| 89226 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
سائل کا نکاح 2012 میں ہوا، جس سے 2 بیٹیاں ہوئیں ایک کی عمر 12 سال اور دوسری 3 سال کی ہے۔ دونوں فی الحال اس کے زیرِ کفالت ہیں۔ اہلیہ کی غیر مناسب سرگرمیوں پر سائل کے والدین نے اہلیہ کو بچوں سمیت ان کے والدین کے ہمراہ میکے بھیج دیا بعد ازاں سائل سے تقاضا کیا کہ وہ اسے طلاق دے۔ تاہم اہلیہ کو درگزر کرتے ہوئے طلاق دینے سے انکار کیا جس پر اسےبھی گھر سے نکال دیا ، سائل کے پاس کوئی متبادل نہ ہونے کے باعث وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے پاس سسرال منتقل ہو گیا،جہاں حتی الوسع اپنی ذمہ داریاں نبھائی۔تاہم دورانِ قیام ازدواجی و نجی زندگی میں مداخلت اور چند معاملات میں تحفظات پر سسر سے اختلاف ہوئے۔ ایک دن اہلیہ کو ان کے عزیز کے گھر جانے سے منع کرنے پر سائل کے سسر نے اس کے ساتھ بدتمیزی اور توہین آمیز لہجے میں تنقید کی ،جس پر سائل نے بھی اپنے حقوق و تحفظات کا اظہار کیا جس پر تلخ کلامی ہوئی، اس تلخ کلامی کے نتیجے میں سسر نے اہلیہ کو زبردستی اپنے پاس روک لیا اور سائل کو بچوں سمیت گھر سے نکال دیا، سائل کو مجبوراً اپنی بیٹیوں کو لے کر اپنے والدین کے گھر آ نا پڑا۔ اس واقعے کے بعد سسر نے اہلیہ پر پاپندیاں لگا دیں سائل کو نہ ملاقات کی اجازت دی اور نہ ہی فون یا کسی ذریعے سے بات چیت ممکن ہو سکی ۔ سائل نے سسر کے عزیز اور ایک دوست کے ذریعے صلح کی کوشش کی، اس پر بھی وہ ناراض ہوئے اور طلاق کا مطالبہ کیا۔ جس پر سائل نے اپنے والد کو سسر سے مصالحت پر آمادہ کیا، سائل کے والد اختلاف کے باوجود معاملہ حل کرنے سسر کے پاس گئے مگر سسر نے یہ شرط رکھی کہ اہلیہ کو واپس اپنے گھر میں رکھیں جہاں سے اسے نکالا گیا تھا۔ سائل کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد اہلیہ کے سابقہ معاملات کے پیشِ نظر اس گھر میں واپسی کے حق میں نہیں تھے۔ البتہ سائل کے والد نے متبادل رہائش کی پیشکش کی، مگر سسر نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور طلاق کا تقاضا کیا۔ سائل کے طلاق نہ دینے پر انہوں نے عدالت میں خلع کا کیس کیا۔سسر کے اس اقدام نے سائل کے گھر والوں کے اس موقف کو تقویت بخشی کہ ان کی نیت صلح کی نہیں بلکہ اپنی ذاتی انا کی تسکین اور سابقہ رنجش کا بدلہ لینا ہے۔سائل کے والد و اہل خانہ نے بھی سسر کے طرزِ عمل کے ردِعمل میں ضد میں سائل پر دباؤ ڈالا کہ وہ خود طلاق دے دے، بصورت دیگر اسے گھر سے نکالنے، قطعِ تعلق کرنے سمیت جائیداد سے محروم کرنے کی دھمکیاں دیں، ماضی کے تجربے کی بنیاد پر سائل کو یقین تھا وہ اس پر عمل کریں گے ۔ان حالات میں جب مصالحت کی کوششیں خاندانی تنازع کی شکل اختیار کر گئیں، سائل نے اہلیہ کو نہ پہلے طلاق دی نہ اس وقت رضامند تھا، مگر سسر کے انتقامی رویے و خاندان کی سخت دھمکیوں نے اسے بے بس کر دیا۔ سائل کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام اور اہلیہ کی عدم موجودگی میں تنہا کمسن بچوں کی پرورش، تعلیم و تربیت اور ان کی اخلاقی و معاشرتی ذمہ داریاں نبھانا عملاً ناممکن اور استطاعت سے باہر تھا۔ان حالات میں دو طرفہ عدالتی دباؤ اور خاندانی جبر کے تحت مجبوراً بغیر ارادہ و رضا کے طلاق نامہ پر دستخط کرنے پڑے جس میں تین طلاقیں تحریر تھیں۔سائل نے زبان سے طلاق کے کلمات ادا نہیں کیے اور اللہ جانتا ہےکہ نہ نیت تھی۔ عدت کے دوسرے مہینے (10 مارچ 2025) کو سائل کی اہلیہ نے براہ راست رابطہ کیا، معافی مانگی اور پرانی باتوں پر ندامت و افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے والد کی انا و دباؤ پر مجبور تھی اور چاہتے ہوئے بھی اپنے شوہر اور بچوں کےلئے کچھ نہ کرسکی اور رجوع کی خواہش کی جس پر باہمی رضامندی سے انھوں نے شریعت کے مطابق رجوع کر لیا، اسکے بعد سے وہ فون کالز، واٹس ایپ پیغامات، ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں رہے ، اہلیہ کی والدہ سمیت چند احباب اس سے واقف ہیں۔ اس دوران چند ملاقاتیں بھی ہو ئیں - رجوع کے بعد سے سائل نے اہلیہ کی ضروریات بشمول اخلاقی و مالی فراہم کیں۔ اہلیہ نے دوران عدت اپنے والد سے رجوع کی خواہش کی، مگر ان کو مرنے مارنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، اہلیہ نے کوششیں کرتے ہوئے والد کےدوست و رشتہ داروں کو بھی صلح کے لیے مختلف مواقع پر اپنے والد کے پاس بھیجا، مگر ان کے بقول طلاق ہو چکی ہے وہ رجوع کو نہیں مانتے اور نکاح/ حلالہ کی بات کرتے ہیں جس پر ہمیں اس معاملہ پر شرعی راہنمائی و حکم کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ براہ کرم، قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی رو سے مفصل رہنمائی فرمائیں کہ عدالت سے لی گئی خلع کی کیا شرعی حیثیت ہے جب فریقین راضی نہ ہوں؟ کیا خاندانی جبر جیسے گھر سے نکالے جانے ، قطع تعلق اور جائیداد سے محرومی کی دھمکی کے تحت طلاق نامے پر دستخط کرنے سے طلاق شرعی طور پر واقع ہو چکی، جبکہ نہ زبانی طلاق دی نہ ارادہ تھا؟ نیز مذکورہ صورتحال میں رجوع کی حیثیت و اہلیہ کے دوسرے نکاح پر بھی شرعی راہنمائی فرمائیں۔
خلاصہ: عدالتی دباؤ اور خاندانی جبر کے تحت بغیر ارادہ و رضامندی اوربغیر طلاق کے الفاظ ادا کیے طلاق نامے پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ایسی صورتحال میں دی گئی طلاق سے رجوع اوراہلیہ کے دوسرے نکاح کا کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق جس طرح بولنےسے واقع ہو تی ہےاسی طرح طلاق نامے پر دستخط کرنےسے بھی واقع ہو جاتی ہےاور طلاق واقع ہونے کے لیے شوہر کی مکمل رضامندی ضروری نہیں ،البتہ اگر شوہر کو طلاق دینے پر اس قدر مجبور کیا جائے کہ اس کو غالب گمان ہو کہ اگر وہ طلاق نہیں دے گاتو اس کو ناقابل برداشت نقصان یا شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا تو ایسی صورت اکراہ کی ہے ،جس کا حکم یہ ہے کہ ایسی حالت میں تلفظ کے ساتھ دی گئی طلاق تو واقع ہو جاتی ہے لیکن محض لکھ کر یاطلاق نامے پر محض دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل کو یقین یاغالب گمان تھاکہ طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں والدمجھے گھر سے نکال دیں گےیا قطع تعلقی کریں گے یا عدالتی کاروائی کی صورت میں جیل جانا پڑے گاتو اس کےزبان سے کلمات اداکیےبغیر صرف طلاق نامےپر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور وہ بیوی سے تعلق برقرار رکھ سکتا ہے ۔
البتہ اگر اضطرارکی ایسی صورت نہیں تھی بلکہ آپ کو غالب گمان تھاکہ عدالت یا والدکی طرف سے معمولی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور وہ اپنی دھمکی پر عمل نہیں کریں گےیا والد کے گھر سے نکالنے کی صورت میں رہائش کا متبادل نظام ممکن تھا تو ان تمام صورتوں میں تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور شوہر کو بغیر حلالہ شرعیہ کے رجوع کا حق حاصل نہیں ہوگا اوراگر عورت چاہے تو عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 100)
وأما كون الزوج طائعا فليس بشرط عند أصحابنا……وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 264)
وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 129)
(وشرطه) أربعة أمور: ۔۔۔ الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح،ابن كمال۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175)
ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


