03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں تمھیں اپنی زندگی سے فارغ کرتا ہوں”سے طلاق کاحکم
89686طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

    میرے اور میری بیوی کے درمیان بات ہو رہی تھی اور میں نے غصے میں بیوی کو بولا کہ" میں نوید خان اپنے ہوش و حواس میں تمھیں اپنی زندگی سے فارغ کرتا ہوں "۔

     تفصیل: میری نیت طلاق کی نہیں تھی اور میرے نزدیک طلاق کے لیے صرف طلاق لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اور دوسری بات میں اپنی بیوی کو جو لفظ بولنا چاہرہا تھا وہ یہ تھا کہ میں نوید خان اپنے ہوش و حواس میں تمہیں اپنی زندگی سے فارغ نہیں کرتا ہوں۔ اور میرے دل اور میری نیت کا گواہ میرا اللہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"میں تمہیں اپنی زندگی سے فارغ کرتا ہوں"یہ الفاظ کنایہ میں شمار ہوتے ہیں۔ طلاق کی نیت، غصے کے اظہار یا مذاکرۂ طلاق کے دوران یہ الفاظ کہنے سے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں طلاق بائن واقع ہو چکی ہے۔اب اگر شوہر اسے واپس لانا چاہے تو نئے مہر اور گواہوں کے ساتھ از سر نو نکاح کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

   الفتاوی الہندیۃ: (413/1)

   الفصل الخامس في الكنايات : لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة، ثم الكنايات ثلاثة أقسام...والأحوال ثلاثة : حالة الرضا، وحالة : مذاكرة الطلاق بان تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها وحالة الغضب، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لا يجعل طلاقاً كذا في الكافي، وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ...كذا في الهداية...

   الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 214)

  "الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا و غضب و مذاكرة، و الكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ... و نحو: خلية برية حرام بائن... ففي حالة الرضا) أي غير الغضب و المذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرًا(على نية) للاحتمال و القول له ... و يقع بالأخيرين و إن لم ينو؛ لأنّ مع الدلالة لايصدق قضاء في نفي النية؛ لأنّها أقوى؛ لكونها ظاهرة".

محمد شاہ جلال

 دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

16/رجب /1447ھ   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب