03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے وسوسے آنے سے طلاق کا حکم
89533طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

مجھے وسوے کی بیماری ہے۔ میں ایک کلاس سے دوسری کلاس جا رہا تھا، راستے میں ایک شخص کو دیکھا جس کے دانتوں میں فاصلہ تھا، اسے دیکھ کر مجھے طارق مسعود صاحب کا بیان یاد آیا کہ '' جس کسی نے اپنے جسم میں چھیڑچھاڑ کیا اس نے حرام کا ارتکاب کیا کیونکہ یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی کرنی ہے'' تو میرے منہ سے بے اختیار '' حرام '' کا لفظ نکلا، اور چونکہ بیوی ہمیشہ ذہن میں رہتی ہے تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے بیوی کو '' حرام '' کہہ دیا۔

میری بہن کی رخصتی قریب ہے، جب میں اپنی بیوی سے بہن کی رخصتی کی بات کرتا ہوں تو جب درمیان گفتگو '' رخصتی '' کا لفظ کہتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں نے بیوی کو رخصت کا لفظ کہہ کر فارغ کردیا ہے، حالانکہ میں اپنی بہن کی رخصتی کی بات کررہا ہوتا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ اس میں نہ تو خطاب پایا گیااور نہ ہی بیوی کی طرف نسبت ہے۔اس طرح کے وسوسوں اور خیالات سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ایسی باتوں کی طرف توجہ نہ دیں، کسی مستند طبیب سے اپنا علاج کرائیں اور کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق بھی قائم کریں اور ان کی رہنمائی میں زندگی گزاریں۔ اپنے طور پر سوچتے سوچتے آپ شرعی حدود سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔

حوالہ جات

الفتاوی الھندیۃ:(1/353)

يقع ‌طلاق ‌كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع كذا في المحيط.

الدر المختار مع ردالمحتار:(3/247)

باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها.

ردالمحتار علی الدرالمختار:(3/248)

 (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. .... ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. .... في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

29/جمادی الثانیہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب