| 89871 | وکیل بنانے کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
رب المال کا تیسرے شخص کی رقم مضاربت میں لگا کر بلااجازت اس کے پیسوں سے نفع لینا
اگرایک آدمی نےاپنےپیسےمضاربت پرکسی کودئے ہوےہیں، اسے کسی اور نےبھی اپنےپیسےدئےکہ یہ میرےپیسےبھی اسی کو مضاربت پردواورجومنافع آئے مجھےدےدینا۔اب سوال یہ ہےکہ اس شخص کے لیے اس دوسرےآدمی کےپیسوں پربغیراس کوبتاےکچھ منافع خودرکھناجائزہوگایانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں یہ شخص تیسرے شخص کا وکیل ہے ۔وکالت بلاعوض بھی درست ہوتی ہے اور اگر عوض لیناہوتووکیل اور مؤکل کی باہمی رضامندی سے اجرت متعین ہونالازمی ہے، یا وکیل ایسا ہو جس کا عرفااجرت کے بدلے کام کرنا معروف اور معمول ہو۔ صورت مسئولہ میں ایسی کوئی صورت نہیں پائی جاتی لہذارب المال کے لیے بلااجازت اس تیسرے شخص کے نفع سے کچھ اپنے لیے رکھناجائز نہیں ۔
حوالہ جات
دررالحكام شرح مجلة الأحكام(574,573/3):
إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً. فليس له أن يطالب بالأجرة)يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى.وفي الفاسدة أجر المثل... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة أنظر المادة.
البحرالرائق شرح کنز الدقائق(369/2)):
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيراً كان أو صغيراً وإلى امرأته إذا كانوا محاويج ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئاً .
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
30/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


