| 89270 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا اپنے شوہر سے کسی معاملے میں جگڑا چل رہا تھا، میں نے اسے کچھ چھوڑنے کے الفاظ کہ دیے، اس نے کوئی خاص جواب نہیں دیا، میں نے دوبارہ کہا فیصلہ کرو اور مجھے چھوڑ دو، اس نے کہا: ''چلو ٹھیک ہے میں ماں سے بات کرتا ہوں کہ یہ کہہ رہی ہے مجھے چھوڑ دو''، تب میں ڈرگئی اور میں نے صلح کرلی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں جب اس نے میرے چھوڑنے کے جواب میں'' ٹھیک ہے ماں سے مشورہ کرتاہوں '' کہا، تو یہ '' ٹھیک ہے '' تو چھوڑنے کے جواب میں ہوا، تو کیا اس سے میرے نکاح پر اثر پڑے گا؟میں نے ایک صاحب سے سنا ہےکہ اگر بیوی کے چھوڑنے کے جواب میں شوہر کہے ٹھیک ہے ، تو اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، تو کیا میرے مسئلہ میں بھی طلاق واقع ہوگئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی نکاح پر کوئی اثر پڑا ، کیونکہ ''ٹھیک ہے میں ماں سے بات کرتا ہوں کہ یہ کہہ رہی ہے کہ مجھے چھوڑ دو'' کا مطلب طلاق دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے میں ماں سے مشورہ کرتا ہوں، تب دیکھوں گا کہ طلاق دینا ہے یا نہیں۔آپ نے جو مسئلہ سنا ہے وہ اس وقت ہے جب صرف ''ٹھیک ہے'' کے الفاظ بولے ہوں۔
حوالہ جات
الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/226)
وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق.
الدرالمختار مع ردالمحتار:(3/296)
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
المحیط البرھانی:(3/243)
ولو قالت لزوجها: طلقني فقال لها: الحقي بأهلك وقال لم أنو به الطلاق كان مصدقاً ولا يقع الطلاق، فإذا قالت المرأة مثل ذلك بعدما صار مفوضاً إليها ألحقتُ نفسي بأهلي لا تطلق.
فتح القدیر:(3/463)
وفي الشرع رفع قيد النكاح بلفظ مخصوص وهو ما اشتمل على مادة ط ل اق صريحا كأنت طالق أو كناية كمطلقة بالتخفيف وهجاء طالق بلا تركيب كأنت طالق على ما سيأتي وغيرهما كقول القاضي فرقت بينهما عند إباء الزوج الإسلام والعنة واللعان وسائر الكنايات المفيدة للرجعة والبينونة ولفظ الخلع.
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
15/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


