی استاد شام کے دو گھنٹے میں غیر حاضر ہےتو دو گھنٹے کے حساب سے ایک سو بیس منٹ کی تنخواہ کاٹنے کی اجازت تو ہوگی اس سے زائد نہیں، کیونکہ اس صورت میں اضافی کٹوتی مالی جرمانے کے زمرے میں آئے گی جو شرعا جائز نہیں ہے ۔
محمد ابرار الحق،
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی،
25/جمادی الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


