03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
”ہمارا رشتہ ختم ہو“ سے طلاق کا حکم
89625طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

اگر شوہر بیوی کو کہے کہ ہمارا رشتہ ختم ہو اور طلاق کی نیت نہ ہو لیکن بیوی کو وہم ہو کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے اور وہ شوہر سے میسج پہ کہے کہ جب ایسے کہیں کہ ہمارا رشتہ ختم ہو تو اس بات کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ ہمارا رشتہ ختم ہے یا خواہش ہے کہ ایسا ہو اور شوہر جواب میں کہے کہ ہاں یہی مطلب تھا۔۔اب شوہر کا کہنا ہاں یہی مطلب تھا سے واضح نہیں کہ کیا مطلب تھا کیونکہ سوال میں دونوں مطلب تھے اب بیوی کو بہت وہم ہوتے ہیں کہ کیا پتہ یہ طلاق کا اقرار ہوگیا ہو ان تمام الفاظ کا کیا حکم ہے کیا ایسا کہنے سے بغیر نیت طلاق ہوجاتی ہے؟؟پلیز جلد سے جلد جواب دیں مہربانی ہوگی

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رہے کہ"ہمارا رشتہ ختم ہو"  کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ یہ الفاظ خواہشِ طلاق کے ہیں، اور محض خواہش سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 375):

إذا قال لا أريدك أو لا أحبك أو لا أشتهيك أو لا رغبة لي فيك فإنه ‌لا ‌يقع ‌وإن ‌نوى ‌في ‌قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في البحر الرائق.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 230):

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (3/ 252):

رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص.....‌المراد ‌به ‌ما ‌اشتمل ‌على ‌مادة ‌الطلاق ‌صريحا ‌وكناية

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

11/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب