| 89707 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والدہ ،ایک بہن ،ایک بھائی کے درمیان میراث کی تقسیم
ایک بندہ فوت ہوجائےاس کی کوئی اولاد نہ ہو ،بیوی کو طلاق دے دی ہواور اپنی زندگی میں اس کو اس کےتمام حقوق دے دی ہو۔ورثا ء میں صرف بیوہ والدہ، فوت شدہ شخص کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو۔ ترکہ کی رقم 40 لاکھ ہو تو والدہ،بھائی اور بہن کے حق میں کتناحصہ آئےگا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ترکۃ میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی جو مرحوم کے ذمہ واجب تھااور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) تک اس پرعمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو مال بچے وہ تقسیم ہوگا،لہذاصورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بالاتمام حقوق کی ادائیگی کے بعد (40)لاکھ روپے ترکہ میں بچے ہوتواس کی تقسیم کچھ یوں ہے ،کہ والدہ کو چھ لاکھ، چھیاسٹھ ہزار، چھ سو چھیاسٹھ روپے(6,66,666)ملیں گے اور بھائی کوبائیس لاکھ، بائیس ہزار،دوسوبائیس روپے(22,22,222) ملیں گےاور بہن کوگیارہ لاکھ، گیارہ ہزار، ایک سو گیارہ روپے (11,11,111)ملیں گے۔
ذیل میں ہر ایک کے فیصدی اور عددی حصہ لکھا گیا ہے۔
|
ورثہ |
فیصدی حصہ |
عددی حصہ |
ملنے والی رقم |
|
والدہ |
16.66% |
3 |
666,666 |
|
بھائی |
55.56% |
10 |
2,222,222 |
|
بہن |
27.78% |
5 |
1,111,111 |
|
مجموعہ |
100% |
18 |
3,999,999 |
حوالہ جات
[النساء: 11]
ﵟفَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ ﵞ
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 448):
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.
شرح مختصر الطحاوي للجصاص (4/ 84):
فجعل لها السدس مع الولد، واسم الولد يتناول ولد الابن، وكذلك مع الإخوة، واسم الإخوة يتناول الاثنين منهم فصاعدا.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 447):
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
08/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


