03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 بیوی کو”چپ ہو جا ورنہ تجھے طلاق دیتا ہوں”کہنے کا حکم 
89998طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میرا نام ............. ہے، زوجہ کا نام...... ہے۔ گزشتہ سوا پانچ ماہ پہلے میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ،جس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ بہت بری حالت ،شدید غصہ و غضب اور لاعلمی کی حالت تھی، ایسی حالت جس میں مجھے  ہوش  نہ تھا۔مجھے دو سال سے ذہنی مرض بھی ہوا ہے۔ اکیلے بیٹھ کر رونا ،وہم (Hallucination)،ذہنی دباؤ (Depression) اور نفسیاتی (Psychic) مسئلے بھی رہے ہیں۔

 ایسے جھگڑے پہلے بھی ہوئے ہیں اور مجھے یاد بھی نہیں رہتا کہ میں کیا کر رہا ہوں؟  کیا کہتا ہوں؟ میری اس حالت کی سب سے بڑی گواہ میری بیوی ہے۔اس نے کئی بار کہا کہ دماغی امراض کے ڈاکٹر (Psychiatrist) کو دکھا لے، لیکن میں نے انکار کر دیا ۔اور اس دفعہ جو جھگڑا ہوا ہے اس کے بارے میں میری بیوی نے بیان دیا ہے کہ میں نے اس سے کہا :" چپ ہو جا ورنہ تجھے طلاق دیتا ہوں" ۔ میں نے اسے یہ الفاظ کافی بار کہے ،اور وہ چپ ہو گئی ۔

میں نے رمضان میں درالافتاء  میں فون پر اپنا بیان دیا تھا اور بیگم سے بھی قسم اٹھا  کر گواہی دلوائی تھی، جس پر مفتی صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ایسی صورتوں میں طلاق نہیں ہوتی۔ مجھے اس مسئلے کا تحریری جواب درکار ہے۔ ابھی میری بیوی اور میں الگ ہیں۔ مجھے آخرت کی رسوائی میں نہیں پڑنا ۔میں نے جو اپنی ذہنی کیفیت بتائی ہےاس سے  زیادہ کا سامنا کیا ہے۔ میں خود بھی شعبہ صحت ( Healthcare Department) کا ڈاکٹر  ہوں اور بیگم بھی۔میں نے یہ الفاظ اگرچہ کہے ہیں تو وہ بھی بالکل عقل سے فارغ حالت میں کہے ہیں۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں شوہر کاجھگڑے کی حالت میں اپنی بیوی کو " چپ ہو جا ورنہ تجھے طلاق دیتا ہوں" کہنا فقہی لحاظ سےتعلیقِ طلاق اور یمینِ فور ہے،یعنی شوہر نے بیوی کےفوری  خاموش نہ ہونے پر طلاق دینے کومشروط و معلق کیاکہ اگر وہ خاموش نہ ہوئی تو وہ اسے طلاق دے  دےگا،اور چونکہ اس میں شوہر کے مذکورہ بالا الفاظ کہنے پر بیوی خاموش ہو  گئی، لہذا شوہر کے اپنی قسم میں حانث نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 341):

باب التعليق (هو) لغة من علقه تعليقا قاموس: جعله معلقا. واصطلاحا (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى)، ويسمى يمينا مجازا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 761):

(وشرط للحنث في) قوله: (إن خرجت مثلا) فأنت طالق ،أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب(فعله فورا)؛ لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا، ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور، تفرد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها ولم يخالفه أحد.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 17/شوال /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب