| 89703 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
فتوی نمبر (89432/65)کے بارے میں کچھ باتوں کی وضاحت درکار ہے:
1- میری عمر تقریباً تینتیس سال کے لگ بھگ ہے، مجھے نہیں معلوم کہ بلوغت یا پندرہ سال کے بعد مجھے کتنی بار (سوال میں ذکرکردہ کیفیت کے ساتھ) احتلام ہوگیا ہے، صرف پچھلے رمضان کا یاد ہے، جس میں چھ بار ایسا احتلام ہوگیا ہے، اب میں گزشتہ سالوں کےکتنے روزوں کی قضا کرلوں؟مجھے پچھلے روزوں کا کچھ اندازہ بھی نہیں ہے۔
2- گزشتہ سوال میں یہ بات رہ گئی تھی اب شامل کررہا ہوں، احتلام کے عمل کا اکثر حصہ نیند کی حالت میں انجام پاتا ہے،ہاتھ کا استعمال صرف اس وقت ہوتا ہے جب عین انزال کا وقت ہو یا کچھ انزال ہوجانے کے بعد ہاتھ کو استعمال کیا جاتا ہے،اس وقت سے پہلے نہ ہوش رہتا ہے اور نہ ہاتھ کا استعمال، اس تفصیل کے ساتھ بھی روزہ کا یہی حکم ہوگا؟
3- انزال کے وقت بعض اوقات میں اپنے ہاتھ کو روکنے پر قابو پالیتا ہوں اور کبھی نہیں پالیتا،کبھی شروع میں کچھ حرکت دینے کے بعد جب روزہ یاد آجاتا ہے تو ہاتھ روک لیتا ہوں، چونکہ نیم بیداری کی حالت ہوتی ہے اور وہ بھی چند لمحوں کی ،اس لیےجب میں مکمل طور پر نیند سےبیدار ہوتا ہوں تو پتہ نہیں چلتا کہ میں نے ہاتھ کو کنٹرول کیا تھا یانہیں؟ ایسی صورت میں روزہ کا کیا حکم ہوگا؟
4- انزال کے وقت اگر عضو خاص کو شہوت حاصل کرنے کی غرض سے صرف ہاتھ لگایا جائے ، یا مضبوطی سے پکڑا جائے،حرکت نہ دیا جائے تو کیا ایسی صورت میں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا؟
5- آپ نے گناہ کبیرہ کا لکھا ہے، میں الحمد للہ شادی شدہ ہوں، مجھے اس جیسی حرکت کا نہ تو خواہش ہے اور نہ ہی ضرورت، بلکہ رمضان میں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ احتلام کا خوف محسوس کرتے ہوئے مجھے صحیح طرح نیند بھی نہیں آتی، کیونکہ احتلام کی مذکورہ مخصوص کیفیت کی وجہ سے روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے، چونکہ آپ نے بتایا کہ رمضان کے علاوہ بھی یہ گناہ ہے، میں اس کی وجہ سے بہت پریشان ہوں، جبکہ صورت حال یہ ہے کہ جب میں ہاتھ کو استعمال نہ کروں تو مجھے کئی بار اس کا تجربہ ہوا ہے کہ صرف ایک دو قطرے منی نکل جاتاہے، باقی منی اندر رہ جاتا ہے، جس سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اور تکلیف بھی ، ایسی صورت میں معذور نہیں ہوں؟
وضاحت از مجیب:
سائل نے اس قبل ایک استفتاء جمع کیا تھا کہ جب اسے احتلام ہونے لگتا ہے تو احتلام کی ابتدا سے ہی وہ اپنے عضو تناسل کو مزید حرکت دینے لگتا ہے۔ اگر وہ ہاتھ کا استعمال نہ کرے تو منی کا اخراج مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے سکون حاصل ہوتا ہے۔ سائل نے مزید کہا کہ احتلام کی کیفیت میں اس کے ہاتھ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، بنسبت اس کے کہ منی خود خارج ہواور احتلام کی ابتداء کے علاوہ باقی کیفیت میں اسے ہوش رہتا ہے۔ اگر روزہ ہو تو روزے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ کیا اگر روزے کی حالت میں اسے اس طرح کا احتلام ہوجائے تو اس کا روزہ ٹوٹے گا؟
اب سائل نے اسی مسئلہ کے بارے میں دوبارہ سوال پیش کیا ہے اور کہتا ہے کہ میں اگر ہاتھ کا استعمال نہ کروں تو مجھے کئی بار اس کا تجربہ ہوا ہے کہ صرف ایک دو قطرے منی نکلتے ہے، باقی منی اندر رہ جاتی ہے، جس سے نقصان کا اندیشہ اور تکلیف ہوتا ہے ، ایسی صورت میں کیا وہ معذور شمار نہیں ہوگا؟ہماری معلومات کے مطابق طبی اعتبار سے منی کے اخراج کا کم ہونا بذات خود ہمیشہ کسی بیماری یا نقصان کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ بدن میں پانی کی کمی، اخراج منی کے درمیان وقفہ کم ہونے یا گہری نیند کی کیفیت کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ نیز یہ ضروری نہیں کہ مادہ منویہ کا جسم میں باقی رہنا مضر صحت ہو کیونکہ بعض اجزاء قدرتی طور پر دوبارہ جذب ہوجاتے ہیں یا بعد میں پیشاب کے ذریعے خارج ہوجاتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1- طبعی احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تاہم آپ نے جو کیفیت بتائی ہے اس کے مطابق ہاتھ لگانے کے بعد احتلام ہوا ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضاء کرنا ہوگا۔ باقی آپ کو اپنی صحت ، بیماری کی کیفیت اور جوانی کی شدت و کمزوری وغیرہ خوب معلوم ہے۔ آپ ان سب کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ موجودہ عمر و کیفیت میں اگر آپ کو ایک مہینہ میں چھ بار احتلام ہوتا ہے تو زندگی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق دیگر اوقات میں آپ کو مہینے میں کتنی بار ایسا احتلام ہوتا ہوگا، پھر جب آپ کو اس حساب و اندازہ کے نتیجہ میں ایک مقدار پر غالب گمان ہوجائے کہ مثلا اتنے روزے میرے ذمہ لازم ہوں گے تو پھر اسی کے بقدر قضا کرلیں۔
2-3- اگر ہاتھ کے استعمال کے نتیجے میں انزال ہوتا ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر انزال شروع ہونے کے بعد ہاتھ کا استعمال شروع کیا تو اس کا اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس سے روزہ ٹوٹتا ہے۔
4- اگر عضو خاص کو شہوت حاصل کرنے کی غرض سے ہاتھ ، ران یا کسی بھی چیز کے ذریعے دبایا جائے ، یا مضبوطی سے پکڑا جائےاور انزال ہوجائے ، اگرچہ حرکت نہ بھی دی جائے تب بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔5- روزہ ٹوٹ جانے کا تعلق منی نکالنے میں ہاتھ کے استعمال کرنے کے ساتھ ہے۔ جب رمضان میں آپ ہاتھ کا استعمال کسی بھی وجہ سے کریں اور نتیجہ میں انزال ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
حوالہ جات
ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/399)
(قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:(254)
أو" أنزل "بتفخيذ أو بتبطين" أو عبث بالكف ".
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق:(1/329)
قال رحمه الله (ولا كفارة بالإنزال فيما دون الفرج) لانعدام الجماع صورة وعليه القضاء لوجوده معنى والمراد بما دون الفرج غير القبل والدبر كالفخذ والإبط والبطن وهو في معنى اللمس والمباشرة والقبلة وقد ذكرناها قبل هذا.
الفتاوی الھندیۃ:(1/205)
الصائم إذا عالج ذكره حتى أمنى فعليه القضاء، وهو المختار وبه قال عامة المشايخ كذا في البحر الرائق. وإذا عالج ذكره بيد امرأته فأنزل فسد صومه كذا في السراج الوهاج.
بدائع الصنائع :(2/90)
وأما ركنه: فالإمساك عن الأكل، والشرب، والجماع ... ثم أمر بالإمساك عن هذه الأشياء في النهار بقوله عز وجل {ثم أتموا الصيام إلى الليل} [البقرة: 187] فدل أن ركن الصوم ما قلنا فلا يوجد الصوم بدونه.
وعلى هذا الأصل يبتني بيان ما يفسد الصوم وينقضه لأن انتقاض الشيء عند فوات ركنه أمر ضروري، وذلك بالأكل، والشرب، والجماع سواء كان صورة ومعنى، أو صورة لا معنى، أو معنى لا صورة وسواء كان بغير عذر، أو بعذر وسواء كان عمدا، أو خطأ طوعا، أو كرها بعد أن كان ذاكرا لصومه لا ناسيا ولا في معنى الناسي...
حاشیۃ الطحطاوی :(477)
من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء.
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
20/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


