| 89451 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں کچھ عرصہ پہلے thumbnail designing کا کام کرتا رہا ہوں اور میرے کچھ کلائنٹس تھے، جیسے: WNBA نیوز جیسے چینلز (عورتوں کے باسکٹ بال کھیل کی خبریں)، اور کچھ دوسرے یوٹیوب کلائنٹس۔مسئلہ یہ ہے کہ میں تھمب نیل بناتے وقت اکثر گوگل یا مختلف ویب سائٹس سے تصاویر ڈاؤن لوڈ کر لیتا تھا، بغیر یہ دیکھے کہ وہ licensing / copyright / permission کے مطابق ہیں یا نہیں۔ بعض تھمب نیلز میں blur شدہ یا فحش قسم کی تصاویر شامل تھیں، جو مکمل واضح نہیں تھیں مگر تھوڑی ڈسٹارٹڈ اور غیر اخلاقی لگتی تھیں۔بعض تھمب نیلز میں متن میں گالی یا نازیبا جملے شامل تھے (جیسے: فلاں کھلاڑی ایسا ہے)، یا کبھی ایسے بھی دکھایا جاتا تھا کہ ان میں سے ایک کھلاڑی دوسرے کو گالی دے رہا ہے یا برا بھلا کہہ رہا ہے۔ حقیقت میں کہا تھا یا نہیں، اس کا علم نہیں۔ ہوسکتا ہے کہا ہو اور ہوسکتا ہے نہ کہا ہو۔ مجھے کلائنٹ نے کچھ reference چینلز دکھائے ہوئے تھے کہ آپ نے اسی اسٹائل میں تھمب نیل ڈیزائن کرنے ہیں، اور ان میں اسی طرح کبھی گالی وغیرہ شامل ہوتی تھی۔بعض تھمب نیلز میں جن کھلاڑیوں کی تصویریں استعمال کرتا تھا، وہ میں دوسرے لوگوں کے thumbnails سے ہی لے لیا کرتا تھا۔ میں یہ سب ایڈٹ کر کے کلائنٹس کو تھمب نیل فراہم کرتا تھا اور اس کام سے کچھ آمدنی حاصل کرتا تھا۔
اب میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
کیا ایسی تصاویر — یعنی گوگل سے بغیر اجازت ڈاؤنلوڈ کی گئی تصاویر یا دوسرے thumbnails سے لی گئی تصاویر — استعمال کرکے تھمب نیل بنانا شرعی طور پر جائز تھا؟ نیز بعض میں blur فحش تصاویر تھیں، جن میں عورت مکمل کپڑوں میں نہ تھی لیکن مکمل برہنہ بھی نہ تھی — اس کا کیا حکم ہے؟
اگر اس کام سے حاصل شدہ آمدنی کو میں نے استعمال کیا ہے، تو یہ حلال شمار ہوگی یا حرام؟ اور کوئی مال کب حرام ہوتا ہے؟ اگر یہ آمدنی درست نہیں تھی، تو مجھے شرعی طور پر کیا کرنا چاہیے؟ کیا پورا مال صدقہ کر دوں؟ اس میں سے میں نے کم و بیش 10 لاکھ کمائے تھے، جن میں سے تقریباً 2/3 لاکھ کسی کو ادھار دیے ہوئے ہیں، اور کافی صدقہ اور قربانی بھی کی تھی۔ اب میرے پاس زیادہ مال نہیں بچا۔ کچھ باقی ہے۔ اور اس مال میں سے خریدے ہوئے سامان — جیسے کپڑے یا پرفیوم — کا کیا حکم ہوگا؟ کیا ان کو پہننا جائز ہے؟ اور ایسے کپڑوں میں نماز ادا ہو جائے گی؟ اور خریدے گئے AC، water dispenser کا کیا حکم ہے؟
جب میں کماتا تھا تو کبھی خیال نہیں آیا تھا کہ یہ حلال ہے یا ناجائز۔ اس وقت اسی مال سے بہت کچھ کھایا پیا بھی۔ اب ان دنوں میں پڑھی ہوئی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں؟ کیونکہ سنا ہے کہ ایک لقمہ حرام کی وجہ سے 40 دن نماز قبول نہیں ہوتی۔ مجھے تو اس وقت خیال نہ تھا۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے توبہ کر کے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔ اب کچھ کلائنٹس کا کام بہت احتیاط کے ساتھ اور بہت کم مقدار میں کررہا ہوں۔ پہلے جب کماتا تھا تو اس وقت کافی رقم صدقہ بھی دی تھی۔ کیا وہ کافی ہوگی یا مزید کچھ کرنا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی تصویر یا مواد کاپی رائٹ کےتحت نہ آتی ہو تو اسے استعمال کرنا جائزہے۔ لیکن اگر کاپی رائٹ کے تحت آتی ہو تو بغیر اجازت کسی کی ملکیتی تصاویر، مواد یا تھمب نیلز استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
