03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
’’یہ کام کیا تو مسلمان نہیں‘‘ کہنے کا حکم
89453قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

بندہ شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے۔ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ ایک سال پہلے  میں نے زبان سے یہ بات کہی تھی یا صرف دل میں خیال آیا تھا کہ اگر میں نے آئندہ دس دن کے اندر مشت زنی کی تو میں مسلمان نہیں رہوں گا۔ اس کے بعد مجھ سے مشت زنی کا فعل سرزد ہو گیا۔میں نے اس مسئلے کے بارے میں ایک عالم دین سے سوال کیا تو انہوں نے توبہ کرنے اور تین روزے رکھنے کا مشورہ دیا۔ میں نے توبہ کر کے دو روزے رکھ لیے تھے کہ دوبارہ یہ گناہ سرزد ہو گیا، جس کی وجہ سے میں بہت زیادہ بے چین اور پریشان ہوں۔مزید یہ کہ آج کل بار بار کفریہ خیالات دل میں آتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں ناپسندیدہ خیالات شامل ہوتے ہیں، حالانکہ ایسے خیالات آنا مجھے سخت ناگوار گزرتا ہے اور میں ان سے بیزار ہوں۔اب میری الجھن یہ ہے کہ:کیا مجھے دوبارہ توبہ کر کے تین روزے رکھنے چاہیے؟کیا اس عمل کی وجہ سے میں اسلام سے خارج تو نہیں ہو گیا؟میں اس گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود بار بار اس میں مبتلا ہو جاتا ہوں، تو اس کا شرعی حل کیا ہے؟    اور اگر خدانخواستہ دوبارہ یہ گناہ سرزد ہو جائے تو کیا اس پر کوئی حد یا شرعی سزا نافذ ہوتی ہے یا نہیں؟ براہ کرم اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ جملے سے قسم منعقد ہو جاتی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر کفارہ لازم ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں  یا انہیں کپڑے دیں، اور اگر استطاعت نہ ہو تو تین دن  مسلسل روزے رکھیں۔ روزوں کے دوران تسلسل ٹوٹ جائے تو روزےنئے سرے سے  رکھنے ہوں گے۔

اس فعل پر کوئی حد شرعی نہیں، تاہم یہ ناپسندیدہ ہے، اس لیے توبہ، استغفار اور اصلا ح  احوال کی کوشش ضروری ہے۔انسان بہر حال خطا کار ہے اور وساوس و خیالات کا آنا اس کے بس میں نہیں ہوتا ،تاہم بسا اوقات ہماری  حرکات  اس قسم کے خیالات کے لیے بنیاد بنتی ہیں ؛لہذا کسی صاحب نسبت بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کے ساتھ   خود کو کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رکھیں  تاکہ  وساوس اور برے  خیالات  سے چھٹکارا ملے۔ 

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة (19/ 215 ت الشثري):

«حدثنا زيد بن (الحباب) عن علي بن مسعدة قال: حدثنا قتادة عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل ابن آدم خطاء وخير الخطائين ‌التوابون"»

المحيط البرهاني (4/ 201):

إذا قال: هو يهودي أو نصراني أو مجوسي إن فعل كذا أو قال: هو بري من الله تعالى، أو قال: هو بريء من الإسلام إن فعل كذا فهذا يمين عندنا، حتى لو فعل ذلك الفعل تلزمه الكفارة    به.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 76):

«ثم بعض هذه الصيامات المفروضة من العين، والدين متتابع وبعضها غير متتابع، بل صاحبها فيه بالخيار إن شاء تابع، وإن شاء فرق، أما المتتابع: فصوم رمضان، وصوم كفارة القتل، والظهار، والإفطار، وصوم ‌كفارة ‌اليمين عندنا، أما صوم كفارة القتل، والظهار: فلأن التتابع منصوص عليه.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 10):

روي عن محمد أنه قال في رجل: قال: هو يهودي إن فعل كذا وهو نصراني إن فعل كذا وهو مجوسي إن فعل كذا وهو مشرك إن فعل كذا لشيء واحد قال: عليه لكل شيء من ذلك يمين.»

المفاتيح في شرح المصابيح(1/ 155):

ترك الشيء، يعني فليقل: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، وليترك التفكُّر والشروع في هذه الوسوسة، وإن لم يقدر أن يزيل التفكر في هذه الوسوسة بالتعوذ فليَقُمْ عن مجلسه ذلك، وليشتغل بشيءٍ آخر، من تلاوة القرآن والحكايات وغير ذلك.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

28/جمادی   الثانية/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب