| 89685 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
﷽ ۔جمعہ اور عیدین کے بارے میں شرعی استفتاء ۔سوال 1۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ غوربند بڑی بڑی برفانی پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے، پہاڑوں کی دامن سے چوٹیوں تک درمیانی زمینی رقبہ کی طول و عرض میں مختلف اقوام کے جدا جدا بستیاں ہیں۔ ہر بستی کی رسم ورواج ،معاملات اور مساجد اور ائمہ جدا جدا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ منتشر بستیوں میں جمعہ اور عیدین کی نماز شرعاً مذہباً جائز ہے یا نہیں؟
سوال 2۔ان منتشر بستیوں میں ایک بستی ڈہرئ بھی ہے۔ ڈہرئ ایک معروف پہاڑی نما بستی ہے۔ یہ بستی پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ یہ بستی مختلف محلوں پر مشتمل ہے۔ تقریباً ہر محلے میں اپنی مسجد و امام مسجد موجود ہے۔ علاقہ ہذا کے تمام مختلف محلوں میں کل میلاکر 200 سے زائد منتشر گھر أباد ۔ ہر محلے میں کم سے کم 2 ۔ 4 گھر اور زیادہ سے زیادہ 6 ۔ 8 گھر متصل ہے۔ باقی تمام گھر غیر میدانی زمینوں ، زرعی زمینوں ، کھیتوں اور پہاڑی نما علاقہ ہونے کی وجہ سے منتشر ہے۔ گھروں کے درمیان فاصلہ کئی میٹر ہے ( 0-10-30) میٹر اور بعض کے درمیان بہت زیادہ (30-60-90-120) میٹر ہے۔ علاقہ ڈہری کی وسطی حصے میں دو صاف وشفاف پانی کے نالیاں بھی بہتی ہے۔ ان دونوں نالیوں کے درمیان دو قدرتی ڈھیریاں ( mounds) موجود ہے ، جو تقریباً 100 تک بلند ہے۔ جسکی وجہ سے علاقہ ڈہری کی جنوبی اور شمالی اطراف بیک وقت نہیں دیکھا جاسکتا۔ علاقہ ڈہری کے مشرقی شمالی حصے میں جرنیلی سڑک کے ساتھ ساتھ ضلع کا اہم، صاف وشفاف اور بڑی ندی بہتی ہے۔ جس میں لوگ وضو اور غسل کرتے ہیں، جبکہ مچھلیاں بھی پکڑے جاتے ہیں۔ علاقہ ڈہری کے کچھ محلے اس ندی کے اس پار بھی مختلف جگہوں اور حصوں میں ندی کے آس پاس اور ایک دوسرے سے مختلف فاصلوں پر واقع ہیں۔ علاقہ ڈہری کے تمام محلے ایک دوسرے سے مختلف فاصلوں پر دور ہے۔ علاقہ ڈہری میں متعدد سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے قائم ہیں، جن میں 2 پرائمری سکول، 2 مکتب ، 1 لڑکوں کے لئے ہائیر سیکنڈری سکول، 1 لڑکیوں کے لئے ہائیر سیکنڈری سکول، 1 پرائیویٹ ہائی سکول ، 1 پرائیویٹ مڈل سکول اور 1 ٹیوشن اکیڈمی ہے۔ بعض سکولوں میں ڈبل شفٹ بھی جاری ہے، تعداد کی زیادتی کی وجہ سے ان سکولوں میں مقامی و غیر مقامی تقریباً (3300 ) تینتیس سو سے زائد بچے وبچیاں پڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ علاقہ ہذا میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے (4) چار مدارس بھی ہے، جس میں طلباء و طالبات تعلیم دینی حاصل کرتے ہیں۔ ان مدارس میں کئ سو مقامی وغیر مقامی طلبا و طالبات پڑھتے ہیں۔ علاقہ ڈہری میں 3 بڑے مساجد جبکہ 6 عدد چھوٹے مساجد مختلف محلوں میں موجود ہے، بڑے مساجد میں امام و خطیب موجود ہے، جبکہ چھوٹے مساجد میں امام بھی موجود ہے اور ساتھ پنجگانہ نمازیں باجماعت ادا بھی ہوتی ہے۔ لیکن نمازِ فجر و نماز عشاء میں نمازیوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ علاقہ ہذا کے مرکزی حصے میں امن و امان قائم رکھنے اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے ایک پولیس چوکی بھی ہے، جس میں تمام درکار عملہ ہمہ وقت موجود ہوتی ہے۔ پولیس چوکی اور سکولوں اور مدارس میں پولیس اور استاذہ کرام کثیر تعداد میں غیر مقامی ہے۔ پولیس چوکی کے علاوہ علاقہ میں ایک سرکاری ہسپتال (BHU) بھی ہے اور ساتھ ایک پرائیویٹ مشہور کلینک بھی ہے ، ان دونوں دارالشفاء کو مختلف دور دراز علاقوں سے علاج و معالجے کے لیے لوگ آتے ہیں۔ علاقہ ڈہری میں تحصیل کا سب سے لمبا بازار تقریبآ 1.4km کلومیٹر لمبا بازار بھی موجود ہے۔ یہ بازار اس بڑی ندی کے ساتھ سڑک کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ بازار میں کئی سو دکانیں مقامی و کثیر تعداد میں غیر مقامی لوگوں کے ہیں۔ بازار میں ضروریات کے جملہ سہولیات ہمہ وقت میسر و موجود ہے۔ کثیر تعداد میں غیر مقامی دکانداروں کی وجہ سے بازار نماز عصر کے بعد بند ہوتی ہے۔ جبکہ مقامی دکانداروں کے کچھ دکانیں عشاء تک کھلی رہتی ہے۔ اس بازار میں ایک بڑا میگا مارکیٹ بھی ہے،جو پورے ضلع کے لئے توجہ کا مرکز ہے، جس میں تمام جدید ترین اور ہر قسم کے شاپنگ کی چیزیں بآسانی ملتی ہے۔اس کے ساتھ بازار میں سیمنٹ ، سریا ، چادر/ٹین، پلے بورڈ وغیرہ کا بڑا مارکیٹ بھی موجود ہے۔ ان کو پورے ضلع و بیرونی ضلع (کوہستان) سے خریدار آتے ہیں۔ بازار میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے کئی ورکس شاپ بھی ہے، جس میں گاڑیوں کی ابتدائی مرمت بآسانی کی جاتی ہے۔ الغرض بازار ڈہری تمام سہولیات حیات جدید سے مالا مال ہے۔ علاقہ ڈہری کے ارد گرد بڑے بڑے برفانی پہاڑیں ہیں، ان پہاڑوں میں مختلف بستیاں آباد ہیں۔ ان بستیوں میں مساجد اور مڈل سکولز تک موجود ہے ،جبکہ مکمل سہولیات زندگی میسر نہیں ہے۔ ان دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کا حصول سہولیات کے لئے انحصار مکمل علاقہ ڈہری پر ہے۔ یادرہے کہ علاقہ ڈہری کے ان تینوں بڑے مساجد میں نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا ہوتی ہے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مختلف محلوں اور دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں ۔ ان تین بڑے مساجد میں کل میلاکر تقریباً (1000) ایک ہزار سے زائد مکلف لوگ نماز جمعہ پڑھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بستی/علاقہ ڈہری میں نماز جمعہ اور عیدین کی ادائیگی درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کیے گئے علاقے ڈہری کے احوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نماز جمعہ اور نماز عیدین کی ادائیگی درست ہے۔مزیدبہتر یہی ہوگاکہ اس علاقے کے قریب موجود دو ذی رأی مفتیان کرام سے مشاہدہ کرواکے فتاوی حاصل کیا جائے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 82)
" لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهذا عند أبي يوسف رحمه الله وعنه أنهم إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم والأول اختيار الكرخي وهو الظاهر والثاني اختيار الثلجي والحكم غير مقصور على المصلي بل تجوز في جميع أفنية المصر لأنها بمنزلته في حوائج أهله "
وفیه أیضا:(1/ 84)
قال: " وتجب صلاة العيد على كل من تجب عليه صلاة الجمعة " وفي الجامع الصغير عيدان اجتمعا في يوم واحد فالأول سنة والثاني فريضة ولا يترك واحد منهما ..."
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 109)
(وشرط لافتراضها) تسعة تختص بها: (إقامة بمصر) وأما المنفصل عنه فإن كان يسمع النداء تجب عليه عند محمد، وبه يفتى، كذا في الملتقى.
و فیہ أیضا: (ص: 112)
"وفي القنية: صلاة العيد في القرى تكره تحريما: أي لأنه اشتغال بما لا يصح، لأن المصر شرط الصحة..."
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
16/رجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


