| 89934 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک مدرسہ میں شعبہ حفظ و ناظرہ کا مدرس ہوں اور وہیں رہائش پذیر ہوں۔ میری صورتحال درج ذیل ہے:میں مدرسہ سے تدریس کے بدلے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتا ہوں، مدرسہ میں 20 طلباء مقیم ہیں جو گھروں سے کھانا (روٹی) جمع کر کے لاتے ہیں، اس جمع شدہ کھانے میں سے جو زائد (بچی ہوئی) روٹی ہوتی ہے، میں اسے سکھا کر بازار میں فروخت کر دیتا ہوں اور حاصل ہونے والی رقم طلباء کی ضروریات پر ہی خرچ کرتا ہوں، میں مدرسہ سے کھانے کا کوئی الگ خرچہ نہیں لیتا، البتہ مدرسے کی طرف سے روزانہ "چائے کی مد" میں ایک مخصوص رقم لیتا ہوں۔ مسئلہ: میں وہ رقم (چائے کے پیسے) وصول کر لیتا ہوں، لیکن اس سے چائے نہیں منگواتا بلکہ وہ پیسے اپنی جیب میں رکھ لیتا ہوں (یعنی پیسے لے لیتا ہوں لیکن خرچ نہیں کرتا)۔ سوال: کیا میرے لیے چائے کے نام پر یہ پیسے لے کر (بغیر چائے پیے) ذاتی استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے؟ یا اس کے لیے مجھے انتظامیہ یا طلباء سے اجازت لینی ہوگی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔
تنقیح: سائل سے رابطے پر معلوم ہوا کہ جو رقم وہ ادارے سے لے رہا ہے، وہ ادارہ چائے کے لیے ہی دے رہا ہے،بقول سائل کےکہ "ادارے نے مجھے کہا ہے کہ اگر آپ کا کوئی مہمان آجائے یا آپ نے چائے پینی ہو تو اس کے لیے ادارے سے پیسے لیا کریں "لیکن کو ئی خاص رقم متعین نہیں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں ادارے نے آپ کو چائے کے لیے ہی پیسے لینے کی اجازت دی ہے،لہذا آپ کا ادارے سے پیسے وصول کرکے دوسرے ذاتی استعمالات میں لانا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ جات
تفسير الطبري (9/ 450 ط التربية والتراث):
«عن ابن عباس قوله:"أوفوا بالعقود"، يعني: بالعهود.»تصرفه ضرر بين لغيره.
مسند أبي يعلى - ت السناري (5/ 231):
«عن أنس، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال في خطبته: "لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له".»
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
22 /رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