اسی طرح عورت کی بے پردہ تصاویر استعمال کرنا، یا گالم گلوچ اور نازیبا مواد پر مشتمل تھمب نیلز بنانا بھی جائز نہیں۔
پس بغیر اجازت لی گئی تصاویر کی وجہ سے فروخت کردہ تھمب نیلز کی قیمت میں جتنا فرق متوقع ہے وہ ناجائز ہو گا۔ اسی طرح جو فحش تصاویر لگا کر تھمب نیلز بنائے گئے تو اس فحش تصویر نہ لگا تے تو وہ قیمت اور فحش تصویر کے ساتھ والی قیمت کا جو فرق آیا وہ بھی ناجائز ہو گا ۔ اس کے علاوہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی باقی آمدنی حلال ہے۔
حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اسے ثواب کی نیت کے بغیر ضرورت مندوں پر صدقہ کرنا واجب ہوتا ہے۔ اگر حرام مال متعین نہ ہو تو اندازے کے مطابق جتنی مقدار ناجائز آمدنی کی ہے، اتنی رقم صدقہ کر دی جائے۔البتہ اس مال سے جو چیزیں خریدی گئی ہوں، ان کا حکم یہ ہےکہ اگر اس تمام کاروبار میں حلال آمدنی زیادہ تھی ، تو وہ خریدی ہوئی چیزیں حلال شمار ہوں گی اور اگر حرام آمدنی زیادہ تھی یا سارا مال ہی حرام تھا اور آدمی نے حرام مال کو متعین کرکے اسی کے بدلے کوئی چیز خریدی، پھر اس کی قیمت بھی متعین حرام مال سے ادا کی، تو ایسی خریدی ہوئی چیز بھی ناجائز ہوگی۔
اور اگر ایسا نہ ہو، بلکہ مطلقا خرید نے کے بعد اس کی قیمت حرام مال سے اداکی یا حرام مال کےبدلے سے خرید نے کے بعد حلال مال سے اس کی قیمت اداکی تو ان صورتوں میں اس خریدی ہوئی چیزکو استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔
جہاں تک اس زمانے میں ادا کی گئی نمازوں کا تعلق ہے، تو نماز کی فرضیت ادا ہو گئی۔ البتہ وہ اشیاء حرام مال سے خریدی جانے کی وجہ سے توبہ اور استغفار ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ.
قال الله تعالى: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 42)
وإذا كان أحد العوضين أو كلاهما محرما فالبيع فاسد كالبيع بالميتة والدم والخنزير والخمر.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 51)
وإذا قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وفي العقد عوضان كل واحد منهما مال ملك المبيع ولزمته قيمته.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 52)
قال: "فإن باعه المشتري نفذ بيعه"؛ لأنه ملكه فملك التصرف فيه وسقط حق الاسترداد لتعلق حق العبد بالثاني ونقض الأول لحق الشرع وحق العبد مقدم لحاجته ولأن الأول مشروع بأصله دون وصفه، والثاني مشروع بأصله ووصفه فلا يعارضه مجرد الوصف.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 235)
توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ
الفتاوى الهندية (5/ 342)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام.
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
01/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


