| 89178 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
اگربھایٸوں اور بہن کی مشترک زمین ہے اوروالدوفات ہے اور بہن کی رخصتی ہواہے شدی شدہ ہےاور بھاٸیوں زمین پر گندم وغیرہ کوٸی فصل اگاٸی مسلہ یہ ہے کہ کیا اپنے بھاٸیوں اپنے بہن کو اس مشترک زمین سے عشر یا زکواة دے سکتا ہےبہن کواور بہن کی حصہ بھی ہے اس زمین میں جو مشترک اور اپنے بھاٸیوں نے عصب کیا ہے مدلل جواب دو؟؟؟؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بہن اگر مستحق ِزکاۃہوتوبھائی اسےپیداوار کا عشر دے سکتا ہے۔تاہم بہن کاجائیداد میں جو حصہ بنتاہےوہ ان کے حوالے کرناضروری ہے،اور ان کے حصہ کے بقدر پیداوار بھی ان کو دینی چاہیے۔صاحب ِحق کے مال پر ناحق قبضہ کرنااوراسے اپنے حق کی وصولی سے محروم کرناحرام ہے، ایساکرنے والوں کے لیے نصوص میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة (12/ 232 ت الشثري):
عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه من سبع أرضين".
المحيط البرهاني (2/ 325):
وقوله تعالى: {وآتو حقه يوم حصاده} (الأنعام: 141) والمراد من الحق المذكور في الآية العشر، وقوله عليه السلام: ما سقته السماء ففيه العشر، وما سقي بقرب دالية، أو ساقية ففيه نصف العشر.
الأصل لمحمد بن الحسن (10/ 60):
وإذا اغتصب الرجل أرضا من أرض العشر أو من أرض الخراج، فزرعها وأخرجت زرعا كثيرا، ولم تنقصها الزراعة شيئا، فإن الخراج على الزارع والعشر فيما أخرجت الأرض.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 189):
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان... ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الآخرۃ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


