| 89981 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں ایک کرپٹو کرنسی پروجیکٹ (افغان کوائن)کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ اس پروجیکٹ کے مطابق افغان کوائن ایک افغان شخص امرالدین نے ایجاد کیا ہے، جو بائنانس بلاک چین پر ویریفائیڈ بتایا جاتا ہے اور اس کی سرمایہ کاری اسٹیکنگ (گروی) کی صورت میں کی جاتی ہے، جس میں ٹوکن کو 500 دن کے لیے لاک کرنے پر زیادہ یا تقریباً دوگنا انعام ملنے کا دعویٰ ہے، تاہم فیس بھی لی جاتی ہے اور قیمت مارکیٹ کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔
اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کے لیے پہلے افغانی کرنسی کو ڈالر میں، پھر ڈالر کو کرپٹو میں تبدیل کر کے کی جاتی ہے اور فری سواپ کے ذریعے AFG Coin خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ رقم نکالنے پر 5٪ فیس لی جاتی ہے، اور کسی بھی مقدار میں رقم کسی بھی وقت نکالی جا سکتی ہے۔
نئے لوگوں کو مدعو کرنے، ان کی سرگرمی، ٹیم سازی، یوٹیوب ویڈیوز کی تشہیر، سبسکرائب، فالو، ویڈیوز دیکھنے، پری مائننگ (موبائل پر کلک)، اور دیگر آن لائن سرگرمیوں پر روزانہ کی بنیاد پر ٹوکن یا کمیشن دیا جاتا ہے، جو بارہ درجوں تک پھیلتا ہے۔ اگر صارف 30 دن تک ویڈیوز نہ دیکھے تو اکاؤنٹ بلاک ہو جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ویڈیوز میں کسی حرام چیز کی تشہیر نہیں ہوتی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ افغان کوائن میں بغیر سرمایہ کے بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور یہ پروجیکٹ 5 سالہ اسٹیکنگ مدت پر مشتمل ہے، جس کے بعد نفع بند ہو جائے گا اور اصل سرمایہ و منافع دیا جائے گا۔ ساتھ ہی مختلف خطرات (جیسے ہیکنگ، غلط ای میل یا ایڈریس، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی وغیرہ) کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، اور شکایت کے لیے سپورٹ ٹیم موجود ہے۔کیا اس طرح کاروبار حلال ہے یا حرام ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بلاک چین پر کوئی بھی شخص کوائن بنا سکتا ہے، جب تک اس کوائن کا ایک عرف نہیں ہوجاتا اور عمومی طور پر اس کو لیا، دیا نہیں جاتااور اس مارکیٹ کے ماہر لوگ اس کو قبول نہیں کرتے، تب تک اسے کرنسی نہیں کہہ سکتے۔
فی الحال افغان کوائن میں صرف اسٹیکنگ کے ذریعے کاروبار کیا جاسکتا ہے، جو ناجائز ہے۔ کیونکہ اس میں نقصان نہ ہونا یقینی ہوتا ہے اور نفع ہمیشہ ملتا ہے۔
نیز چونکہ اس فیلڈ کے ماہرین کے مطابق زیادہ ترتجربہ یہی رہا ہے کہ اس طرح سے لوگوں کے پیسے ضائع ہوتے ہیں لہذا اس طرح کے معاملات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
12/شعبان 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


