| 89625 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
اگر شوہر بیوی کو کہے کہ ہمارا رشتہ ختم ہو اور طلاق کی نیت نہ ہو لیکن بیوی کو وہم ہو کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے اور وہ شوہر سے میسج پہ کہے کہ جب ایسے کہیں کہ ہمارا رشتہ ختم ہو تو اس بات کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ ہمارا رشتہ ختم ہے یا خواہش ہے کہ ایسا ہو اور شوہر جواب میں کہے کہ ہاں یہی مطلب تھا۔۔اب شوہر کا کہنا ہاں یہی مطلب تھا سے واضح نہیں کہ کیا مطلب تھا کیونکہ سوال میں دونوں مطلب تھے اب بیوی کو بہت وہم ہوتے ہیں کہ کیا پتہ یہ طلاق کا اقرار ہوگیا ہو ان تمام الفاظ کا کیا حکم ہے کیا ایسا کہنے سے بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے؟؟پلیز جلد سے جلد جواب دیں مہربانی ہوگی
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ"ہمارا رشتہ ختم ہو" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ یہ الفاظ خواہشِ طلاق کے ہیں، اور محض خواہش سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 375):
إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه لا يقع وإن نوى في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 230):
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 252):
رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص.....المراد به ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا وكناية
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


