03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفریہ باتوں کی تصدیق کا حکم
89672ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

 ایک علامہ صاحب یہ فرما رہے تھے کہ آج کل انسان کے پاس ذرا سا پیسہ یا طاقت آ جائے تو وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ بات   تو زید کے دل کو بہت بری لگی لیکن وہ خاموش رہا۔ پھر انہوں نے بات کرنے کے بعد جب ہاتھ اگے بڑھایا تو اس نے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا جیسے اپنی بات کی تصدیق کرانا مقصد ہو۔ پھر کچھ دیر بعد پہلے  شخص نے  یہی بات بولی لیکن انداز کچھ یوں تھا  کہ" انسان کے پاس پیسہ یا طاقت آ جائے تو وہ خدا ہی بن گیا ۔ اس وقت زید کے دل میں "خدا بن گیا"  کے جملے سے حقیقی خدا کا تصور آنے لگ گیا کہ معاذ اللہ وہ حقیقی خدا بن گیا۔  مگر زید اس دوران ان کے مکان پر تھا تو اس نے "جی ( یا ہاں جی)" کے الفاظ ان کے سوال کے جواب میں بولے۔ خدا کے لفظ سے ہر بار زید کے ذہن میں حقیقی خدا کا ہی تصور آتا تھا، اور یہ بات زید کے دل کو بہت بری لگ رہی تھی۔ 1. کیا اس طرح کے  غلط مفہوم ذہن میں ہونے کے باوجود سوال پوچھنے پراگر  ایک شخص  ہاں جی یا اس قسم کے تائیدی الفاظ  بولے تو کیا اس کے ایمان پر کوئی  فرق پڑے گا۔ جب کہ وہ اس بات کو دل میں بہت برا تصور کر رہا ہو۔ 2. کیا ایسی صورت میں تجدید ایمان یا تجدید نکاح کا حکم لگے گا۔ 3. اگر ایک شخص کا عقیدہ بالکل صحیح ہو لیکن ایسے حالات میں وہ کسی کفریہ بات کے جواب میں معاذ اللہ ہاں جی  یا دیگر تائیدی الفاظ بول دے لیکن اگر کوئی شخص اس سے اسی وقت پوچھے تو وہ اس بات کو برا  کہیں اور اسے وہ دل میں بھی شدید برا مانتا ہو تو ایسے شخص کے ایمان کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکور مفروضے کی بنیاد پر پیدا ہونے والے وہم اور وسوسوں سے آدمی دائرہِ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ’’جی‘‘ کہہ کر بھی اصل معنی کی تائید ہو رہی ہے، نہ کہ اپنے وہم کی۔ نیز زید کو یہ وہم ناگوار بھی لگ رہا تھا، لہٰذا آپ کے ایمان میں کوئی خلل نہیں ہے۔ تاہم وساوس سے بچنے کے لیے اپنے ذہن کو جائز اور مثبت مصروفیات میں زیادہ استعمال کیجیے؛ تاکہ وہم کی طرف توجہ کم ہوسکے۔ صبح و شام کے معمولات کا بھی اہتمام کریں، بہتر ہوگا کہ کسی ماہر معالج سے بھی مشورہ کرلیں۔

حوالہ جات

تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (1/ 198):

«والرب: هو المالك المتصرف. ويطلق في اللغة على السيد، وعلى المتصرف للإصلاح؛ وكل»ذلك صحيح في حق الله تعالى، [ولا يستعمل الرب لغير الله، بل بالإضافة؛ تقول: رب الدار ورب كذا. وأما الرب فلا يقال إلا لله عز وجل.

کسی شخص کو اللہ تعالی کے مخصوص نام سے موسوم یا مخاطب کرنا جائز نہیں ۔تیسری صورت یہ کہ اللہ تعالی کی مخصوص ناموں کو کسی دوسرے شخص کے لیے استعمال کرے، مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسمائے حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قران و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالی کے اور کسی کے لیے استعمال کرنا قران و حدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لیے قران و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جیسے رحیم ،رشید علی کریم،عزیز وغیرہ، اور اسمائے حسنی  میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا قران و حدیث سے ثابت نہیں ،وہ صرف اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے ان کو غیر اللہ کے استعمال کرنا الحاد  مذکورمیں داخل اور ناجائز و حرام ہے مثلا رحمان، سبحان، رزاق، خالق ،غفار ،قدوس وغیرہ ۔پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لیے استعمال کرنا اگر کسی غلط  عقیدہ  کی بنا پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کر رہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر غلط عقیدہ نہیں محض بے فکر ی یا بے سمجھی سے کسی شخص کو خالق ،رازق یا رحمان کہہ دیا  تو اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہونے کی وجہ سے گناہ شدید ہے‘‘۔(معارف القران (180/7-

خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا‘‘(غیاث  اللغات ۔(ص :۱۸۵)۔

فيض الباري على صحيح البخاري (1/ 122):

والمعتبر في الإيمان هو الاختياري فقط؛ لأن الإيمان مثاب عليه، والثواب لا يترتب إلا على فعله الاختياري، فما هو معتبر في باب الإيمان ليس بجامع مع الجحود، وما هو بجامع معه ليس بمعتبر في

الإيمان، وكأنه فهم أن الرجل إذا صدق أحدا عن اختياره وطوعه، بدون إكراه مكره، لا يتمكن على الجحود.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14/رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب