| 89786 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میرا نام ڈاکٹر .............. ہے اور میں اس وقت’’اخلاص گروپ آف کالجز‘‘میں بطورڈائریکٹر کوآرڈینیشن خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ میری ماہانہ تنخواہ 100,000 روپے ہے۔ اس کے علاوہ میں نے ادارے کی مدد کے لیے 2کروڑروپےکی مالی معاونت فراہم کی ہے تاکہ ادارہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ یہ رقم بغیر کسی نفع کے مطالبے کےدی گئی ہے اور اگر نقصان ہو تو میں اس نقصان کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار ہوں اور ادارہ اس رقم کو اپنی مالی استطاعت کے مطابق مجھے واپس کرے گا۔ ادارے نے میرے اس مالی تعاون کی قدر دانی کے طور پر مجھے 300,000روپے کی اضافی رقم بطور بونس دی ہے، جو میری تنخواہ کے علاوہ ہے۔ میں آپ سے درج ذیل شرعی سوالات پر رہنمائی کا طالب ہوں:
- کیا مجھے دی جانے والی 300,000 روپے کی بونس رقم شرعاً حلال ہے، جبکہ یہ رقم معاہدے میں شامل نہیں تھی اور ادارے نے اپنی طرف سے بطور شکریہ دی ہے؟
- کیا میرا 2 کروڑ روپے کا مالی تعاون جس میں نہ کوئی منافع طے ہوا اور نہ ہی ادارے سے نفع کا مطالبہ کیا ،شرعی طور پر قرضِ حسنہ کے دائرے میں آتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگرآپ نےاپنی ذاتی رقم کےذریعےادارےسےتعاون کیاتھایاآپ نے سپانسرز کا انتظام کیالیکن ان کی رقم کے ساتھ آپ کی رقم بھی شامل تھی توآپ کی اداکردہ رقم کی حیثیت شرعاً قرض حسنہ کی ہے اور ادارے کی طرف سے آپ کوجو بونس مل رہا ہے ،یہ آپ کے دیے گئے قرض کی بنیاد پر مل رہا ہے جیساکہ آپ کےسوال سےمعلوم ہورہاہے،لہٰذا آپ کے لیے یہ بونس لینا جائز نہیں۔واپس لوٹانا ضروری ہے۔
تاہم اگرآپ سپانسرز وغیرہ کےذریعےرقم کامحض انتطام کرنےوالےتھےاوران دوکروڑ میں آپ کی ذاتی رقم شامل نہیں تھی توپھرکمپنی کی طرف سےملنےوالےبونس کی رقم لیناآپ کےلیےدرست ہوگا۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي: (14/ 36)
وعن الشعبي قال: أقرض عبد الله بن مسعود - رضي الله عنه - رجلا دراهم فقضاه الرجل من جيد عطائه فكره ذلك ابن مسعود - رضي الله عنه - فقال: لا إلا من عرضه مثل دراهمي وعن عامر - رحمه الله - لا بأس بأن يقضي أجود من دراهمه إذا لم يشترط ذلك عليه وقد روي أن ابن عمر - رضي الله عنهما - كان يفعله وبه نأخذ وتأويل كراهة ابن مسعود - رضي الله عنه - أن الرجل إنما فعل ذلك لأجل القرض؛ فلهذا كرهه وقد رد عمر - رضي الله عنه - الهدية بمثل هذا.
الفتاوى الهندية: (3/ 203)
ولا بأس بهدية من عليه القرض والأفضل أن يتورع من قبول الهدية إذا علم أنه يعطيه لأجل القرض، وإن علم أنه يعطيه لا لأجل القرض بل لقرابة أو صداقة بينهما لا يتورع عنه وكذا لو كان المستقرض معروفا بالجود والسخاء كذا في محيط السرخسي، وإن لم يكن شيء من ذلك فالحالة حالة الإشكال فيتورع عنه حتى يتبين أنه أهدى لا لأجل الدين.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري :(8/ 234)
ويكره للمقرض أن يقبل هدية من أقرضه إذا كانت مشروطة في القرض أو يعلم إنما أهداها لأجل القرض ولو لم يكن مشروطا ولم يعلم أنه لأجل الدين لم يكره.
المعاییر الشرعیۃ :(رقم المعیار:19،ص:522)
لا یجوز للمقترض تقدیم عین أو بذل منفعۃ للمقرض في أثناء مدۃ القرض إذا کان ذلک من أجل القرض بأن لم تکن العادۃ جاریۃ بینہما بذلک قبل القرض.
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


