03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اونچی پہاڑی پر افطار اور سحری کا وقت
89959نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

محترم مفتی صاحب !ایک اہم مسئلہ جو فلکیات یعنی نمازوں اور افطار کے متعلقہ ہے ،اسکی اگر وضاحت فرمادیں تو نوازش ہوگی۔  ہم کشمیر کے وادی نیلم کے تقریبا آخری علاقہ کے رہائشی ہیں ۔وہاں صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ نیچے دریا نیلم کے ساتھ ساتھ آبادیاں ہیں اور دریا کے دونوں طرف بلند وبالا پہاڑ ہیں ،بعض پہاڑ اتنے اونچے ہیں کہ انکی چوٹی تک پہنچنے کیلئے کئی گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے ،اب جب صبح نیچے آبادی گاؤں میں سورج کی  کرنیں پڑتی ہیں تب اور جب پہاڑی کی چوٹی پر کرنیں پڑتی ہیں  ان دونوں وقت میں کافی سارا فرق پڑتا ہے ، اسی طرح شام کے وقت سورج دوسری طرف پہاڑی کے پیچھے جلدی چھپ جاتا ہے جس کی وجہ سے گاوں کی آبادی میں ٹائم سےپہلے سورج غائب ہوتا ہے،  تو پوچھنا یہ تھا کہ سورج کے طلوع اور غروب کا اعتبار پہاڑ کی چوٹی کا کیا جائے گا یا نیچے دریا کے ساتھ موجود آبادی کا کیا جائے گا۔افطار کون سے وقت کے مطابق کیا جائے، کس کا اعتبا ر ہوگا ؟ گوگل ارتھ سے دونوں جگہوں کا سکرین شارٹ بھیج رہا ہوں جہاں نیچے طول بلد اور عرض بلد کی تفصیل موجود ہے جس سے آپ کو مسئلہ سلجھانے میں صحیح رہمنائی مل سکتی ہے۔جزاک اللہ خیر

چونکہ سکرین شارٹ یہاں پیسٹ نہیں ہورہا ہے اس لئے میں نے ا سے دیکھ کر وہ یہاں لکھ رہا ہوں ، عرض بلد 34:46 اور طول بلد74:31،  یہ نیچے آبادی کا ہے ، اور اوپر پہاڑی کی چوٹٰی کا عرض بلد34:50 اور طول بلد74:31 ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آدمی جس مقام پر موجود ہو، اوقاتِ عبادات میں اسی مقام کے وقت کا اعتبار ہوگا اور یہی حکم طلوع و غروبِ آفتاب کے بارے میں بھی ہے۔ لہٰذا نماز اور روزہ کے احکام میں اسی جگہ کے وقت کو معتبر سمجھا جائے گا جہاں آدمی موجود ہو۔ پس اگر کوئی شخص کسی اونچے پہاڑ پر ہو اور وہاں سے صبح کے وقت سورج نظر آنا شروع ہوجائے  تو اس کے لیے نماز فجر کا وقت ختم شمار ہوگا، اگرچہ سطحِ زمین پراب  تک آفتاب نظر نہ آیا ہو۔ اسی طرح شام کو پہاڑپر موجود شخص کو    جب تک  پہاڑ کی بلندی سے سورج آنکھوں  سے نظر آرہاہے ، اس کے لیے افطار کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگرچہ نیچے وادی میں موجود لوگوں سے وہ سورج غروب ہوجائے، لیکن نیچے وادی میں موجود شخص کے لیے  اپنے مقام کے طلوع و غروب کا اعتبار ہوگا۔ وہاں چونکہ سورج طلوع یا غروب ہونا نظر نہیں آتا، لہذا حسابات کے اعتبارسے  جو وقت ہوگا وہی طلوع و غروب کا وقت سمجھا جائے گا ،  بے شک پہاڑ کی چوٹی پر روشنی نظر آرہی ہے اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 371)

والمراد بالغروب زمان غيبوبة جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة الشرق قال - صلى الله عليه وسلم - «إذا أقبل الليل من هنا فقد أفطر الصائم» أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد ظهر وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم؛ لأن الليل ظرفا للصوم وإنما أدى بصورة الخبر ترغيبا في تعجيل الإفطار كما في فتح الباري قهستاني.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 365)

قوله: حديث الدجال) هو ما قدمناه في كلام الكمال. قال الإسنوي: فيستثنى هذا اليوم مما ذكر في المواقيت، ويقاس اليومان التاليان له. قال الرملي في شرح المنهاج: ويجري ذلك فيما لو مكثت الشمس عند قوم مدة. اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 371)

 (قوله: وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 370)

(هو) لغة (إمساك عن المفطرات) الآتية (حقيقة أو حكما) كمن أكل ناسيا فإنه ممسك حكما (في وقت مخصوص) وهو اليوم (من شخص مخصوص) مسلم كائن في دارنا أو عالم بالوجوب طاهر عن حيض أو نفاس (مع النية) المعهودة.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 302)

وفي الشرع: إمساك عن الجماع، وعن إدخال شيء بطنا له حكم الباطن من الفجر إلى الغروب عن نية.

 الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 40)

أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني وهو البياض المعترض في الأفق وآخر وقتها ما لم تطلع الشمس .

 الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 40)

وأول وقت المغرب إذا غربت الشمس وآخر وقتها مالم يغب الشفق.

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

24/شعبان/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب