| 89500 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد صاحب کی زندگی میں ہم نے ایک پلاٹ لیا تھا اور اس کی اقساط ادا کرنے کے لئے کچھ پیسے المیزان انویسٹمنٹ میں انوسٹ کردئیے تھے۔ اس انویسٹمنٹ کی بدولت ہمیں جو منافع ملا اس میں کچھ اور پیسے ملا کے ایک عدد گاڑی خریدی اور اس وقت والد صاحب بھی حیات تھے۔
سوال یہ ہے کے ان کی وفات کے بعد اب یہ گاڑی کس کی ملکیت ہے؟ کیا یہ بھی ان کی وراثت کے زمرے میں آتی ہے؟ اگر آتی ہے تو اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور جو گاڑی لی تھی اس میں والد صاحب کے 3 لاکھ روپے تھے اور 50 ہزار میرے تھے۔ گھر کے کل افراد ابھی والدہ کو ملا کے چھ ہیں۔ جس میں سے 2 بھائی، 3 بہنیں اور 1 والدہ۔ اور اگر سب کو حصّہ دینا لازم ہو تو وقتاً فوقتا دیا جاسکتا ہے یا ایک ساتھ یکمشت دینا ہوگا؟ اس کے علاوہ والد صاحب نے اس گاڑی کو کبھی اپنا نہیں سمجھا اور نہ ہی اسکو چلانا وہ پسند کرتے تھے۔ اور نہ ہی اس گاڑی پر کبھی اپنا حق جتایا ۔ اور نہ ہی وہ والد صاحب کے نام پر تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد کی زندگی میں مشترکہ پیسے سے لی گئی ہر چیز میراث شمار ہوتی ہےالا یہ کہ والد صاحب نے کوئی چیز بطور ملک کسی کے حوالہ کردی ہو تو وہ اس کی سمجھی جائے گی۔
لہذا مذکورہ گاڑی کے چھ حصے آپ سمیت دیگر ورثہ کی مشترک ملکیت ہیں اور ایک حصہ جس کی قیمت آپ نے ادا کی تھی، آپ کی ذاتی ملکیت ہے۔
چونکہ جب گاڑی خریدی جارہی تھی تب تین لاکھ، پچاس ہزار ( 350000) روپے ادا کیے گیے تھے، جس کا ساتواں حصہ پچاس ہزار (50000) روپے، آپ نے ادا کیے تھے، تو آپ اب گاڑی کی جو موجودہ قیمت ہے اسے سات حصوں پر تقسیم کریں اور ایک حصہ( 50 ہزار کے بدلے میں ) خود رکھیں اور باقی چھ حصے آپ سمیت تمام ورثہ میں تقسیم کریں۔
تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ 12.50% حصہ مرحوم کی بیوی کو دیں اور مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 25%اور ہر ایک بیٹی کو 12.50% دیں۔
درج ذیل نقشہ میں ہر وارث کا فیصدی اور عددی حصہ بھی لکھا ہوا ہے۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
1 |
12.50% |
|
2 |
بیٹا |
2 |
25% |
|
3 |
بیٹا |
2 |
25% |
|
4 |
بیٹی |
1 |
12.50% |
|
5 |
بیٹی |
1 |
12.50% |
|
6 |
بیٹی |
1 |
12.50% |
|
|
کل مجموعہ |
8 |
100% |
یاد رہے کہ میراث سب ورثہ کا حق ہےلہذا مذکورہ گاڑی میں سب ورثہ شریک ہے، اگر دیگر ورثہ اس بات پر راضی ہوتے ہیں کہ گاڑی ایک بھائی رکھ لے اور باقیوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کرے تو یہ جائز ہے، تب قیمت ادا کرنے میں باہمی رضامندی سے جو مہلت رکھنا چاہے رکھ سکتے ہیں۔
حوالہ جات
سورۃ النساءرقم الاٰیۃ:(11)
یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.
سورۃ النساء رقم الاٰیۃ :(12)
فإن کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا أو دین.
الدرالمختار مع ردالمحتار:( 6/769)
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .... (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد .
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
02/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


