03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم
89468میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

دو ماہ پہلے ہمارے سسر صاحب کا انتقال ہوا اور ورثاء میں سات بیٹیاں اور ایک بیٹا تھے، جن کی وراثت ہم نے شریعت کے مطابق تقسیم کر دی ہے، یعنی  بیٹیوں کا ایک ایک حصہ بیٹے کو دو حصے۔

ہماری ساس صاحبہ کا انتقال تقریباً بیس سال پہلے ہوا تھا، لیکن اس وقت وراثت کے مسائل کی زیادہ سمجھ نہ ہونے کے باعث ان کے ترکہ کی تقسیم درست انداز میں نہیں ہو سکی۔ ساس صاحبہ کے پاس کچھ زیور تھا، جن میں ایک سیٹ، چین، انگوٹھی اور کڑے شامل تھے۔ انہوں نے زیور کے لفافے میں ایک پرچہ رکھ چھوڑا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’’میرے انتقال کے بعد یہ سیٹ میرے بیٹے کو دے دینا‘‘ جبکہ باقی زیورات کے متعلق کچھ نہیں لکھا تھا۔ بعد میں بیٹیوں نے دیگر زیورات اپنی اپنی ضرورت کے مطابق آپس میں بانٹ لیے جو کہ شرعی تقسیم نہیں تھی۔ بیٹے کے لیے لکھا گیا سیٹ بھی اس کی اجازت کے بغیر فروخت کر دیا گیا، کیونکہ اسے کچھ ذہنی کمزوری تھی، اور داماد صاحب نے بیٹیوں سے مشورہ کر کے وہ رقم کاروبار میں لگا دی اور ابتدا میں کچھ منافع بیٹے کو دیتے رہے، پھر معلوم نہیں کیا صورت رہی۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ بیس سال پرانا یہ معاملہ مکمل طور پر شریعت کے مطابق درست کر لیا جائے تاکہ آخرت میں کوئی مواخذہ نہ ہو۔ اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرما دیں کہ جو زیور اب بیٹیوں کے پاس موجود ہیں ان کا حساب آج سے ہوگا؟  اورجو زیورات فروخت کیے گئے تھے ان کی قیمت کا حساب کب سے شمار ہوگا؟ اور ساس صاحبہ کے جس سیٹ کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا کہ وہ بیٹے کو دے دیا جائے، کیا وہ وصیت نافذ ہو کر بیٹے کی ملکیت بن گیا تھا یا وہ بھی وراثت میں شامل ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی اعتبار سے کوئی بھی اپنے وارث کے لیے وصیت نہیں کرسکتا ، اگر وصیت کردی تو اس کا اعتبارنہیں، البتہ اگر وارث کے لیے کی گئی وصیت کو دیگر ورثہ  خوشی سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کر لیں تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ ورثہ میں کوئی نابالغ نہ ہو۔ اگر ورثہ راضی نہ ہوں تو وہ وصیت کا مال بھی ترکہ کا حصہ سمجھا جائے گا۔ جن زیورات کو ماضی میں بیچ دیا گیا تھا ان کی  بیچنے کے  وقت کی قیمت ترکہ کا حصہ شمار ہوگی۔ اور جن زیورات کی رقم کاروبار میں لگائی گئی تھی وہ رقم اور حاصل شدہ نفع بھی ترکہ میں شمار ہوگا۔

مزید یہ کہ چونکہ زیورات کی جو تقسیم پہلے کی گئی تھی وہ  شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، اس لیے وہ تقسیم شرعاً قابلِ اعتبار نہیں۔ لہٰذا جن زیورات کو ماضی میں فروخت کر دیا گیا تھا ان کی اس وقت کی قیمت، موجودہ زیور، اور فروخت شدہ زیور کے  پیسے اور اس   سے حاصل شدہ نفع  جمع کر کے مکمل ترکہ شمار کیا جائے گا، پھر اس مجموعی ترکے کو شرعی اصولوں کے مطابق تمام ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

سنن الترمذي (4/ 433):

من حدیث أبي أمامة الباهلي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع: «إن الله تبارك وتعالى قد أعطى لكل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 90):

«ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.

ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية حتى لو أوصى لأخيه وهو وارث ثم ولد»له ابن صحت الوصية للأخ، ولو أوصى لأخيه وله ابن ثم مات الابن قبل موت الموصي بطلت الوصية للأخ، كذا في التبيين. وكل ما جاز بإجازة الوارث فإنه يملكه المجاز له من قبل الموصي عندنا حتى يتم بغير قبض، ولا يمنع الشيوع صحة الإجازة وليس للوارث أن يرجع فيه، كذا في الكافي.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار  (6/ 183):

(وتجب ‌القيمة ‌في ‌القيمي ‌يوم ‌غصبه) ‌إجماعا (‌والمثلي ‌المخلوط بخلاف جنسه) كبر مخلوط بشعير وشيرج مخلوط بزيت ونحو ذلك كدهن نجس (قيمي) فتجب قيمته يوم غصبه وكذا كل موزون يختلف بالصنعة كقمقم وقدر درر ودبس ذكره في الجواهر.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار  (6/ 254):

أقول: ‌نقل ‌في ‌جامع ‌الفصولين ‌عن ‌شرح ‌الطحاوي ‌كل ‌كيلي ‌ووزني ‌غير ‌مصوغ ‌وعددي ‌متقارب كفلوس وبيض وجوز ونحوها مثليات والحيوانات والذرعيات والعددي المتفاوت كرمان وسفرجل، والوزني الذي في تبعيضه ضرر وهو المصوغ قيميات اهـ.

القرآن ( النساء: 11)

يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 /جمادی الثانیہ  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب