03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طواف اور سعی کے بعد سر کے اطراف سے بال کاٹنے کا حکم
89865حج کے احکام ومسائلعمرہ کے مسائل

سوال

رہنمائی فرما دیں پہلا عمرہ کرنے کے عین دو دن بعد ہم نے دوسرہ عمرہ کر لیا طواف اور سعی کے بعد صرف سر کی سائیڈوں اور پیچھے سے ہی بال اتارے تو کیا یہ ٹھیک ہے ۔اور پھر بعد میں ، میں نے سلے ہوئے کپڑے عام جو معمول ہوتا ہے اسی طرح کے کپڑے پہنے تو کیا یہ ٹھیک تھا ؟ اور اگر اس میں دم لازم ہے تو دم میں کیا کیا دیا جا سکتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عمرے یا حج سے حلال ہونے کے لیے حلق یا قصر ضروری ہوتا  ہے ، اگر بال ایک پورے سے بڑے ہوں تو قصر یعنی  کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کے بقدر کاٹنے سے بھی حلال ہو جاتا ہے ،اگر بال اس سے چھوٹے ہوں تو حلق کرناضروری ہوتا ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر دوسرے عمرے سے حلال ہوتے وقت بال ایک پورے سے بڑے تھے اور آپ نے چوتھائی سر کے بقدر بال کاٹ لیے ، یا چوتھائی سر پر استرا پھیر لیا تھا تو آپ حلال ہوگئے ، آپ پر کسی قسم کا دم نہیں ، لیکن اگر دوسرے عمرے کے وقت آپ کے سر پر بال ایک پورے سے چھوٹے تھے اور آپ نے انہیں قینچی سے کاٹا ہے تو آپ حلال نہیں ہوں گے ،اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ  جہاں بھی ہیں حلق کروائیں اور دو دم ادا کریں ،ایک دم تمام جنایات  کی طرف سے اور دوسرا دم  حرم سے باہر حلق کرنے کا ۔اگر آپ نےبال قینچی سے نہیں کاٹے بلکہ استرے سے سر کے اطراف اور پیچھے سے اتنی جگہ کے بال صاف کر دیے جو چوتھائی سر کے بقدر تھا تو پھر بھی آپ حلال ہوگئے ، کوئی دم نہیں آئے گا ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 231):

ثم التخير بين الحلق والتقصير إنما هو عند عدم العذر فلو تعذر الحلق لعارض تعين التقصير أو التقصير تعين الحلق كأن لبده بصمغ فلا يعمل فيه القراض ومتى نفض تناثر بعض شعره لا بالحلق ولا بالتقصير وليس للمحرم إزالة شعره بغيرهما كذا في البحر الرائق. ‌والتقصير ‌أن ‌يأخذ ‌الرجل والمرأة من رءوس الشعر ربع الرأس مقدار الأنملة، كذا في التبيين.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 141):

المسنون هو حلق جميع الرأس لما ذكرنا، وترك المسنون مكروه، ‌وأما ‌التقصير ‌فالتقدير فيه بالأنملة لما روينا من حديث عمر رضي الله عنه لكن أصحابنا قالوا: يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة؛ لأن الواجب هذا القدر من أطراف جميع الشعر، وأطراف جميع الشعر لا يتساوى طولها عادة بل تتفاوت فلو قصر قدر الأنملة لا يصير مستوفيا قدر الأنملة من جميع الشعر بل من بعضه فوجب أن يزيد عليه حتى يستيقن باستيفاء قدر الواجب فيخرج عن العهدة بيقين.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 547):

أن المراد مقدار أحدهما ‌فلو ‌لبس ‌من ‌نصف ‌النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم كما يشير إليه قوله وفي الأقل صدقة شرح اللباب (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر.

   محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

28/رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب