03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متعدد قسمیں توڑنے کی صورت میں کفارے کا حکم
89604قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

 میں نے  متعدد بار قسمیں کھائی تھیں  کہ میں زندگی میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔بات دراصل یہ ہے کہ ایک جگہ میری منگنی ٹوٹ گئی تھی تو میں نے اور اس لڑکی نے قسم اٹھائی تھی  کہ ہم شادی نہیں کریں گے۔ ابھی میرے ماں باپ نے  دوسری جگہ میری منگنی کی ہے،اب میں مجبور ہوں کہ کیا کروں ۔ اس  لڑکی کے سامنے میں نے اپنے ماں کے سرکی  قسم کھائی تھی کہ میں مر تو جاؤں گا لیکن تم سے دوبارہ   بات نہیں کروں گا مگر ابھی میری خواہش ہے کہ عمرے پر جاکر زندگی بھر جتنی قسمیں کھائی تھی  وہ توڑ دوں۔ تو کیا  مجھے ان سب کا کفارہ دینا پڑے گا یا  سب کے بدلے ایک کفارہ کافی ہوگا؟ مجھے یہ بھی نہیں یاد کہ میں نے پوری زندگی میں100 قسمیں کھائی ہیں یا 50۔اب میں وہ سب توڑنا چاہتا ہوں۔ کیا مجھے کفارے میں روزے رکھنے ہوں گے یا  کوئی چیز دینی ہوں گی۔ اور سب قسموں کے الگ الگ کفارے دینے ہوں گے یا ایک ہی کفارہ دینا کافی ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں،  لہذا اس  سے  گریزکرنا چاہیے اور اگر کسی نے کھالی تو اس  سے قسم منعقد نہیں ہوتی اور اس کے خلاف کام کرنے پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا۔

تاہم اگر کسی نے  جائز کام نہ کرنے پر اللہ تعالی کی  قسم کھائی ہو اور بعد  میں وہ   کام کرنا پڑے ، تو ایسی صورت میں قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہوگا۔ اگر متعدد قسمیں  کھا کر توڑی   ہیں،تو ہر قسم کا کفارہ الگ الگ ادا کرنا پڑے گا۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ مالی استطاعت والا  شخص  دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انہیں کپڑے پہنائے۔ اگر اس پر قدرت نہ ہو تو پھر مسلسل تین روزے رکھیں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 714):

«وفي البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لا يقبل، وبحجة أو عمرة يقبل.

البناية شرح الهداية (6/122 _134):

ولو‌‌ قال وغضب الله وسخطه لم يكن حالفا، وكذا ورحمة الله، لأن الحلف بهما غير متعارف، ولأن الرحمة قد يراد بها أثرها وهو المطر أو الجنة والغضب والسخط يراد بهما العقوبة.

ومن حلف بغير الله لم يكن حالفا كالنبي والكعبة؛ لقوله عليه السلام: «من كان منكم حالفا فليحلف بالله أو ليذر.

مختصر القدوري (ص210):

وكفارة اليمين: عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار.وإن شاء كسا عشرة مساكين كل واحد ثوبا فما زاد وأذناه ما تجزئ فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار فإن لم يقدر على أحد الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب