03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کا تو مجھ سے فارغ ہے کہنے سے طلاق کاحکم
89663طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام و علمائے کرام کہ: مشتاق حسنین کو بیوی نے کہا کہ’ تو مجھ سے فارغ ہے‘ اور اس کے بعد تقریباً پانچ سال قطع تعلقی کے ساتھ گزارے۔   اس معاملے کے گواہ مشتاق صاحب کے والد اور بھابھی صاحبہ ہیں،  انہوں نے یہ الفاظ اپنے ہوش و  حواس کے ساتھ سنے تھے۔

اس کے بعد مشتاق حسنین نے دوسری شادی کرلی ، جس کے کچھ عرصہ بعد مشتاق صاحب کا انتقال ہوگیا۔ پہلی بیوی نے انتقال کے بعد بھی وہ جملے دوبارہ دہرائے۔ کیا ان کا نکاح برقرار رہا یا نہیں؟ اور پہلی بیوی کو شوہر(مشتاق حسنین مرحوم) کی جائیداد میں سے حصہ ملے گا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا اختیار شرعاً  صرف  شوہر کو حاصل ہے، بیوی کے کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ لہٰذا اگر بیوی نے   شوہر کو مخاطب کرکے  یہ کہا کہ  ’تو مجھ سے فارغ ہے‘ توصرف  اس بات  سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اگر چہ گواہوں کی موجودگی میں کہا ہو۔

اسی طرح پانچ سال کی قطع تعلقی ، شوہر کی دوسری شادی اور بیوی کا شوہر کے انتقال کے بعد  وہ جملہ دہرانا ان باتوں سے بھی نکاح پر  کوئی اثر نہیں پڑتا۔

لہٰذا پہلی بیوی کا نکاح شرعاً برقرار تھا اور شوہر کا انتقال حالتِ نکاح میں ہواہے۔ پس پہلی بیوی کو مرحوم شوہر کی جائیداد میں سے اپنا مقررہ  حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

    الدر المختار  ( 205):

(ومحله المنكوحة) وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 465):

وأما محاسنه فمنها ثبوت التخلص به من المكاره الدينية والدنيوية ومنها جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (3/ 263):

قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله وهو بيان للمحل وشرائطه فأشار إلى محله بذكر الزوج فإنه الزوجة ولو حكما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3/ 190):

(قوله لأن الطلاق لا يكون من النساء) بل الذي يكون من المرأة عند القدرة على الفرقة شرعا هو الفسخ فينوب القاضي منابها فيما تملكه.

حاشية ابن عابدين(3/ 226):

(هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاق......وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق.

القرأن الكريم ( النساء : 12):

"وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. "

فتاوی محمودیہ ( 12/262)میں ہے:

عورت کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، طلاق دینے کا حق مرد کو ہے۔

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/رجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب