| 89833 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک آن لائن پلیٹ فارم پر ایک لڑکے سے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے بات کیا کرتی تھی۔ ہم روزانہ چیٹ کرتے تھے۔ ایک دفعہ ہم ایک گھنٹے سے زیادہ چیٹ کر رہے تھے تو میں نے اسے پیغام میں لکھا: ’’کیا آپ مجھ سے نکاح قبول کرتے ہیں؟‘‘، اس پر اس نے جواب دیا: ’’قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے ‘‘۔اس کے بعد اس نے مجھ سے بھی یہی سوال کیا اور میں نے بھی اسے یہی جواب دے دیا۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ چیٹنگ کے دوران اس کے پاس کوئی گواہ موجود تھے یا نہیں۔ ہم نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ آیا اس نے میرے پیغامات اور اپنے جوابات اس مخصوص سوال کے حوالے سے کسی گواہ کے سامنے اونچی آواز میں پڑھ کر سنائے تھے یا نہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے کسی کو اپنا وکیل مقرر نہیں کیا تھا اور میرے ولی کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اس وقت میں بہت کم عمر تھی اور دین سے بھی دور تھی۔ میں نے اس واقعے کے بارے میں کبھی کسی سے بات نہیں کی۔ کیا حنفی فقہ کے مطابق یہ نکاح درست شمار ہوتا ہے؟ مجھے بہت زیادہ وسوسے آتے ہیں کہ میں بہت گناہگار ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کانکاح نہیں ہواکیونکہ نکاح کےانعقادکےلیےضروری ہےکہ ایجاب وقبول کےالفاظ ایسی مجلس میں اداکیےجائیں جس میں دومرد یاایک مرداوردوعورتیں موجودہوں اوروہ دونوں بیک وقت اس ایجاب وقبول کوسنیں۔جبکہ بیان کردہ صورت میں گواہوں کی موجودگی کاعلم نہیں ہےاورنہ ہی ایجاب و قبول پران کوگواہ بنائےجانےکاعلم ہے،لہذایہ نکاح منعقد نہیں ہوااورلڑکاولڑکی دونوں ایک دوسرےکےلیےاجنبی ہیں۔تاہم کسی اجنبی سےمیسجزپراس طرح کی گفتگوکرناگناہ کاکام تھا،لہٰذا اس پرسچےدل سےاستغفارکریں اورآئندہ ایسانہ کرنےکا عزم کریں۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار: (ص: 178)
(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :(3/ 23)
قال في الفتح: ومن اشترط السماع ما قدمناه في التزوج بالكتاب من أنه لا بد من سماع الشهود ما في الكتاب المشتمل على الخطبة بأن تقرأه المرأة عليهم أو سماعهم العبارة عنه بأن تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني ثم تشهدهم أنها زوجته نفسها۔
الفتاوى الهندية :(1/ 269)
ولو كتب الإيجاب والقبول لا ينعقد،كذا في فتح القدير۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :(3/ 12)
صورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح، وبإسماعهم الكتاب أو التعبير عنه منها قد سمعوا الشطرين بخلاف ما إذا انتفيا۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


