03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا تصویر کی وجہ سے پورے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے؟
89501جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

علماء کرام سے جاننا ہے کہ جس طرح حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس گھر میں تصویر لٹکی ہوئی ہو یا کتا موجود ہو، تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اس حدیث  میں گھر سے کیا مراد ہے، کوئی خاص جگہ یا پورا گھر مراد مانا جائے گا؟ نیز یہ بھی ارشاد فرمادیں کہ جس طرح ایک گھر میں کئی کمرے ہوتے ہیں۔ اگر ایک بھائی نے گھر میں اپنی تصویر لگا رکھی ہے، تو اب اس پورے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے یا پھر دوسرے کمروں میں رحمت کے فرشتے آسکتے ہیں؟ یہ بھی جاننا ہے کہ جیسے تین یا چار منزلہ ایک مکان ہے اور ایک منزل ہم نے غیر مسلم کو دے رکھا ہے۔ وہ وہاں مورتیاں وغیرہ لگاتا ہے اور پوجا کرتا ہے۔ اب پورے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے یا دوسرے منزل میں آسکتے ہیں؟ صراحتا حدیث و سنت کی روشنی میں اس کا جواب دیں۔ اللہ پاک جزاء خیر عطا فرمائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حدیث میں مذکور لفظ "بیت" سے مراد کمرہ ،خیمہ  یا محدود رہائشی جگہ ہے، پورا گھر مراد نہیں ہے۔دوسرے الفاظ میں گھر  کا ہر کمرہ الگ الگ بیت کہلائے گا۔ جس کمرے میں بھی تصویر ہوگی رحمت کے فرشتے خاص اس کمرے میں داخل نہیں ہوں گے، باقی کمروں کے متعلق یہ وعید نہیں ہے۔ اسی طرح ایک مکان کی مختلف منزلیں بھی الگ الگ شمار ہوں گی۔   

 البتہ اگر بھائی کےکمرے میں لگی تصویر آپ کے کمرے میں بھی واضح نظر آتی ہے،تب  آپ کے کمرے میں بھی اس کی وجہ سے نماز مکروہ ہوگی۔ اور حدیث شریف میں بیان کی گئی ممانعت کے تحت آپ کا کمرہ بھی داخل ہوگا۔ ایسی صورت میں پردہ وغیرہ کے ذریعہ خود کوتصویر کی وعید سے بچانا ضروری ہے۔

حوالہ جات

فتح الباري: (ج:10،ص:381)

  "قوله: (بيتا فيه كلب) المراد بالبيت المكان الذي يستقر فيه الشخص سواء كان بناء أو خيمة أم غير ذلك."

عمدة القاري: (ج:22،ص:69،ط:دار الفكر)

  "قوله: (بيتا) المراد به المكان الذي يستقر به الشخص سواء كان بيتا أو خيمة أو غير ذلك."

الهداية:(ج:3،ص:66،ط:دار احیاء التراث العربي)

  "ومن اشترى منزلا فوقه منزل فليس له الأعلى إلا أن يشتريه بكل حق هو له أو بمرافقه أو بكل قليل وكثير هو فيه أو منه. ومن اشترى بيتا فوقه بيت بكل حق لم يكن له الأعلى، ومن اشترى دارا بحدودها فله العلو والكنيف" جمع بين المنزل والبيت والدار، فاسم الدار ينتظم العلو لأنه اسم لما أدير عليه الحدود، والعلو من توابع الأصل وأجزائه فيدخل فيه. والبيت اسم لما يبات فيه، والعلو مثله، والشيء لا يكون تبعا لمثله فلا يدخل فيه إلا بالتنصيص عليه، والمنزل بين الدار والبيت لأنه يتأتى فيه مرافق السكنى مع ضرب قصور إذ لا يكون فيه منزل الدواب، فلشبهه بالدار يدخل العلو فيه تبعا عند ذكر التوابع، ولشبهه بالبيت لا يدخل فيه بدونه."

حاشية ابن عابدين:(ج:1،ص:648،ط:ایچ ایم سعید)

  "وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة)."

سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

28/ جمادی الاخری/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب